میتھی کے 50 مدنی پھول

باقی رہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ!امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی تحریروں ،بیانات اور مدنی مذاکروں  میں اولیاء کرام کے اس خوبصورت  انداز  کو اختیار فرماتے ہوئےعلم و حکمت  سے بھرپور حکایات بیان کرکےنصیحتوں کے مدنی پھول ارشادفرماتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ   دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نصیحتیں دل و دماغ  میں محفوظ  ہوجاتی ہیں اور اس کا اثر سننے والے کے ظاہر پر بھی نظر آتا ہے ۔

(۳) پہلی حکایت میں قناعت  اور دوسری  حکایت میں  رضائے الٰہی  پر راضی رہنے کی تربیت ہےاوریہ دونوں وصف  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا پسندیدہ بندہ بنانے میں بے حد مُعاون ہیں ۔

 (۴) اساتذہ کو چاہیے کہ اپنے طلبہ کی علمی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی تو جہ دیں۔

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (۲)حضرت ابو العباس احمد بن محمد اشقانی

حضرت سیدنا ابو العباس  احمدبن محمد اشقانی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی  بھی  حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےاساتذہ میں سے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نیشاپور کے قریب شقان (خراسان شمالی)ایران میں پیدا ہوئے ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  عالم ،مدرس اور شیخ المشائخ تھے ۔ساری زندگی نیشاپور کے  ایک  مدرسے میں تدریس کرتے ہوئے گزاری۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی ظاہری و باطنی علوم میں  یکساں مہارت رکھتے تھے ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت  سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”مجھے ان سے بے حد محبت ہے ،مجھ پر وہ خُصُوصِی شَفْقَت فرماتےتھے،بعض عُلوم میں  وہ میرے اُستاد ہیں ،جب تک میں اُن کےپاس رہا  ان سے بڑھ کر تعظیم ِشریعت کرنے والا کسی کو نہیں پایا۔“ ([1])

(۳)حضرت ابو القاسم عبد اللہ  بن علی گرگانی

 حضرت سیّدُنا ابو القاسم عبد اللہ بن علی گرگانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زبردست وَلیُّ اللہ گزرے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ولادت۳۸۰ ھ میں گرگان (نزد طوس صوبہ خراسان رضوی) ایران میں ہوئی۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  عالم،صوفی اور صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے ۲۳ صفرالمظفر ۴۵۰ ھ میں وِصال فرمایا۔مزار مبارک تربت حیدریہ صوبہ خراسان رضوی ایران میں ہے۔    آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوتمام ظاہر ی علوم  پر دسترس حاصل تھی،حسنِ اخلاق میں  بھی بے مثال تھا ،طلباء کی بات نہایت تو جہ اور اطمینان سے سماعت فرماتے  اور ان کی دِلی کیفیت  جان کر اِصلاح فرمایا کرتے ،لوگ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر بے پناہ  اِعتماد کرتے اورہرایک کا دل  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب کھنچا چلا جاتا ، انہی خصوصیات کی بِنا پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہلِسانُ العَصْر “کے لقب سے مشہور تھے ۔حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوبھی  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےفیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔([2])

صحبت سے متعلق  سوال

ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُناابوقاسم  بن علی گرگانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگا ہ میں عرض کی:شرطِ صحبت کیا ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےارشاد فرمایا:صحبت میں ہر قسم کی آفات موجود ہیں ،کیوں کہ (صحبت کی سب سے بڑی آفت یہ  ہے کہ)ہرایک  اَپنا مَطلب پورا کرنے  کا خواہشمند ہوتا ہے ۔ آسائِش کےطالب کو صحبت سے تنہائی بہتر ہے ۔( صحبت کی آفتوں سے بچ کرفائد ہ حاصل کرنے کاطریقہ  یہ ہے کہ) بندہ  اپنی خوشی کو ترک کردے اور اپنی مُشکلات میں  خوشی مَحسو س کرے ( یعنی   جب بندہ اپنی خوشیوں   کو چھوڑ کر  مشکلات اور آزمائش پر صبر کرنا  سیکھ جائے  )تو ایسی صورت میں  و ہ



[1]     کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین، ص۱۷۴

[2]     کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین، ص۱۷۵

Index