میتھی کے 50 مدنی پھول

صحبت سے فائد ہ اٹھا سکے گا ۔“([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی  مسلمان سے  محض ذاتی مفاد کے لیے تعلق رکھنا بہت بڑی آفت ہے اور یہ آفت اپنے ساتھ کئی طرح کی باطنی بیماریوں  کا سبب بن جاتی ہے ،مثلاً اگر آپ نے کسی  اسلامی بھائی  سے کوئی ذاتی کام کہا لیکن  وہ بَرْوقت نہ ہوسکا  تو  یہ عمل بدگمانی کی چِنگاری کو ہوا دیتا ہے جس  سے دل میں  بُغض و کینہ  کا لا وا پکنے لگتا ہے  اور یہ لاوا اِنتقام کی صورت اختیا ر کرجاتا ہے بلکہ بعض اوقات  قتل و غارت گری تک  نوبت  پہنچ جاتی ہے لہذا اگر کبھی  ایسا موقع آئے اوربدگمانی کی چِنگاری سُلگنے لگے تو اسے حُسْنِ ظن کے پانی سے فوراً بجھا دیجیے، صبر کیجیے اور عفوو درگُزر سے کام لیجیے۔ ضرورت پڑنے پر جو اسلامی بھائی آپ  کی مدد نہ کرسکے لیکن کبھی  ان پر کوئی آفت ٹوٹ پڑے تو انہیں مشکل  میں مُبتلا دیکھ کر ان کی دستگیری ضرور  کیجیے،رضائے الٰہی کے خاطر خیر خواہی  کرنے سے آپ کے بھی بگڑے کا م بن جائیں گے ۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرت سیّدنا خضر   علیہ السلام سے  اکتسابِ فیض

حضرت سیّدُنا  علی خوّاصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے ملاقات کی تین شرطیں ہیں ، جس میں یہ تین شرائط نہ ہوں   وہ  آپ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملاقات نہیں  کرسکتا اگرچہ  جن و انس سے زیادہ عبادت گزار ہو۔(۱)وہ سنّت  کا عامل ہو، بدعتی نہ ہو۔(۲)دنیا پر  حریص نہ ہو،اگر وہ  ایک روٹی  بھی دوسرے دن کے لیے بچا کر رکھے  تب بھی حضرت سیدنا خضر  عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملاقات نہیں   کر سکے گا۔(۳)مسلمانوں کے لیے اس کا سینہ بالکل صاف ہو، نہ تو اس کے دل میں کینہ ہو نہ  ہی حسد اورنہ ہی وہ کسی پرتکبر کرتا ہو ۔([2])

حضرت  سیّدُنا داتا گنج بخش علی  ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  عاملِ سنّت ،حرص ِ دنیا سے کوسوں دور اور مسلمانوں کے خیرخوا ہ تھے  اسی لیے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے  نہ صر ف  ملاقات فرمائی بلکہ آپ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی صحبت میں رہ کر  ظاہر ی و باطنی علوم حاصل فرمائے  نیز  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حضرت سیدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بہت ہی گہری دوستی تھی ۔([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! استاد اگر اپنے فن میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ حُسنِ اخلاق ، خوف ِخدا اور زہد و تقویٰ کا پیکر ہو اور  اس کی  صحبت فکر ِآخرت کی یاد دلائے  تویہ خُصُوصیات یقیناً    شاگرد کی تعلیمی ترقی کے ساتھ  ساتھ روحانی تربیت  کا بھی سبب بنتی ہیں اور  یہی تربیت  شاگرد  کو   وہ آفتاب بنادیتی ہے جس کی روشنی  سے جَہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اور  علم کا نور  ہر طرف پھیل جاتا ہے۔امیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں :طلبہ ملک  و ملت کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ، مُستقبِل میں قوم کی باگ دوڑ یہی سنبھالتے ہیں ، اگر ان کی شریعت و سنّت کے مطابق تربیت کردی جائے تو سارا مُعَاشَرَہ  خَوْفِ خدا اور عشق ِمُصْطفے کا گہوارہ بن جائے ۔“اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ!اس اہمیت کے پیش ِنظردعوتِ اسلامی نے ”شعبۂ تعلیم “ قائم کیا ہے جس  کے ذریعےمختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت کا خصوصی اِہتمام کیا جاتا  ہے،کئی طلبہ و اساتذہ  مدنی اِنْعامات پر عمل اورسنّتوں کی دُھومیں مچانے کے لیے مدنی قافِلوں میں بھی سفر کرتے ہیں۔اگر آپ بھی استاد یا طالبِ علم ہیں اور اپنے اند ر خوف ِ خدا اور عشقِ  مُصطفے  پیدا کرنا چاہتے ہیں تو دعوت اسلامی کےمہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سلسلہ ٔ طریقت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بزرگا ن ِ دین کا معمول رہا ہے کہ دنیا و آخرت


 



[1]     کشف المحجوب، باب آدابھم فی الصحبۃ ، ص۳۷۸

[2]     المیزان الخضریہ ، ص۱۵

[3]     کشف المحجوب، دیباچہ، ص۱۶

Index