میتھی کے 50 مدنی پھول

اداؤں کو اپنے ذہن میں نقش فرما لیا کرتے  تھے ،پیر و مُرشد کا تصور اور تذکرہ مرید کے لیے مفید ترین ہے  کیوں کہ یہ بھی نیک بننے کا ایک ذریعہ ہے۔یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے  کہ جب تک مرید اپنے مرشِد کی ذات میں خودکو گم نہیں کرتا اس کے لیے کامیابی پانا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ تصورِ مرشِد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنے دل میں مرشِد کی مَحبت بڑھائیےکیوں کہ جتنی مَحبت زیادہ ہوگی تصورِ مرشد  میں اتنی ہی  آسانی ہوگی۔کاش!  ہماری سوچ کا محورمرشِد کی ذات  بن جائے  ان کے ہرہر انداز، عادت اورعمل کو بغور دیکھ کر اپنانے کی کوشش کرنا ہمارا معمول بن جائے اس طرح چلنے پھرنے ،کھانے پینے ،اٹھنے بیٹھنے  وغیرہ میں مرشد کا انداز اپنا نے کا موقع میسر آئے گا  اور اس کی برکت سے ہماری بری عادتیں بھی نکلیں گی ،فیضانِ مرشد سے مشکلات آسان ہوں گی اورہمارا ظاہر و باطن  حسن ِ اخلاق  کے نو ر   سے  مُنَوَّر ہوگا ۔

مرشدِ کریم کے مدنی پھول

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!انسان کو جس سے جتنی مَحبت ہوتی ہے اس کا ذکر بھی اتنی ہی کثرت سے کرتا ہے۔ مرشد سے محبت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ مرید ان سے ظاہر ہونے والی برکتوں کا خوب تذکرہ کرے اوراُن کے مَلْفوظات کی خوب اِشاعت کرے ۔ حضرت سیّدنا داتا گنج علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی مایہ ناز کتاب کشف  المحجوب میں  مرشد کے ملفوظات نقل فرمائے ہیں،آپ بھی مُلاحظہ کیجیے:

(۱)بیکاری کی علامت

حضرت سیّدناابوالفضل  محمد بن حسن خُتَّلىرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے مرىدوں کو کم بولنے اور کم سونے کی تاکید فرماتے  چنانچہ حضرت  سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فرمان نقل  فرماتے ہیں : ’’ نیند کے غلبے کے وقت سونا چاہئے اور جب بیدار ہو جاؤ تو (بلاوجہ دوبارہ سونےکى کوشش نہ کرو، کىونکہ ىہ) مرىد کے لیےحرام ہے اور بىکارى کى نشانى ہے۔“([1])  

(۲)ایک دن کی زندگی

حضرت سیّدنا ابوالفضل محمد بن حسن خُتَّلى  دنیا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اَلدُّنیا یَوم ٌوَ لَنا فِیہَا صَومٌ یعنی دنیا ایک دن کی ہے اور ہم اس میں روزہ دار ہیں۔([2])

 مرشد نے دستگیری فرمائی

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویر یرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی براہ ِراست  دستگیر ی بھی فرمائی  چنانچہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتحریر فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں وضو کرتے  وقت آپ کے ہاتھوں پر  پانی ڈال رہا تھا ، میرے دل میں خیال گزرا کہ جب تمام کام قسمت و تقدیر پر منحصر ہیں تو آزاد لوگ کیوں کرامت (یعنی عزت) کی خواہش میں مُرشد کے غلام بنے پھرتے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اے فرزند!جو خیالات تمہارے دل میں گزررہے ہیں میں نے جان لیے ہیں تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہر حکم کے لئے کوئی سبب ہوتا ہے جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی سپاہی کے بیٹے  کو تاج و تخت عطا فرماتا ہے تو وہ اسے توبہ کی توفیق دے کر کسی دوست و محبوب کی خدمت کی سعادت  عطا فرماتا ہے تاکہ یہ خدمت اس کی کرامت( یعنی عزت) کا سبب بنے۔([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ پیر و مرشد نے حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کیسی دستگیری فرمائی۔ اس حکایت سے یہ مدنی پھول بھی حاصل ہوا کہ  مرشد کی بارگاہ میں  مرید کو ہمیشہ شفقت کا   طالب رہنا چاہیے اور اگر مرید بدظن ہوکر پیر پر اعتراض کرتا پھرے تو یہ بدگمانی اور اِعتراض اُسے نعمتِ الٰہی سے محروم کردینے کے لیے کافی ہے لہذا جتنا بھی بڑا مقام و منصب  حاصل ہواُسے پیر ہی کی عطا سمجھنا چاہیے۔

 



[1]     کشف المحجوب، باب  نومھم فی السفر والحضر ، ص۳۹۹

[2]     کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین، ص۱۷۳

[3]     کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من المتاخرین، ص۱۷۳

Index