میتھی کے 50 مدنی پھول

سفر کی دوحکایات ملاحظہ کیجیے :

(۱)بھوکے شیر کا ایثار

حضرتِ سیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”میں نے شیخ احمد حمّادسَر خسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے ان کی توبہ کا سبب پوچھا ، تو کہنے لگے:ایک بار میں اپنے اُونٹوں کو لے کر سَر خَس سے روانہ ہوا ۔ دورانِ سفر جنگل میں ایک بُھوکے شیرنے میرا ایک اُونٹ زخمی کر کے گرا دیا اور پھر بُلند ٹیلے پر چڑھ کر ڈَکاڑ نے لگا، اُس کی آواز سنتے ہی بَہُت سارے دَرِندے اِکٹّھے ہو گئے۔شَیر نیچے اُترا اور اُس نے اُسی زَخمی اُونٹ کوچِیرا پھاڑا مگر خود کچھ نہ کھایا بلکہ دوبارہ ٹیلے پر جا بیٹھا ، جَمْعْ شُدہ درِندے اُونٹ پر ٹوٹ پڑے اور کھا کر چلتے بنے، باقی ماندہ گوشْتْ کھانے کیلئے شَیر قریب آیا کہ ایک لنگڑی لُومڑی دُور سے آتی دِکھائی دی، شیر واپَس اپنی جگہ چلا گیا۔ لُومڑی حسبِ ضَرورت کھا کر جب جا چکی تب شیر نے اُس گوشت میں سے تھوڑا سا کھایا ۔ میں دُور سے یہ سب دیکھ رہا تھا ، اچانک شیر نے میرا رُخ کیااور بَزَبانِ فَصِیْح بولا:” احمد ! ایک لُقْمہ کا ایثار تو کُتّوں کا کام ہے مَردانِ راہِ حق تو اپنی جان بھی قربان کر دیا کرتے ہیں ۔ “میں نے اِس انوکھے واقِعہ سے مُتَأَثِّر (مُتَ۔ ءَ ثْ۔ ثِرْ)ہو کر اپنے تما م گناہوں سے توبہ کی اور دنیا سے کَنارہ کَش ہو کر اپنے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے لَو لگا لی۔([1])  

کھانے کیلئے جینا

امیر اہلسنّت،بانیٔ دعوتِ اسلامیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنی مایہ ناز تصنیف فیضانِ سنّت(جلد اوّل)صفحہ 736 پر فرماتے ہیں :میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! نَفْس کو مارنا بَہُت ہی مشکِل اَمْر ہے۔ بس کسی طرح اِس کو قابو کرنے کی کوشِش کرنی چاہئے اور اِس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ نَفْس جو کہے اُس کا اُلَٹ کیا جائے ۔ مَثَلاً وہ اچّھے اچّھے کھانوں، چَٹپَٹے چَٹخاروں کا مشورہ دے یا ڈٹ کر کھانے کی ترغیب دلائے اُس وقت اِس کی نہ مانے، صِرْف حسبِ ضَرورت ہی کھائے ۔ حُضُور داتا صاحِب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :بھوک صدِّیقین کی غذا اور مریدوں کی راہ سلوک ہے۔ پہلے لوگ زندہ رہنے کے لئے کھاتے تھے مگر تم کھانے کیلئے زندہ ہو۔([2])  

(۲)دل کی بات جان لی

  شیخِ طریقت،امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فیضانِ سنّت جلد اوّل صفحہ419 پر تحریر فرماتے ہیں:حضرت داتا گنجِ بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہم تین اَحباب حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابنِ مَعلارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زِیارت کے لئے ”رملہ“نامی گاؤں کی طرف چلے۔ راستہ میں یہ طے کیا کہ ہم میں سے ہر شخص کوئی نہ کوئی مُراد اپنے دل میں رکھ لے۔ میں نے یہ مُراد رکھی ، مجھے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابنِ مَعلا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے حُسین بن منصور حَلّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مُناجات اور اَشعار دَرکا ر ہیں۔ دُوسرے نے یہ مُرادطے کی کہ مجھے تلّی کی بیماری سے شِفا حاصِل ہو جائے۔ تیسرے نے کہا: مجھے حلوہ صابُونی کھانے کی خواہِش ہے۔ جب ہم لوگ حاضِرِ خدمت ہوئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرتِ سیِّدنا حُسین بن منصور حَلّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اَشعار اور مُناجات لکھوا کر میرے لئے تیّار رکھے تھے جو مجھے عطا فرما دیئے۔ دوسرے دَرویش کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اُس کی تِلّی کی تکلیف دُور ہوگئی ۔ تیسرے سے فرمایا: صابُونی حلوہ شاہی درباروں کی غذا ہے مگر آپ نے لباسِ صُوفیا پہن رکھا ہے! دو میں سے ایک چیز اختیار کیجئے۔([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے اولیاءُاللہ لوگوں کے دلوں کے اَحوال جان لیتے ہیں، جبھی تو حضرتِ سیِّدُنا شَیخ ابنِ عَلا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بِغیر پوچھے حُضُور داتا گنج بَخش حضرتِ سیِّدُنا علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاوران کے اَحباب کی دِلی مُراد یں بیان کر دیں اور دو کی مُراد یں پوری فرما کر تیسرے کو اِصلاح کا مَدَنی پھول عنایت فرمایا یہ بھی معلوم ہوا کہ  جب  بھی علماء کی بارگاہ  میں حاضری ہو تو زبا ن سنبھالنی چاہیے اور جب کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولی کی بارگاہ میں حاضری ہو تو دل  سنبھالنا چاہیے ۔اس بات کو ذہن نشین کرنے لیےحضرت داتا گنج ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ



[1]     کشف المحجوب، باب فی فرق فرقھم  فی مذاہبھم الخ، ص۲۰۴

[2]     کشف المحجوب، باب  الجوع و ما یتعلق بھا، ص۳۵۹

[3]     کشف المحجوب، باب آدابھم فی الصحبۃ فی الاقامۃ ، ص ۳۸۴

Index