میتھی کے 50 مدنی پھول

ان دشوار گزار اور کٹھن مراحل کے بعدہی  کوئی کتاب  منظر ِعام پر آتی ہے لیکن کشف المحجوب  کے مراحل ِ تصنیف   ہی  جداگانہ  رہے  کیوں کہ  حضرت سیدنا داتا گنج  بخش علی ہجویر ی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تمام کتب غزنی میں رہ گئی تھیں اس لیے دورانِ تصنیف آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس کوئی کتاب موجود نہ تھی۔([1]) لیکن  ان کے مضامین  آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے پیشِ نظر  تھے یہی وجہ ہے کہ  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  اپنےحافظہ  کی بنیاد پر کتابُ اللُمَع ،اَلرِّسالَۃُ القُشَیرِیَۃ  اور طَبَقاتُ الصُّوفِیَۃ وغیرہ جیسی کم و بیش ۲۲ کتب ِ تصوف کے جا بجا اقتباسات تحریر فرمائے ہیں    اس کے علاوہ ۲۳۶آیات ، ۱۳۴ احادیث  اور ۳۰۰ سے زائد اشعار  اور بزرگان دین  کے اقوال   نقل  فرمائے ہیں  اس کے  علاوہ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے تجربات اور مشاہدات  کو بھی ان صفحات میں محفوظ فرمادیا ہے ۔  ایک اندازے کے مطابق ”  کشف  المحجوب“میں کم و بیش ایک لاکھ الفاظ  ہیں  جن میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نفس و شیطان کے  ایسے دھوکوں کی نشاندہی فرمائی ہے جن کے ذریعے نفس و شیطان  انسان کو سیدھی راہ سے ہٹا دیتے ہیں ۔ حکایات او ر  نصیحت آموز کلمات کے ذریعے  صبر و قناعت  اور صدق  واخلاص جیسے  حسین اخلاق اپنانے پر ابھارا ہے۔ کتب دستیاب نہ ہونے کے باوجود  اس قدر اہم  ،مستند اور محققانہ تصنیف کا منظر عام پر آجانا درحقیقت حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی  کئی علوم پر دسترس اور  حیرت انگیز  قوتِ  حافظہ کی واضح دلیل ہے ۔

اہلِ علم کا اعتراف

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کتاب”کشف المحجوب“وہ لازوال تصنیف ہے جس  میں بیک وقت  کئی علوم کا خزانہ  ہے  یہی وجہ ہے کہ  یہ مبارک کتاب صدیوں سے اہل  ِعلم  کی توجہ کا مرکز رہی ہے مثلاً

(۱)حضرت سیدنا  فرید الدین عطار  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاراپنی شہرۂ آفاق کتاب ”تذکرۃ الاولیاء “میں  حضرت سیدنا  حسن بصر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ، حضرت سیدنا ابو حازم مکی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وغیرہ جیسےآٹھ بزرگوں کا تذکرہ کے لیےکشف المحجوب سے استفادہ کیا ۔([2])

(۲)حضرت سیدنا عبد الرحمٰن جامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ”نَفحاتُ الْاُنس“ میں اس کتا ب کے بارے میں ارشاد فرمایا:کشف المحجوب اس فن میں مشہور کتابوں میں سے ہے جس میں بہت سے لطائف و حقائق جمع ہیں۔([3])  

(۳)مخدومِ بِہارحضرت سیدنا  شرف الدین یحییٰ منیر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  اپنے مکتوبات میں کشف المحجوب کے اقتباسات کو بطورِ سند نقل فرمایا۔

حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاسیّد محمد بخاری چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : جسے پیر نہ ملتا ہو وہ اس کتاب (کشف المحجوب )کا مطالعہ کرے تو  پیر مل جائے گا ۔([4])

حضرت علامہ فقیر محمد جہلمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری اولیاء  متقدمین میں سے جامع علوم ظاہری و باطنی ،عابد و زاہد،متقی ، مظہر خوارق  و کرامت  اور حنفی المذہب تھے ۔([5])

اس کتاب کی اہمیت کا اعتراف  غیر مسلموں نے بھی کیا ہے ،ایک  غیرمسلم حضرت داتا گنج بخشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شہرۂ آفاق کتاب  ’’ کشف المحجوب ‘‘ کی تعریف یوں کرتاہے: ’’  اس بزرگ نے عربی وفارسی میں بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں چنانچہ کتاب  ’’ کشف المحجوب‘‘  بزبانِ فارسی تصوف کے علم میں ایسی لکھی ہے کہ اس کا ثانی روئے زمین پر نہیں ہے‘‘  ۔([6])

جرمن مُستَشرقَہ ڈاکٹر این میری شمل كشف المحجوب کےبارے میں لکھتی ہے :”ان کی کتاب  ’’ کشف المحجوب ‘‘  ابتدائی صوفیانہ نظریات اور



[1]     کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من تبع الخ ، ص۹۶

[2]     سید ہجویر ، ص۲۰۶

[3]     نفحات الانس مترجم، ص۳۵۲، سیدِ ہجویر، ص۲۳۱

[4]     سیدِ ہجویر، ص۲۳۱

[5]     حدائق الحنفیۃ، ص۲۲۳

[6]     تاریخِ لاہور،  ص۲۹۲

Index