دی اور آج تک ملک و بیرون ملک سے علماء و مشائخ داتا دربار پر حاضری دینے آتے ہیں اور فیضانِ داتا سے فیضیاب ہوتے ہیں ۔([1])
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ غالباً1993ء کے موسمِ حج میں کسی وجہ سےسفرِمدینہ نہ کرسکے تھےجس کاآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکوبہت صدمہ تھا،اپنی حسرتوں کا اِ ظہار آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان اشعار میں بھی کیا ہے:
کاش! پھر مجھے حج کا اِذْن مل گیا ہوتا اور روتے روتے میں، کاش! چل پڑا ہوتا
مجھ کو پھر مدینے میں اس برس بھی بُلواتے آپ کا بڑا احساں مجھ پہ یہ شہا ہوتا
(وسائلِ بخشش، ص۱۷۲)
پھرجب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ12ماہ کے سفر کے دوران مرکز الاولیا(لاہور) میں تھے تویہ اِستغاثہ لکھا :
ہو مدینے کا ٹِکَٹ مجھ کو عطا داتا پِیا آپ کو خواجہ پِیا کا واسِطہ داتا پیا
دولتِ دنیا کا سائل بن کے میں آیا نہیں مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنا داتا پیا
(وسائلِ بخشش، ص۵۰۶)
اورحضرت سیّدُنا داتا علی ہجویریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیکے مزار مبارک پر حاضر ہوکر پیش کردیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کچھ ہی دن بعد ایک اسلامی بھائی نے بغیر کسی مطالبے کے شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مدینۂ منوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں حاضری کا انتظام کردیا۔([2])
آروزو ہے موت آئے گنبد ِ خضرا تلے ہاتھ اٹھا کر کیجیے حق سے دعا داتا پیا
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دعوتِ اسلامی دنیا بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے،سنتوں کی خوشبو پھیلانے،عِلْمِ دین کی شمعیں جلانے اور لوگوں کے دلوں میں اولیاءُاللہ کی محبت و عقیدت بڑھانے میں مصروف ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ(تادمِ تحریر)دنیا کے کم وبیش 200ممالک میں اس کا مَدَنی پیغام پہنچ چکا ہے۔ساری دنیا میں مَدَنی کام کومنظم کرنے کےلئے تقریباً 97سے زیادہ مجالس قائم ہیں،انہی میں سے ایک ’’ مجلسِ مزاراتِ اولیا ‘‘ بھی ہے جودیگر مدنی کاموںکے ساتھ ساتھ درج ذیل خدمات انجام دے رہی ہے۔
-1یہ مجلس اولیائےکرامرَحِمَہُمُاللّٰہ ُالسَّلَامکےراستےپرچلتےہوئےمزاراتِ مبارکہ پرحاضر ہونے والے اسلامی بھائیوں میں مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے کیلئے کوشاں ہے۔
-2یہ مجلس حتَّی المَقدُورصاحبِ مزارکے عُرس کے موقع پراِجتماعِ ذکرونعت کرتی ہے۔
-3مزارات سے مُلْحِقہ مساجِد میں عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافلے سفرکرواتی اوربالخصوص عُرس کے دنوں میں مزارشریف کے اِحاطے میں سنّتوں بھرے مَدَنی حلقے لگاتی ہے جن میں وُضو،غسل،تیمم،نمازاور ایصالِ ثواب کا طریقہ، مزارات پر حاضری کے آداب اوراس کا درست طریقہ نیز سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ
تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتیں سکھائی جاتی ہیں۔
-4عاشِقانِ رسول کو حسبِ موقع اچھی اچھی نیتوں مثلاًباجماعت نمازکی ادائیگی، دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت،درسِ فیضانِ سنت دینے یا سننے،صاحبِ مزار کے اِیصالِ ثواب کیلئے ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلوں میں سفراورفکرِ مدینہ کے ذَرِیعے روزانہ مَدَنی