میتھی کے 50 مدنی پھول

کرتے تھے۔ آئیے اس بارے میں چار ایمان افروز اقوالِ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  ملاحظہ فرمائیے:

 -1چنانچہ اپنے زمانے میں حَنابِلہ (یعنی فقہ حنبلی کے پیروکار)شیخ امام ابو علی حسن بن ابراہیم خَلّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:  مجھے جب کوئی معاملہ درپیش ہوتاہےمیں امام موسیٰ کاظم بن جعفر صادق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) کے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتاہوں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میری مشکل کو آسان کر کے مجھے میری مراد عطا فرمادیتاہے ۔([1])

-2جبکہ کروڑوں شافِعِیوں کے پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امامِ شافِعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تومیں دورَکَعْت نَماز ادا کرکے امامِ اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزارِ پُر انوار پر جاکر دعا مانگتا ہوں،  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میری حاجت  جلد پوری کردیتا ہے۔([2])  

-3حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سلیمانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ مجھے ایک حاجت تھی اورمیں کافی تنگدست بھی تھا۔میں نے حضرت معروف کَرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی قبرِ اَنور پر حاضری دی، تین بارسورۂ اِخلاص کی تلاوت کی اوراس کا ثواب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور تمام مُسلمانوں کی اَرْواح کو پہنچایا پھر اپنی حاجت بیان کی۔ جُونہی میں وہاں سے واپس آیامیری حاجت پُوری ہو چکی تھی۔([3])   

 -4جلیل القدر محدث حضرت علامہ عبدالرحمٰن بن علی جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں :حضرت سیّدنا معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار کی حاضری تریاق اور  مجرب عمل ہے۔ حضرت سیّدنا عبدالرحمٰن بن محمد زہری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :حضرت سیّدنا معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار کی حاضری قضائے حاجات کے لئے  مجرب ہے اور جو کوئی ان کے مزار کے پاس سو مرتبہ سورہ ٔاِخلاص کی تلاوت کرے  پھراللہ عَزَّ وَجَلَّ  سے  سوال کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اس کی حاجت کو پورا فرمادے گا ۔([4])

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مرکزالاولیاء لاہور تشریف آوری

میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!حضر تِ داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے حصولِ معرفت کى خاطر بے حد عبادت ورىاضت کى ،رضائے الٰہى کے لئے اُونی لباس پہنا،مَحبَّتِ الٰہى مىں فقرو فاقہ اختیار کىا اور عشقِ حقىقى میں ثابت قدمی کی خاطر مصائب و مشکلات میں صبروضبط سے کام لىا اور اپنے  وقت کے جلیل القدر علما و مشائخ سے  اکتساب ِ فیض کیابالآخراللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے فضل سے آپ کی معرفت کی تکمىل ہوئی۔

 حضرت احمدحماد سرخسی اور حضرت ابوسعید ہجویری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کو ساتھ لے کرتىن افراد کے قافلہ کى صورت مىں (مرکزُالاولیا)لاہور کى طرف چل دىئے اور ان  کٹھن راستوں سے  ہوکریہاں تشریف لائے ۔([5]) اور بیرون بھاٹی دروازہ قیام فرمایا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  کفر  وشرک کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے اس شہر کو  نورِ اسلام سے روشن فرمادیا۔یہی وجہ ہے کہ  حضرت سیدنا مجدد اَلْفِ ثانی شیخ احمد سرہندیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی وجہ سے(مرکزالاولیاء) لاہور کو پاک و ہند کے تمام شہروں کا قطب قرار دیتے ہوئے فرمایا:اس شہر کی برکت پور ے ہندمیں پھیلی ہوئی ہے ۔([6]) سَیِّدُنا  داتا گنج بخش علی ہجویری  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کوششوں سے اسلام کا قلعہ بن گیا،آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےحسنِ اخلاق،حسنِ کردار اور نرم گُفْتار سے  کئی دلوں میں آپ کی مَحَبَّت راسخ ہوگئی۔لاہور میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قیام کی مدت تقریباً



[1]     تاریخ بغداد،  مقدمۃ المصنف، باب ماذکر فی مقابر بغداد۔۔۔الخ، ۱ /  ۱۳۳

[2]     الخیرات الحِسان ، الفصل الخامس والثلاثون ، ص ۹۴

[3]     الروض الفائق، المجلس الرابع والثلاثون الخ،  ص۱۸۸

[4]     مناقب معروف الکرخی و اخبارہ ، الباب السابع والعشرون فی  ذکر فضیلۃ زیارۃ قبرہ الخ ، ص۲۰۰

[5]     سوانحِ عمری حضرت داتا گنج بخش، ص۵۵، سوانحِ حیات حضرت علی بن عثمان، ص۴۷، سیرت حضرت داتا گنج بخش، ص۵۷، سیدِ ہجویر، ص۱۱۸

[6]     سید ہجویر، ص۱

Index