میتھی کے 50 مدنی پھول

(۳)اسرار الخرق والمؤنات([1]) (۴)کتاب البیان لاہل العیان([2])(۵)بحر القلوب ([3]) (۶)الرعایۃ بحقو ق اللہ (۷)کتاب فنا و بقاء (۸) شرح کلام ِ منصور حلاج(۹)ایمان([4])  مگر افسوس!فی زمانہ آپ کی کتابوں میں سےصرف کَشفُ المحجوب ہی بآسانی دستیاب ہے ۔

دیوان اپنے نام منسوب کرنےوالے کاانجام

حضرت سیّدنا داتا علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عربی ا شعار پر مشتمل ایک  مکمل دیوان مُرتب فرمایا تھاجسے ایک شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مانگ کر لے گیا  اور اس پورے دیوان کو اپنے نام سے منسوب کرلیا،  ولی ٔ کامل کی ایسی دل آزاری کے سبب وہ بے ایمان ہوکر  مرا چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاس کے برے خاتمے کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:وہ شخص جو میر ا دیوان لے گیا تھا  بے ایمان دنیا سے گیا ۔“([5])  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کئی گناہ ایسے ہیں جن کی وجہ سے ایمان ضائع ہونے کا شدید خطرہ ہے۔گناہوں سے نجات پانے اور ایمان کو مضبوط بنانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔

داتا علی ہجویری  نے دستگیری فرمائی

 اپنے مسلمان بھائی کی دلجوئی او ر خیر خواہی میں  مشغولیت دنیا و آخرت میں سعادت کا ذریعہ ہے  کیوں کہ کسی  مسلمان کی مدد کرنے والے پر رحمت الٰہی جھوم جھوم  کر برستی ہے اور جیسا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  بندہ کی مدد فرماتارہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے۔([6]) حضرت سیدنا ابوسعید ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیدنا داتا علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے رفیق تھے  اور آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدنا داتا علی ہجویری کی بارگا ہ میں ان  اُمورسے متعلق استفسار فرمایا:

(۱)طریقِ تصوف کی حقیقت

(۲)مقامات ِ صوفیہ کی کیفیت

(۳)صوفیہ کے عقائد کی وضاحت

 (۴)صوفیہ کے رُموز و اِشارات

(۵)دلوں میں محبتِ الٰہی کے ظہور کی کیفیت

(۶)محبتِ الٰہی  کی معرفت میں رکاوٹ بننے والے عقلی اور نفسانی حجابات

(۷) ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے طریقے

 چنانچہ حضرت سیدنا داتا  علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان تمام باتوں کا تفصیلی جواب دینے  کے لیے” کشف المحجوب “ کے نام سے عظیم الشان کتا ب تصنیف فرمائی ۔([7])

کشف المحجوب علمی وثوق اورحیرت انگیز حافظہ کا شاہکار

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی بھی موضوع پر کچھ تحریر کرنے سے قبل مصنف یا مؤلف کو   وسیع مطالعہ کرنا پڑتا ہے اور دوران تصنیف بھی  مطالعے سے حاصل ہونے  والے مَدَنی پھول اپنی تصنیف یا تالیف میں  شامل کرنے کے لیے  بار بار کتب کی جانب   رجوع کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ،



[1]     کشف المحجوب، باب لبس المرقعات، ص۵۳

[2]     کشف المحجوب ، باب فی فرق فرقہم فی مذاہبھم، ص۲۸۳

[3]     کشف المحجوب ، باب فی فرق فرقہم فی مذاہبھم، ص۲۸۳

[4]     حیات و افکار حضرت داتا گنج بخش، ص۵۲، سیدِ ہجویر، ص۱۵۱

[5]     فوائد الفوادمترجم، پانچویں مجلس، ص۱۱۸ماخوذاً

[6]     مسلم، کتاب الذکر والدعاء الخ، باب  فضل الاجتماع۔۔۔الخ،  ص۱۴۴۸،  حدیث: ۲۶۹۹ملتقطا

[7]     سید ہجویر، ص۱۶۶ماخوذا

Index