میتھی کے 50 مدنی پھول

تیس سال سے زائد  ہے۔([1])  اس تمام عرصے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشب و روز نیکی کی دعوت  میں مشغول رہے،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بے داغ سیرت، دلکش گفتگو، پرنور شخصیت اور دلوں میں اُتر جانے والے علم و حکمت سے بھرپور ملفوظات لوگوں کو کفر اور گمراہی کی دلدل سے نکال کر ہدایت کی راہ پر گامزن کرتے رہے۔

 مرکزالاولیاء لاہور میں مسجد کا سنگ بنیاد

میٹھے میٹھے ا سلامی بھائیو! مساجد کو دینِ اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ قرآن و سنّت کی تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں اور مسلمان یہاں انفرادی و اجتماعی طور پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتے ہیں۔ چنانچہ مساجد کو آباد کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ (پ۱۰، التوبۃ:۱۸) 

ترجمۂ کنز الایمان: اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔

 مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان  ’’ تفسیرِ نعیمی ‘‘  میں فرماتے ہیں:  ’’ خیال رہے کہ مسجد آباد کرنے کی گیارہ صورتیں ہیں: (۱)مسجد تعمیر کرنا(۲) اس میں اضافہ کرنا(۳) اسے وسیع کرنا(۴) اس کی مرمت کرنا(۵) اس میں چٹائیاں، فرش وفروش بچھانا (۶) اس کی قلعی چونا کرنا (۷) اس میں روشنی و زینت کرنا (۸) اس میں نمازو تلاوت قرآن کرنا(۹) اس میں دینی مدارس قائم کرنا (۱۰) وہاں داخل ہونا، وہاں اکثر جانا، آنا، رہنا (۱۱) وہاں اذان وتکبیر کہنا، امامت کرنا۔ ‘‘  مزید فرماتے ہیں:  ’’ مسجد بنانے یااسے آباد کرنے یاوہاں باجماعت نماز اداکرنے کا شو ق صحیح مومن کی علامت ہے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایسے لوگوں کا خاتمہ ایمان پر ہو گا۔ ‘‘ ([2])  

مرکزالاولیاء  لاہور میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی قیام گاہ  بیرون بھاٹی دروازہ کے پاس ہی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا  اور نہ صرف مالی طور پر مدد فرمائی بلکہ اس کی تعمیر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خود مزدوروں کی طرح کام کیا اور بڑی مَحَبَّت اور لگن سے اس کی تعمیر میں پیش پیش رہے ۔([3])  

مسجد بھرو تحریک

شیخِ طریقت،امیر اَہلسنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنےعطا کردہ مدنی مقصد ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ ‘‘  کی تکمیل کے لئے ہر وہ کام کیا جو  مخلوق کو خالقِ حقیقی سے قریب کر دے۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے انفرادی اصلاح کی کوشش کے لئے جو مَدَنی انعامات کا گلدستہ پیش کیا اس میں اچھی اچھی نیتوں کے بعد سب سے پہلے جو مَدَنی انعام ذکر کیا وہ یہ ہے:  ’’ کیا آج آپ نے پانچوں نَمازیں مسجِد کی پہلی صف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعَت ادا فرمائیں؟  نِیز ہر بار کسی ایک کو اپنے ساتھ مسجِد لے جانے کی کوشش فرمائی؟  ‘‘  شیخِ طریقت، امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے اس عطا کردہ مدنی انعام سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت اور مساجد سے کس قدر محبت فرماتے ہیں۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے مذکورہ فرمان پر عمل کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے گھروں کو آباد کرنے کے لیے مَجْلِس خُدَّامُ الْمَسَاجِد بنائی جس کا کام شیخ طریقت، امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے اس خواب کی تکمیل ہے کہ ”اے کاش! ہماری مساجد آباد ہو جائیں، ان کی رونقیں پلٹ آئیں اور خالق و مخلوق کے درمیان نفس و شیطان کی وجہ سے جو دوری پیدا ہو چکی ہے وہ قُرْب میں بدل جائے۔“ مجلس  ’’ خُدَّامُ الْمَسَاجِد ‘‘ پرانی مساجد آباد کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ نئی مساجد کی تعمیر کے لیے بھی ہر وقت کوشش کرتی رہتی ہے یہی  وجہ ہے کہ  نہ صر ف پاکستا ن بلکہ دنیا بھر میں مساجد کی تعمیرات اور ان  کو



[1]     اللہ کے خاص بندے،  ص۴۶۸

[2]    تفسیر نعیمی ، ۱۰ / ۲۰۱تا ۲۰۴ملخصاً

[3]     اللہ کےخاص بندے،  ص۴۶۹ ملخصاً

Index