تَعَالٰی عَلَیْہ کی نقل کردہ حکایت ملاحظہ کیجیے:
حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کا ایک مرید کچھ بد اعتقاد ہو گیا اور سمجھا کہ اسے بھی مَقامِ معرِفت حاصل ہوگیا ہے اب اسے مرشِد کی ضَرورت نہیں رہی۔ لہٰذا وہ خاموشی سے حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی کی بارگاہ سے منہ موڑ کر چلا گیا۔ پھر ایک دن یہ دیکھنے اور آزمانے آیا کہ کیا حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیاس کے دل کے خیالات سے آگاہ ہیں یا نہیں؟ ادھر حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِینے بھی نورِ فراست سے اس کی حالت ملاحظہ فرما لی۔ چنانچہ جب وہ مرید آیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک سوال پوچھاجس كا یہ جواب ارشاد فرمایا:” کیسا جواب چاہتا ہے،لفظوں میں یا معنوں میں؟ بولا: دونوں طرح۔ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر لفظوں میں جواب چاہتا ہے تو سن! اگر مجھے آزمانے سے پہلے خود کو آزما اور پرکھ لیتا تو تجھے مجھے آزمانے کی ضرورت پیش نہ آتی اور نہ ہی تو یہاں مجھے آزمانے آتا۔ معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کیا۔ “یہ فرمانا تھا کہ اس مرید کا چہرہ سیاہ ہوگیا۔وہ آہ و زاری کرتےہوئے عرض گزار ہوا: حضور یقین کی راحت میرے دل سے جاتی رہی ہے۔ پھر توبہ کی اور فضول باتوں پر بھی ندامت کا اظہار کیا تو حضرت سیّدنا جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: تو نہیں جانتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ولی والیانِ اسرارِ الٰہی ہوتے ہیں، تجھ میں ان کی ضرب کی برداشت نہیں۔([1])
حضرت سيدناداتا علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :مَیں خراسان کے ایک قصبہ پہنچا جسے ’’ کُمند ‘‘ کہتے ہیں۔ وہاں حضرت ادیب کمندی(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نامی ایک مشہور بزرگ تھے ۔ آپ (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)بیس سال برابر قیام میں رہے تَشَہُّدِ نماز کے سوا کبھی نہ بیٹھے۔ آپ (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) سے میں نے اس کا سبب پوچھا تو آپ (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے ارشاد فرمایا: ابھی میرا وہ درجہ نہیں کہ حضورِ حق کا مُشاہدہ بیٹھ کر کروں۔([2])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَوْلِیاءُاللہکےمزارات پرحاضری دینے کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں، مشکلات و مصائب سے نجات ملتی ہے اور خاص اس نظریے سے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے مزارات پر جانا بھی ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُناداتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بھی معمول تھا کہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے مزارات پر حاضری دیتے ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مزارات پر حاضری کے مُتَعلِّق اپنے کئی واقعات اپنی مشہورو معروف کتاب”کَشفُ المَحجُوب“میں درج کیے ہیں۔ چند واقعات ملاحظہ کیجیے:
٭...چنانچہ ایک بارحضرتِ سِیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ملکِ شام میں مؤذنِ رسول، حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کےمزار پر حاضر تھے۔ وہیں آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بحالتِ خواب تاجدارِ مدینہ، قرارِقلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اوران کے ساتھ کروڑوں حنفیوں کے امام،حضرتِ سَیِّدُناامامِ اعظم ابوحنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زیارت کی۔([3])
٭...مزید فرماتے ہیں :ایک بارمجھے ایک(دینی) مُشْکِل درپیش ہوئی،میں نے اس کے حل کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا، اس سے قبل بھی مجھ پر ایسی ہی مُشْکِل آئی تھی تو میں نے حضرتِ شیخ بایزیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار شریف پرحاضری دی تھی اور میری وہ مُشْکِل آسان ہو گئی تھی۔ اس مرتبہ بھی میں نے ارادہ کیا کہ وہاں حاضری دوں۔اسی نیت سے تین ماہ تک مزار مبارک پر چلہ کشی