وہ زمانہ آیا کہ بعض لوگ(بذاتِ) خود اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں اور کچھ لحاظ نہیں کرتے ۔ (بہارِ شریعت)
حضرتِ سیِّدُنا اِمام احمدبن حَجَرمَکِّی شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقل کرتے ہیں : سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : مِعراج کی راتمیں نے کچھ لوگ دیکھے جو آگ کی شاخوں سے لٹکے ہوئے تھے تو میں نے پوچھا : اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کی : اَلَّذِیْنَ یَشْتُمُوْنَ اٰبَاء َہُمْ وَاُمَّہَاتِہِمْ فِی الدُّنْیَا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اپنے باپوں اور ماؤوں کو بُرا بھلا کہتے تھے ۔ ( اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ج۲ ص۱۳۹ دارالمعرفۃ بیروت)
منقول ہے : جس نے اپنے والِدَین کو گالی دی اس کی قَبْر میں آگ کے اتنے انگارے اُترتے ہیں جتنے (بارِش کے ) قطرے آسمان سے زمین پر آتے ہیں ۔ (اَیضاً ص۱۴۰)
منقول ہے : جب ماں باپ کے نافرمان کو د فْن کیا جاتا ہے تو قَبْراُسے دباتی ہے یہاں تک کہ اُس کی پسلیاں (ٹوٹ پھوٹ کر) ایک دوسرے میں پَیوَست ہو جاتی ہیں ۔ (اَیضاً )
حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہبن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے ، رسولِ ذِیشان، نُورِرَحمٰنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : تین شخص جنَّت میں نہیں جائیں گے (۱)ماں باپ کو ستانے والااور(۲)دیُّوث اور(۳)مَردانی وَضْع بنانے والی عورت ۔ (اَلْمُستَدرَک ج۱ ص۲۵۲ حدیث ۲۵۲ )
اگر ماں باپ آپس میں لڑیں تو اولاد کیا کرے ؟
میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : اگر ماں باپ میں باہَم تَنازُع (یعنی لڑائی)ہوتو نہ ماں کا ساتھ دے نہ باپ کا ، ہرگز ایسا نہ ہوکہ ماں کی مَحبَّت میں باپ پر سختی کرے ۔ باپ کی دل آزاری یا اُس کو سامنے جواب دینا یا بے ادبانہ آنکھ ملاکر بات کرنا یہ سب باتیں حرام ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی ۔ اولاد کو ماں باپ میں سے کسی کا ایسا ساتھ دینا ہرگز جائز نہیں ، وہ دونوں اس کی جنت اور دوزخ ہیں ، جسے اِیذا دے گا جہنَّم کا حقدار ٹھہرے گا ۔ وَالْعِیاذُبِاللّٰہ ۔ (یعنی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ)مَعصیَّتِ خالق (یعنیاللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی)میں کسی کی اطاعت (یعنی فرماں برداری) نہیں ۔ مَثَلًاماں چاہتی ہے کہ بیٹا اپنے باپ کو کسی طرح آزار(یعنی تکلیف)پہنچائے اور اگر بیٹا نہیں مانتا یعنی باپ پر سختی کرنے کیلئے تیّار نہیں ہوتا تو وہ ناراض ہوتی ہے ، تو ماں کو ناراض ہونے دے اورہرگز اِس مُعامَلے میں ماں کی بات نہ مانے ، اِسی طرح ماں کے مُعامَلے میں باپ کی نہ مانے ۔ عُلَمائے کرا م نے یوں تقسیم فرمائی ہے کہ خدمت میں ماں کو ترجیح ہے اور تعظیم باپ کی زائد ہے کہ وہ اس کی ماں کا بھی حاکم و آقا ہے ۔ (ماخوذ از : فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص۳۹۰)
والِدَین داڑھی مُنڈوانے کا حکم دیں تونہ مانے
معلوم ہوا ماں باپ اگر کسی ناجائز بات کا حکم دیں تو ان کی بات نہ مانیں اگر ناجائز باتوں میں ان کی پَیروی کریں گے توگنہگار ہوں گے مَثَلاً ماں باپ جھوٹ بولنے کا حکم دیں یا داڑھی مُنڈوانے یا ایک مُٹھّی سے گھٹانے کا کہیں تو ان کی یہ باتیں ہرگز نہ مانیں چاہے وہ کتنے ہی ناراض ہوں ، آ پ نافرمان نہیں ٹھہریں گے ، ہاں اگر مان لیں گے توخد ا ئے حنّان ومنّان عَزَّوَجَلَّ کے ضَرور نافرمان قرارپائیں گے ۔ اِسی طرح ماں باپ میں باہَم طَلَاق ہوگئی تو اب ماں