میتھی کے 50 مدنی پھول

اعمال کا ایک اہم مآخذ ہے اور فارسی زبان میں تحریر شدہ تصوف کی اوّلین نظریاتی کتب میں سے ایک ہے ۔([1])

داتا علی ہجویری حنفی ہیں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیّدُنا داتا علی ہجویر یرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ حنفی المذہب تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے خاص عقیدت بھی رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ  انہوں نے کشف المحجوب میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کانامِ نامی اسمِ گرامی نہایت تعظیم کے ساتھ اس طرح تحریر فرمایا: ’’ امامِ اِما ماں و مُقتَدائےسُنِّیاں ، شرفِ فقہاء،عزّعلماء ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الخزاز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ‘‘ ۔([2])

ایک خواب کا ذکر!

حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی امامِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت و عقیدت کا اندازہ اس بات سےبھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : ’’ میں اىک روز سفر کرتا ہوا ملک شام مىں مُؤَذِّنِ رسول حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے روضے پر حاضر ہوا،وہاں میری  آنکھ لگ گئی اور میں نے اپنے آپ  کو مکہ معظمہ(زَادَ ہَا اللہُ شرفًا وَ تَعْظِیْمًا)پایا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم قبیلہ بنى شىبہ کے دروازے پر موجود ہیں اور ایک عمر رسىدہ شخص کو کسی چھوٹے بچے کی طرح اُٹھائے ہوئے ہیں،مىں فرطِ محبت سے بے قرار ہو کر آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى طرف لپکا اور آپ کے مبارک قدموں کو بوسہ دىا، دل ہی دل میں اس بات پر بڑا حىران بھی تھا کہ ىہ ضعىف شخص کون ہے؟ اتنے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمقوتِ باطنى اور علمِ غیب کے ذریعے مىری حیرت و استعجاب کی کیفیت جان گئے اور مجھےمخاطب کرکے فرماىا :”ىہ ابوحنیفہ ہیں اور تمہارے امام ہىں۔([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت سے جہاں ہمیں اِمام ِاعظم  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی عظمت وشان معلوم ہوئی وہیں   ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دلوں کے حالات سے بھی باخبر ہیں جبھی تو خواب میں سَیِّدُنا داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کےدل میں پیداہونے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ یہ ابوحنیفہ ہیں اوریہ تمہارے امام ہیں ۔ ‘‘ یہ تو خواب کاعالم تھا ،نبیِّ کریم،  رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے تو اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کی عطاسے اپنی حیاتِ ظاہری میں بھی کئی غیب کی خبریں ارشاد فر مائیں۔ اللہتعالیٰ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  کو مَاکَانَ وَمَایَکُوْنُ کا علم عطافرمایا، یعنی جو ہوچکا ہے اور جو ہوگا وہ سب آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم علْمِ غیب کے ذریعے جانتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) (  پ۵،النسآء: ۱۱۳)  

ترجَمۂ کنز الایمان:اور تمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے  اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ خازن میں تین اقوال مذکور  ہیں۔

(1)شريعت كے اَحکام اوردِین کی باتیں سکھائیں۔(2) آپ کوعلْمِ غیب کی وہ باتیں بتائیں جو آپ نہیں  جانتے تھے۔(3) آپ کو چُھپی چیزیں سکھا ئیں اور دلوں کے راز پر مُطلع فرمایا اور مُنافقین کے مکر و فریب آپ کو بتادئیے۔([4])

ایک اور مقام پر رسولوں کو علْمِ غیب عطا کئے جانے کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ  مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیُطْلِعَكُمْ  عَلَى  الْغَیْبِ  وَ  لٰكِنَّ  اللّٰهَ  یَجْتَبِیْ  مِنْ  رُّسُلِهٖ  مَنْ  یَّشَآءُ   ۪-  ۴، آل عمرٰن: ۱۷۹)

 



[1]      Islam in the Indian Subcontinent,p8

[2]     کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من تبع الخ ، ص۹۸

[3]     کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من تبع الخ ، ص۱۰۱

[4]     تفسير خازن،  پ۵، النساء،  تحت الآیة ۱۱۳ ، ۱ / ۴۲۹

Index