سمندری گنبد

نافرمانی کی سزا جیتے جی پہنچاتاہے ۔ (اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۵ ص۲۱۶حدیث ۷۳۴۵ دارالمعرفۃ بیروت)

ماں کوجواب نہ دینے والا گونگا ہو گیا

          منقول ہے : ایک شخص کو اُس کی ماں نے آواز دی لیکن اُس نے جواب نہ دیااِس پر اُس کی ماں نے اسے بددُعا دی تو وہ گونگا ہو گیا ۔  (بِرُّ الوالدَین لِلطَّرْطُوشی ص۷۹ مؤسسۃالکتب الثقافیۃ بیروت)

ماں باپ بددعا دینے سے بچیں تو اچّھا ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! ماں کی پکار کاجواب نہ دینے والا جیتے جی گونگا ہو گیا! اِس میں ماں باپ کے نافرمانوں کیلئے جہاں عبرت کے مَدَنی پھول ہیں ، وہاں ماں باپ کیلئے بھیمقامِ غور ہے ، خُصُوصاً وہ مائیں جو بات بات پر اپنی اولاد کو اس طرح کہہ کر کہ تیرا  سَتِّیا ناس(سَتْ ۔ تِیا ۔ ناس) جائے ، تو پھٹ پڑے ، تجھے کوڑھ نکلے وغیرہ کوسنیں ( کَو ۔ سَ ۔ نَیں یعنی بددعائیں ) دیتی ہیں ان کو اپنی زَبان قابو میں رکھنی چاہئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ قَبولیَّت کی ساعت ( یعنی گھڑی) ہو، دعا قَبول ہو جائے اور اولاد کو سچ مُچ’’ کُچھ ‘‘ ہو جائے اور یو ں ماں خود بھی ٹینشن میں آ جائے !لہٰذا اولاد کو صِرف دعائے خیر سے نوازتے رہنا اَنْسَب ( یعنی زیادہ مُناسِب ) ہے ۔

 والِدَین دوسرے مُلک سے بلائیں تب بھی آنا ہوگا

        دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بے شک سعادت ہے ، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں اور دیگر مَدَنی کاموں کی دھومیں مچانے کیلئے ، بیرونِ مُلک سفر کرنا وہاں 12ماہ یا 25ماہ رہنا بھی بڑے شرف کی بات ہے مگر ماں باپ کی دل آزاری ہوتی ہو، اُن کو اس سے سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو ہرگز سفر مت کیجئے ، دعوتِ اسلامی کو دنیا بھر میں عام کرنے کا مقصد   اپنی ’’واہ واہ‘‘ کروانا نہیں ، رِضائے الہٰی پانا ہے اور ماں باپ کا دل دُکھاکر رِضائے الہٰی کی منزِل ہرگز نہیں مل سکتی، نیز دوسرے شہروں یا مُلکوں میں نوکری یا کاروبار کرنے والے بھی ماں باپ کی اِطاعت کرتے ہوئے ہی سفر اِختیار کریں اور یہ مسئلہ(مَسْ ۔ ئَ ۔ لَہ) اچّھی طرح ذِہن نشین کر لیں جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ 16 صَفْحَہ 202پر ہے : ’’ یہ (یعنی بیٹا) پردیس میں ہے ، والِدَین اِسے بلاتے ہیں تو آنا ہی ہوگا، خط لکھنا کافی نہیں ہے ۔  یوہیں والِدَین کو اِس کی خدمت کی حاجت ہو تو آئے اور ان کی خدمت کرے ۔ ‘‘

دُودھ پیتا بچّہ بول اُٹھا!

           ماں باپ جب آواز دیں بِلا عُذر جواب میں تاخیرنہ کیجئے ، بعض لوگ اِ س میں  سخت لاپرواہی سے کام لیتے ہیں اورجوا ب میں تاخیر کو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بُرابھی نہیں سمجھتے حالانکہ اگرنَفْل پڑھ رہے ہیں اورماں باپ کو اس کا عِلْم نہیں تو معمولی طور پر بھی اگروہ پکاریں تو نَماز توڑکر جواب دینا ہو گا (ماخوذاًبہار شریعت ج۱ص۶۳۸)(بعد میں اس نمازِ نفل کا اعادہ یعنی دوبارہ ادا کرنا واجِب ہے )جو لوگ والِدَین کی پکار پر خوامخواہ بے تَوَجُّہی (No Lift)کا مُظاہَرہ کر کے اُن کا دل دُکھاتے ہیں وہ سخت گنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہیں ۔ ماں آخِر ماں ہوتی ہے ، بسا اوقات غَلَط فہمی میں بھی اُس کے منہ سے بد دعا نکل جائے اور اگر قَبولیَّت کی گھڑی ہو تو اولاد آزمائش میں پڑ جاتی ہے ، اِس ضِمْن میں ’’بخاری شریف‘‘ میں ایک اِسرئیلی بُزُرگ کی نہایت عبرت آموز حِکایت بیان کی گئی ہے چُنانچِہ سلطانِ دو جہان ، سرورِ ذیشانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : بنی اسرائیل میں جُرَیْج نامی ایک شخص تھا ، وہ نَماز پڑھ رہاتھا، اُس کی ماں آئی اور اُسے آواز دی لیکن اُس نے جواب نہ دیا ۔  کہنے لگا  : نَماز پڑھوں یا اس کا جواب دوں ۔ پھر اُس کی ماں آئی (اور جواب نہ پاکر اُس نے بددعا دی ) ’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّ!  اسے اُس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ کسی فاحِشہ(یعنی بد چلن) عورت کامنہ نہ دیکھے  ۔ ‘‘ جُرَیْج ایک دن عبادت خانے میں تھا ، ایک عورت نے کہا :  میں اسے بہکا دوں گی ، لہٰذا و ہ آکر جُرَیْج سے باتیں کرنے لگی لیکن اُس (یعنی جُرَیْج ) نے  انکار کیا، آخِر وہ

Index