میں کامیابی کے لیے کسی مُرشدِ کا مل سے شَرَفِ بیعت ضرور حاصل فرمایا کرتے یوں ظاہر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ باطن کی ترقی کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ۔حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خواجہ ابوالفضل محمد بن حسن خُتَّلى ([1]) جنیدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید تھے۔
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا شجر ۂ طریقت 9 واسطوں سے حضرت سیدنا على المرتضیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تک پہنچتا ہے۔حضرت سیدنا داتاگنج بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے شیخِ کامل کا نام حضرت سیدنا ابوالفضل محمد بن حسن خُتَّلى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہے ان کے شیخ کا نام حضرت سیدناابو الحسن علی بن ابراہیم حُصرى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہے ان کے شیخ کا نام حضرت سیدنا ابوبکر شبلىرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہے جو مرید تھے حضرت سیدنا جنىد بغدادى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکے وہ مرید تھے حضرت سیدنا سَرِى سَقَطى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے،ان کی بیعت حضرت سیّدُنا معروف کَرْخی سے تھی ،وہ حضرت سیدنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید اور خلیفہ مجاز تھے ۔حضرت داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بیعت سیدنا حبىب عجمى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےتھی اوروہ مرید تھےحضرت سیدناخواجہ حسن بصرى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےجنہیں فیضانِ طریقت حضرت سیّدُناعلى المرتضی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے حاصل ہوا تھا جن کی پر ورش آغوشِ نبوت میں ہوئی اور جو فیضانِ رسالت سے فیضیاب ہوئے۔([2])
حضرت سیّدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مرشدِ کریم کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :آئمۂ متأخرین میں سے زینِ اَوتاد(یعنی اوتاد کی زینت)، شیخ عِباد(عبادت گزار بزرگ) ہیں ۔ طریقت میں میری ارادت انہی سےہے ۔ آپ علم ِتفسیر و روایات کے عالم اورتصوف میں حضرت سیدنا جنید بغدادیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ہم مشرب تھے۔حضرت سیدنا ابوالحسن علی بن ابراہیم حُصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مرید،حضرت سَرَّدی (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ)کے مُصاحب اورحضرت ابوحسن بن سالبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہم عصر تھے۔ساٹھ سال کامل گوشہ نشینی اِخْتیار فرمائی ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی نشانیاں اور بَراہین بکثرت ہیں، لیکن آپ عام صوفیا ء کے رسم و لباس کے پابند نہ تھے ، اہلِ رسوم سے سخت بیزار تھے میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بڑھ کرکسی اور کا رُعب و دبدبہ نہیں دیکھا۔([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مُرشد کی صحبت میں رہ کر دانا مرید سیکھتا اوراپنی اِصلاح کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ پڑھ کر بھی علم حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن مرشد کی ادا ؤں کو ذہن میں محفوظ ر کھ کر موقع بہ موقع تصورِ مرشد کرنے سے اس علم پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مرشد کی اداؤں کو بغور مُلاحظہ فرماتے اور حسبِ موقع مُرشد کے عمل کی حکمت پوچھ کراسے ذہن نشین فرمالیتے چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں: ایک دن میرے مرشدِ بر حق نے بَیْتُ الجِن سے دمشق جانے کا ارادہ فرمایا۔ بارش کی وجہ سے مجھے کیچڑ میں چلنے میں دشواری ہو رہی تھی مگر جب میں نے اپنے مرشد کی طرف دیکھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کپڑے اور جو تیاں خشک تھیں ،میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں عرض کی(اور اس حیرت انگیر واقعے کی حکمت دریافت کی ) تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً ارشاد فرمایا : ہاں ! جب سے میں نے تَوَکُّل کی راہ میں اپنے قصدو ارادے کو ختم کر کے باطن کو لالچ کی وَحْشَت سے محفوظ کیا ہے اس وقت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے کیچڑ سے بچا لیا ہے ۔([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مُرشِد کی عبادت و ریاضت اور دنیا سے بے رغبتی کی کیا بات ہے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے مُرشد کے احوال جس خوبصورت انداز میں بیان فرمائے ہیں اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکس طرح اپنے مُرشِد کی
[1] معجم البلدان میں خُتَّل کی طرف نسبت کرتےہوئے اس لفظ کا اعراب خُتَّلی ہے جب کہ حضرت ابوبکرمحمد بن موسىٰ حازمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نےاس کا اعراب خُتُّلِی تحریر فرمایا ہے ۔ معجم البلدان ، باب الخاء والتاء ومایلیھما، ۲ / ۲۱۵، الاماکن او مااتفق لفظہ و افترق مسماہ، ص۲۹
[2] سیدِ ہجویر، ص۹۵، اللہ کے خاص بندے، ص۴۶۱
[3] کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین، ص۱۷۳
[4] کشف المحجوب، باب فی فرق فرقھم فی مذاہبھم الخ، ص۲۵۵