سدا پیر و مرشد رہیں مجھ سے راضی
کبھی بھی نہ ہوں یہ خفا یا الٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب بوقت ِوصال اپنے مرشدِ کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو مُرشدِ کریم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پُرسکون زندگی گزارنے کا یہ مدنی پھول آپ کی جانب بڑھایا :یاد رکھئیے! ہر جگہ اور ہر حال اللہ عَزَّ وَجَلَّکا پیدا کردہ ہے ۔ خواہ نیک ہو یا بد ، ہمیں چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پیدا کردہ کسی بھی چیز سے خصومت( یعنی عدوات و دشمنی) نہ رکھیں اور نہ ہی کسی کی جانب سے ملنے والے رنج و غم کو دل میں جگہ دیں۔“([1])
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےكس قدر خوبصورت مدنی پھول عطافرمایاکہ کسی کے لیے اگر ہم اپنے دل میں نفرت کے بچھو پالتے رہیں گے تو ان کا زہر بغض و کینہ ، عداوت و دشمنی اور بدگمانی کی صورت میں دماغ پر حاوی آکر اخلاق و کردار میں بگاڑ پیدا کردے گا یوں ہماری زبان غیبت و چغلی وغیرہ کے شعلے اُگلے گی۔ مَعْلوم ہوا کہ کسی کے لیے بھی دل میں مَعمولی نفرت کو جگہ دینا کس قدر مُہلک اور تباہ کُن ہے لہذا آپ بھی اپنے دل میں مسلمان کے لیے محبت پیدا کیجیے اور اگر خدا نخواستہ کسی مسلمان سے تکلیف پہنچے یاشکر رنجی پیدا ہوہی جائے توصبر کیجیے اور عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود آگے بڑھ کر معافی مانگ لیجیے اس کی برکت سے ثواب کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا او ر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے اس اسلامی بھائی کے دل میں آپ کی قدر مزید بڑھ جائے گی ۔
تمہیں معلوم کیا بھائی خدا کا کون ہے مقبول
کسی سنی کو مت دیکھو کبھی بھی تم حقارت سے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ والوں کی زیارت اور مزاراتِ اولیا ء سے استفادے کی غرض سے سفر کی صعوبتیں برداشت کرنا ایسا مجاہدہ ہے جو مشاہدے کی دولت سے نوازتا ہے ۔ حضرت داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ مجاہدہ بھی حدِّ کمال کو پہنچا دیا ،قریباً تمام عالمِ اسلام کی سیاحت اور وقت کے اَعَاظِم مشائخ و صوفیہ سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے شام ،عراق ، بغداد،آذربائیجان ،طبرستان،کرمان،خراسان ماوراء النہراور ترکستان وغیرہ کا سفر فرمایااور بزرگوں سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک کامیاب مبلغ کے لیے وَسِیْع علم ، فکرونظر کی پختگی اور انسانی طبیعت کا گہرا مُطَالْعَہ نہایت ہی ضروری ہے اور وُسْعَتِ علم اور سوچ و فکر میں پختگی تو اساتذہ کی تربیت اور ذاتی مطالعے سے حاصل کی جاسکتی ہے لیکن انسانی طبیعت کا گہر ا مطالعہ،سفراور کثیر لوگوں سے ملاقات بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ اور یہ مطالعہ جہاں مُبلغ کے تجربے میں اضافہ کرتا ہے وہیں اس کی گفتگو کو مؤثر اور پُر دلیل بھی بنا دیتا ہے اور اس سفر کی بدولت مبلغ کو اپنی ذات میں خوف ِخدا اور تکالیف و مشکلات برداشت کرکےصبر و شکر وغیرہ جیسے اوصاف پیدا کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ حضرت سیّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی کئی ملکوں کا سفر فرمایا اور بہت سارے تجربات حاصل کیے ا ٓپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے