میتھی کے 50 مدنی پھول

جو غیر کو دیکھنا جائز نہ ہو ۔(۳)صحبتِ خلق میں ادب یہ ہے کہ  سفر و حضر میں خلق کے ساتھ  اچھا سلوک کیا جائے ۔([1])

(١٨)بندہ آفاتِ دنیا میں تدبر و تفکر کرے  کہ دنیا بے وفا ہے اور یہ جگہ خالص فنا ہے اس سے دل خالی کر کے یک سو ہو ، مگر یہ بغیر مجاہدے کےحاصل نہیں ہو سکتا ۔([2])

(١٩)دنیاسرائے فساق وفجار (گنہگاروں کا مقام)ہے اور صوفی کا سرمایہ زندگی محبتِ الٰہی ہے ۔([3])

(۲٠)بھوک کو بڑا شرف حاصل ہے اورتمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہےاس لیےکہ بھوکے کادل ذکی(ذہین)ہوتاہے،طبیعت مہذب ہوتی ہےاور تندرستی میں اضافہ ہوتا ہےاور اگر کوئی شخص کھانے کے ساتھ ساتھ پانی پینے میں بھی کمی کردے تو وہ ریاضت میں اپنے آپ کو بہت زیادہ آراستہ کرلیتا ہے ۔([4])

وفات و مدفن

حضرتِ سَیِّدُنا داتاگنج بخشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےپوری زندگی خوب مَحَبَّت ولگن سے خدمتِ دین کا کام سرانجام دیاا،دُکھی اِنْسانِیَّت کو امن و سکون کا پیغام دیا اور اپنے مریدین ومحبین  کی دینی ودنیاوی حاجتوں کو پورا فرمایا۔

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کاوصالِ پُرملال اکثر تذکرہ نگاروں کے نزدیک ۲۰صفرالمظفر ۴۶۵ ؁ ھ کوہوا۔([5]) آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکامزارمنبعِ انواروتجلیات مرکزالاولیا لاہور(پاکستان)میں بھاٹی دروازے کے بیرونی حصے میں ہے،اسی مناسبت سے لاہور کو مرکز الالیااورداتا نگر بھی کہا جاتا ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کے وصال کوتقریباً 900 سال کا طویل عرصہ بیت گیا آج بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مزارِ فائض الانوار میں رہ کراپنے عقیدت مندوں کی حاجت روائی فرماتے، ان کی پریشانیاں  حل فرماتے  اوراپنے روحانی فیضان سے جسے چاہتے ہیں مالامال کرتے ہیں۔ صدیوں پہلے کی طرح آج بھی آپ کا فیضان جاری ہے اور آپ کا مزارِ فائض الانوار مرجعِ خاص و عام ہےجہاں سخی وگدا،فقیر وبادشاہ، اصفیا واولیااورحالات کے ستائے ہوئے ہزاروں پریشان حال اپنے دکھوں کا مداوا کرنے صبح وشام حاضر ہوتے ہیں۔ داتا گنج بخشرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے فیضان کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جاسکتا ہےکہ سُلطان الہندحضرت سَیِّدُنا خواجہغریب نوازمعین الدین سیدحسن چشتی سنجری اجمیریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بھی ایک عرصے تک آپ کے دربار پر مقیم رہے اور منبعِ فیض سے  گوہرِمراد حاصل کرتے رہے اور جب دربار سے رخصت ہونے لگے تو اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں فرمایا :

گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا                ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را رہنما

داتا دربار  حاضر ہونے والی شخصیات

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےمزار کو انوار و تجلیات کا مرکز ہونے کی وجہ  سے  خصوصی اہمیت حاصل رہی ہےاپنے وقت کے بڑے بڑے اولیاء کرام رحمہم اللہ السلام  جیسےسلطان الہند حضرت خواجہ  معین الدین چشتی اجمیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور شیخ الاسلام بابافریدمسعود گنجِ شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حاضر ہوتے رہے ہیں  جب کہ متاخرین میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ([6])پیر مہر علی شاہ گولڑوی، شہزادۂ اعلی حضرت  حامد رضا خان ،صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی  اورخلیفۂ اعلی حضرت،محدثِ اعظم ہند ابوالمحامدمحمد محدث کچھوچھوی،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی،امام المحدثین حضرت علامہ مفتی سیّد دیدارعلی شاہ محدث اَلوَریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم اَجمَعیننے حاضری



[1]     کشف المحجوب،  باب المشاھدہ، کشف الحجاب التاسع فی الصحبۃ مع ادابھاو احکامھا، ۳۷۰

[2]     کشف المحجوب،  باب فی فرق فرقھم فی مذاھبھم، ص ۳۱۸

[3]     کشف المحجوب، باب اثبات الفقر، ص۲۱

[4]     کشف المحجوب، باب الجوع ما یتعلق بھا ، ص۳۵۸

[5]     سیّدِ ہجویر،  ص۱۴۳

[6]     تذکرۂ محدث دکن، ص۱۲۳

Index