میتھی کے 50 مدنی پھول

کی، تاکہ میری مُشْکِل حل ہو جائے۔([1])   

٭...حضرت ابوالعباس قاسم بن مہدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں حُضُورداتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اِرْشاد فرماتے ہیں:آج تک ان کا مزار ”مَرْوَ“ میں مَوْجود ہے اور بہت مشہور و معروف ہے،لوگ وہاں مرادیں مانگنے جاتے ہیں اور بڑی بڑی مشکلات حل کرنے کےلیے ان سے طالبِ امداد ہوتے ہیں اور ان کی امداد کی جاتی ہے، یہ بات بہت مُجَرَّب (یعنی کئی بار کی آزمائی ہوئی) ہے۔([2])  

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اولیائے کرام حیات ہیں

          میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو! دیکھا آپ نے !سَیِّدُنا داتا علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ نہ صرف مزارات پر جانا باعثِ برکت ہے بلکہ وہاں مشکلات بھی حل ہوتی ہیں۔ اور یقیناً یہ سب صاحبِ مزار ہی کا فیضان ہوتا ہے۔ممکن ہے کسی کو یہ وسوسہ آئے کہ  اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کایہ فیض کیسے مل سکتا ہے؟  کیونکہ وہ تو وفات پا چکے ہوتے ہیں۔یاد رکھئے! اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ربِّ کائنات  عَزَّ  وَجَلَّ کی عنایات سے مَزارات میں نہ صرف حیات ہوتے ہیں بلکہ زائرین  کی ہدایت و اِعانت (مدد)بھی فرماتے ہیں۔

حضرت سَیِّدُناامام اسماعیل حقیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: انبیاء، اولیاء اور شہداء کے اَجسام قبروں میں بھی نہ تو مُتَغَیّر ہوتے ہیں اور نہ ہی بوسیدہ ہوتے ہیں،کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کے جسموں کو اس خرابی سے جو گوشت کے گلنے سڑنے سے پیدا ہوتی ہے ،محفوظ رکھا ہے۔([3])

مصنفِ کُتُبِ کثیرہ حضرت شیخ عبدُالحق مُحدثِ دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ہمارےزمانے میں  وہ بدترین مخلوق بھی پیدا ہوچکی ہے  جودار فانی سے دَارِ بَقا کی طرف کوچ کرجانے والے اَوْلِیاءُاﷲ سے اِستمداد اور اِستِعانَت کی منکر ہے وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں  مگر لوگوں کو اس کا شعور نہیں،وہ (یعنی بدترین مخلوق)اولیاءِ کرام  کی جانب مُتَوَجّہ رہنے والوں کو مشرک سمجھ کر بُت پرستوں جیسا  قرار دیتے ہیں  اور  بہت سی خرافات بک دیتے ہیں ،انہیں اس کی حقیقت کا کچھ علم نہیں  وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔([4]) ایک  اور مقام پر فرماتے ہیں :امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: حضرت سیّدنا موسیٰ کاظمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کے مزار پر حاضری قبولیت ِ دعا کے لیے  بےحد مجرب ہے ۔حضرت سیّدنا امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جن سے حیات میں مدد طلب کی جاسکتی ہے ان تما م سے بعدِوفات بھی  مد د  طلب کی جاسکتی ہے ۔مشائخ عظام  رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کا فرمان ہے : چار  بزرگ وہ ہیں جو اسی طرح تصرف فرماتے ہیں جیسے  اپنی زندگی میں تصرف فرمایا کرتے تھے (وہ وفات پانے کے بعد حیات سے ) کئی گنا زیادہ تصرف فرماتے ہیں: حضرت سیدنا مَعروف کرخی حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَااور دو ان کے علاوہ ہیں۔([5])  

حضرتِ علامہ علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اَوْلِیاءُاﷲ کی دونوں حالتوں(حیات وممات) میں اصلاً(کوئی ) فرق نہیں،اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں۔([6])  

حاضریِ مزارات برکت  کا سبب

          میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو! ان جلیل القدر ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی تصریحات سے یہ معلوم ہوا کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ،شہدائے عظام اور اولیائے ربِّ سلام رَحمَۃ ُاللّٰہُتَعَالٰی عَلَیْہم اَجمَعِین  سب اپنے اپنے مزارات میں زندہ ہوتے ہیں اور تصرف بھی فرماتے ہیں۔اسی لیے صرف عوام ہی  نہیں بلکہ بڑے بڑے علما اور فضلا  کا یہ معمول رہاہے  کہ وہ اپنی مشکلات کے حل کے لیے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے مزارات پر حاضری دیا



[1]     کشف المحجوب، باب  الملامۃ ، ص۶۵

[2]     کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتھم من تبع الخ ، ص۱۶۵

[3]     تفسیر روح البیان، پ۱۰، التوبۃ، تحت الایۃ: ۴۱،  ۳ / ۴۳۹

[4]     لمعات التنقیح ،  کتاب الجھاد، باب  حکم الاسراء، ۷ / ۴۰، تحت الحدیث : ۳۹۶۷

[5]     لمعات التنقیح ،  کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۴ / ۲۱۵، تحت  الباب: ۸

[6]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلوٰۃ،     باب الجمعۃ   ،  فصل الثالث     ، ۳  / ۴۵۹، تحت الحدیث: ۱۳۶۶

Index