کا مرکز بن چکا تھا ،حضرت سیدنا عثمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی یہاں رہائش اختیا ر فرمائی۔([1])آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ ماجدہ حُسَیْنی سادات سے تھیں، عابِدہ زاہِدہ خاتون تھیں ، گویا حضرت سیدنا داتا گنج بخش ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نَجِیبُ الطَرفَیْن سَیِّد تھے اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حَسَنی جمال اور حُسینی کمال دونوں ہی کے جامِع تھے ۔ حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ماموں کو زُہد و تقویٰ کی بناء پر تاجُ الاولیاء کے لقب سے شہرت حاصل تھی ۔غرضیکہ آپ کا خاندان شرافت و صداقت اور علم و فضل کی وجہ سے مشہور تھا۔([2]) علم کے مُوتیوں کی چمک دمک اور زہد و تقوی کے نو ر سے مُنَوَّر گھر انہ دراصل آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شخصیت سازی کا کارخانہ ثابت ہوا اسی کارخانے نےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اخلاق و کردار اور علم و عمل کو وہ دائمی خوشبو بخشی جس کی مہک آج تک دل و دماغ کو مُعَطَّر کررہی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جن اسلامی گھرانوں سےفقہ،حدیث اور تصوف جیسے دینی علوم کےساتھ طِب(Medical)،حیاتیات (Biology) سے لےکرحسابMathametics))اورجغرافیہ(Geography) وغیرہ سینکڑوں علوم کے ماہرین پیدا ہوا کرتے تھے بلاشبہ اس میں والدین کی اسلامی تربیت ہی کا دخل تھا لہٰذا آپ بھی اپنے مدنی منوں اور مدنی منیوں کی تربیت اچھے انداز میں کیجیے گھر میں مدنی ماحول بنانے کے لیے درسِ فیضان ِ سنّت کا آغاز کیجیے ،گھر والوں کو گناہوں بھرے چینلزسے چھٹکارا دلا کرصرف اور صرف مدنی چینلدکھانے کی ترکیب بنائیے،ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات میں خود بھی شرکت کیجیےاور دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی شرکت کروائیے تاکہ آپ کی اولاد دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک ،مُعاشرے کا بہتر ین فرداور آخرت میں ثواب ِجاریہ کا ذریعہ بنے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غزنی تَہْذِیْبُ و تَمَدُّن اور علم و حکمت کی وجہ ترقی یافتہ اور بہت اہمیت کا حامل تھا اور اس کی اہمیت کی وجہ یہ تھی کہ بڑے بڑے علماء،صوفیاءاورتاریخ و جغرافیہ دان اس شہر میں رہائش پذیر تھے یوں آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دور میں غزنی حُصُولِ عِلْم اور ظاہِری و باطِنی تَرْبِیّت کا بے مثال مرکز بن چکا تھا۔علم کی اس ترقی کا اثر حضرت سیدنا داتا گنج بخش ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پربھی ہوا یہی وجہ ہے کہ جب کم عمر ی میں ایک غیر مسلم فلسفی سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مُکالمہ ہواتو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہزبردست دلائل اور عمدہ اندازہ ِ بیان کے سبب کامیاب و کامران ہوئے ۔([3])
حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تعلیم و تربیت کے بارے میں ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جس پاکیزہ فطرت ماں کی آغوش میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پرورش پائی اس کی زبان ذکرِ الٰہی میں مصروف اور دل جلوۂ حق سے سرشار رہتا تھا ۔ اس لئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ابتدائے عمر ہی سے بڑی مُحتَاط ا ور پاکیزہ زندگی گزاری۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو بچپن ہی سے عبادت کا شَوق تھا۔نیک والدین کی تربیت نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اخلاق کو شروع ہی سے پاکیزگی کے سانچے میں ڈھال دیا تھا ۔ہوش سنبھالتے ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو تعلیم کے لئے مکتب میں بٹھا دیا گیا ۔ حُرُوف شَنَاسِی کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قرآنِ پاک مکمل پڑھ لیا۔([4])
حضرتداتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے بچپن ہی سے محنت وجانفشانی کےساتھ علمِ دین حاصل کرنا شروع کر دیا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حصولِ علم میں اتنےمشغول رہتے کہ نہ تو کھانے پینے کا خیال رہتا اور نہ ہی گر د و پیش کی خبر ۔چنانچہ حضرت خواجہ مستان شاہ کابلیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالغَنِی فرماتے ہیں:جن کا دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف مُتَوَجّہ ہو وہ دنیا کی نعمتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ۔ حضرت سیدنا علی بن عثمان ہجویری