(۵)باطل پر رضامندی بھی باطل ہے ،غصے کی حالت میں حق و صداقت کا چلا جانا بھی باطل ہے اورکامل مومن کبھی بھی باطل اختیار نہیں کرتا ۔([1])
(۶)آگ پرقدم رکھنا تو نفس گوارا کر سکتا ہے لیکن علم پر عمل اس سے کئی گنا دشوار ہے ۔([2])
(۷)جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پسند فرماتا ہے عوام اسے پسند نہیں کرتے،اور جسے اپنا وجود پسند آیا اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے پسند نہیں کرتا۔([3])
(۸)برے لوگوں کی صحبت میں رہنے والا شرارت ِ نفس کا شکار بن جاتا ہے،اگر بندے میں بھلائی اور نیکی ہو تو نیکوں کی صحبت میں رہنا پسند کرے گا۔([4])
(۹)عمل کی روح اخلاص ہے،جس طرح جسم روح کے بغیر محض پتھر ہے اسی طرح اخلاص بغیر عمل کے محض غبار ہے۔([5])
(۱٠)صرف علم پر قناعت کرنے والا عالم نہیں، عمل کی برکت سے علم فائدہ دیتا ہے لہٰذا کبھی بھی علم کو عمل سے جدا نہیں کرنا چاہیئے۔([6])
(۱١)زندگی يوں گزاريں کہ آپ کو مخلوق سے اورمخلوق کو آپ سے کوئی برائی نہ پہنچے ۔ ([7])
(۱٢)جو شخص فقہی معاملات میں محتاط نہ ہو،پر ہیز گاری کے بغیرعلمِ فقہ حاصل کرےاور رخصتوں اور تاویلوں کے پیچھے لگ کر شبہات میں پڑے ،ائمہ کی تقلید چھوڑ کر خود مجتہد بن بیٹھے تو ایسا شخص جلد ہی فسق میں مبتلا ہوجائے گا۔دراصل یہ باتیں دل کی غفلت کے سبب پیدا ہوتی ہیں ۔([8])
(۱٣)فقیر وہ ہے کہ جس کا ضمیرنفسانی خواہشات سے محفوظ رہےنفس کی چالوں سے ہوشیار رہ کر اپنے معبودِ حقیقی کے فرائض کما حقہ ادا کرے اور اس قدر ہوشیار رہے کہ جو اسرارِ باطنی اس پر منکشف ہوں ان کو ظاہر نہ ہونے دے اور کبھی بھی اپنی باطنی کیفیات کو زبان پر نہ آنے دے۔([9])
(١٤)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب اور پسندید ہ بندوں کی صحبت دل و جان کے عوض بھی میسر ہو تب بھی سستی ہےکیوں کہ ان کا طریقِ عمل برگزیدہ اور تمام عالم سے علیحدہ ہے ،ان کی برکت سے انسان مقاصدِ دارین حاصل کرتا ہے۔([10])
(۱٥)جب غافلوں پرکوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں:یہ مصیبتاَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مال پر ٹل گئی، جان و تن اس آفت سے محفوظ رہے ، جب کوئی آزمائش اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ بندوں پرآتی ہے تو وہ یوں کہتے ہیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تن پر ٹل گئی دل اس سے محفوظ رہا ۔([11])
(١٦)دینی و دنیوی تمام امورکی زینت ”ادب“ ہے ، اور مخلوقات کو ہر مقام پر ادب کی ضرورت ہے۔جس میں مروت و ادب نہیں اس میں متابعتِ سنت نہیں ہو سکتی اور جس میں متابعتِ سنت نہ ہو وہ رعایتِ عزت نہیں کر سکتا۔([12])
(١٧)آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ادب کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرما تے ہیں :ادب کی چند اقسام ہیں :(۱)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں ادب یہ ہے کہ ظاہر و باطن میں اپنے آپ کو بے ادبی سے محفوظ رکھے اور اس طرح رہے جس طرح دربارِ شاہی میں رہتے ہیں۔(۲)باہمی کاروباری معاملات میں ادب یہ ہےکہ ہر معاملے میں اپنے حقِّ نفس کی رعایت کرے یعنی صرف سچ بولے جو اپنے حق میں خلاف جانے وہ زبان پر نہ لائے ، کم کھائے تاکہ قضائے حاجت کی کم ضرورت ہو ، اپنے اس عضو کو نہ دیکھے
[1] کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من اھل البیت، ص۷۸
[2] کشف المحجوب، باب اثبات العلم ، ص۱۸
[3] کشف المحجوب، باب الملامۃ، ص۶۰
[4] کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من التابعین، ص۹۲
[5] کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من تبع التابعین الی یومنا ، ص۹۵
[6] کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من التابعین، ص۱۰۱ملخصاً
[7] کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من التابعین، ص۱۶۱
[8] کشف المحجوب، باب اثبات العلم، ص۱۷
[9] کشف المحجوب، باب اثبات الفقر، ص۲۶
[10] کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من التابعین، ص۹۲
[11] کشف المحجوب، ، باب فی ذکر ائمتھم من التابعین، ص۹۳
[12] کشف المحجوب، باب المشاھدہ، کشف الحجاب التاسع فی الصحبۃ مع ادابھاو احکامھا، ۳۷۰