میتھی کے 50 مدنی پھول

ترجَمۂ کنز الایمان:اوراللہکی شان یہ نہیں اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چُن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔

صَدرُ الافاضل حضرت علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی اس آیتِ  مُبارکہ کے تحت  فرماتے ہیں:(اللہعَزَّ  وَجَلَّ   )ان برگُزیدہ رسولوں کو غَیْب کا علم دیتا ہے اور سَیِّدِ انبیا،حبیبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم رسولوں میں سب سے اَفْضل اور اعلیٰ ہیں اس آیت سے اور اس کے سوا بکثرت آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غُیُوب کے عُلُوم عطا فرمائے اور غُیُوب کے علم آپ کا معجزہ ہیں۔([1])

اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا

جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرود

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان آیاتِ مبارکہ کے علاوہ بے شمار ایسی احادیثِ مبارکہ  ہیں جن میں نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیب کی خبریں دیتے ہوئے قیامت تک ہونے والے واقعات کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیداہونے والے فتنوں سے بھی  آگاہ فرمایا او ر ہمیں ان سے بچنے کی ترغیب بھی  دلائی  ہے ،چنانچہ حدیث شریف میں ہے :  ’’  لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ اس نے(مال)کہاں سے حاصل کیا حَرام سے یا حلال سے ۔ ‘‘ ([2]) اپنے دین پر صبر کرنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہو گا۔ ‘‘ ([3])  مساجد میں دُنیا کی باتیں ہوں گی، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کو ان سے کچھ کام نہیں۔ ‘‘  ([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ گفتگوسے جہاں نبیِّ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاعلم غیب    معلوم ہوا وہیں ہمیں قیامت کی نشانیوں میں سے بعض نشانیوں کے بارے میں بھی علم ہوا کہ قُربِِ قیامت میں  لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہمارا کمایا ہوا مال حلال ہے یا حرام ،اس دُور میں دین پر قائم رہنا انتہائی دشوار ہوگا، مساجد میں دُنْیوی باتیں ہوں گی ۔اگر ہم غور کریں تو جو علاماتِ قیامت ذکر کی گئیں ہیں وہ  ہمارے معاشرے میں پیداہوچکی ہیں ۔آج بد قسمتی سے لوگ حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر دَھن کمانے کی دُھن میں مگن  ہیں ۔یاد رکھئے!اگر ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچوں یا قرابت داروں کی بےجا خواہشات پوری کرنےاور ان کے طَعْنوں سے بچنے  کے لئےحرام وحلال کی پروا کئے بغیر مال و دولت جمع کرتے رہے اور علمِ دین سیکھ کر سنّتوں کے مُطابق ان کی تربیت نہ کی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل بروزِ قیامت یہی بیوی بچے ہمارے خلاف بارگاہِ الٰہی میں مُقدّمہ کرکے ہماری پکڑکا باعث بن جائیں ۔ اسی طرح دوسری نشانی کہ دین پر صبر کرنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہوگا ۔ حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: ’’  جیسے ہاتھ میں انگارہ  رکھنا بہت ہی بڑے صابر کا کام ہے یوں ہی اس وقت مخلص، کامل مسلمان بننا سخت مُشکل ہو جاوے گا۔ ‘‘ فی زمانہ یہ علامت بھی  ہمارے معاشرے میں پائی جانے لگی ہے کہ اگرکوئی سچا مسلمان اپنے پیارے آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری سُنَّتوں پر عمل کرے،اپنے چہرے پرداڑھی شریف سجالے،یا فیشن  پرستی کو چھوڑ کر سُنَّت کے مُطابق مَدنی (اسلامی)لباس  اپنا لے تو بسا اوقات ایسے مسلمان کو مَعَاذَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  طرح طرح سے ستایاجاتا ہے، اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے،اس پر طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے ہیں ۔اگر وہ تب بھی نہ مانے تو بعض اوقات  اس بے چارے کو شدید ظُلم وسِتم کا نشانہ  بناکر خوب مارا پیٹابھی جاتا ہے ۔ ایسے افراد کوچاہیےکہ اپنے اس فعل سے توبہ کریں اور دین سے  مَحَبَّت  کا جذبہ پانے ، سُنَّتوں کی طرف رَغْبت  بڑھانے ،فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ سُنَن ونَوافل کی عادت بنانے کیلئے  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ شیخِ طریقت،امیرِاہلسنَّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادری رَضَوی ضِیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اسلامی بھائیوں کوفرائض کے ساتھ ساتھ سُنَّتیں اپنانے اورتہجد، اِشْراق  وچاشت اوراَوّابین  وغیرہ نوافل کی عادت بنانے کی  ترغیب دلاتے رہتے ہیں ۔ کیونکہ فرض کی



[1]     خزائن العرفان ، ص۱۴۶

[2]     بخاری،  کتاب البیوع،  باب من لم یبالی من حیث   الخ،  ۲ / ۷،  حدیث: ۲۰۵۹

[3]     ترمذی،  کتاب الفتن، باب ما جاء فی النھی عن سب الریاح، ۴ /  ۱۱۵،  حدیث: ۲۲۶۷

[4]     شعب الایمان،  باب فی الصلوات،  فصل المشی الی المساجد، ۳ / ۸۶،  حدیث: ۲۹۶۲

Index