میتھی کے 50 مدنی پھول

آباد کرنے کا سلسلہ ہر وَقْتْ جاری رَہتا ہے۔

مسجدیں آباد ہوں اورسنتیں بھی عام   ہوں                                                                                      فیض  کا دریا بہا دوسرورا  داتا      پیا

مرکزالاولیاء لاہور سے کعبہ دکھا دیا

حضرت سیّدُناداتا گنج بخش علی ہجویریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہمرکزالاولیاء لاہور تشریف لاتے ہی اپنی قیام گاہ کے ساتھ جو مسجدتعمیر کروائی اُس مسجدکی محراب دیگر مساجدکی بہ نسبت جنوب کی طرف کچھ زیادہ مائل تھی لہٰذا مرکزالاولیا لاہور میں رہنے والے اس وقت کے علماء کو اس مسجدکی سمت کے مُعاملے میں تشویش لاحِق ہوئی چنانچہ ایک روز  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے تمام  علماء کو اُس مسجد میں جمع کیا اور خود امامت کے فرائض انجام دیئے،نماز کی ادائیگی کے بعد حاضرین سے فرمایا: ’’ دیکھئے  کہ کعبہ شریف کس سمت میں ہے؟ ‘‘ یہ کہنا تھا کہ مسجد و کعبہ شریف کے درمیان جتنے حجابات تھے سب کے سب اُٹھ گئے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کعبہ شریف محرابِ مسجدکے عین سامنے نظر آرہا ہے۔([1]) حضرت سیدنا داتا گنج بخش ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی اس کرامت کے تحت  صاحبِ فتاوی فیض الرسول حضرت مفتی  جلال الدین امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اس واقعہ سے معلوم ہوا  کہ داتا گنج بخشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا  خو د اپنے بارے میں بھی یہ عقید ہ تھا کہ میں علم غیب رکھتا ہوں ۔ درمیان میں ہزاروں  حجابات ہونے کے باوجود کعبۂ معظمہ کو یہیں سے دیکھ رہا ہوں اور ضر ور ت پڑنے پر دوسروں کو بھی دکھا دیتا ہوں ۔([2])

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نائب حاکم داتا علی ہجویری کے قدموں میں

حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دور میں مرکزالاولیاء لاہور کا نائب حاکم رائے راجو دل میں اسلام کے خلاف بڑی عداوت رکھتا تھا ، مگر بظاہر مسلمانوں کے ساتھ نہایت نرمی سے پیش آتا ۔لوگوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں  اس کے بارے میں کچھ عرض کی تو  آپ نے اللہ  عَزَّوَجَلَّ سے اس کی سخت دلی کو نرمی  میں بدلنےکی دعا کی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے ولی  کی دعا قبول ہوئی  اور  اس نے آپ کی بارگاہ میں آکر  اسلام قبول کرلیا  اور ساری عمر داتا  گنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے عالی شان دربار  کا ہوکر رہ گیا۔اپنی ساری زندگی  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت کرتے ہوئے گزاری۔ فیضانِ داتا اگلی نسلوں میں بھی منتقل  ہوایہاں تک کہ آج تک ان کی اولاد درگاہ اور مسجد کی دیکھ بھال اور خدمت کے فرائض میں مصروف ہے ۔داتا  گنج بخش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے رائے راجو کو شیخ ہندی کا خطاب عطافرمایا جو آگے چل کر نامور بزرگ ہوئے اور آج تک عزت کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں، ان کا مزار بھی درگاہ شریف میں موجود ہے۔([3])

کا ش پھر لاہور میں نیکی کی دعوت عام  ہو

فیض  کا دریا  بہا دو   سر ورا      داتا    پیا

شب و روز کے معمولات

حضرت سیدنا داتا علی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  دن میں تدریس  فرماتے  اور رات میں  حق کے مُتلاشی افراد کو تلقین فرماتے  جس کی بدولت  ہزاروں  بے علم فیضان علم سے  سیراب ہوکر ”عالم “اورہزاروں کفار”مسلمان “ہوئے،ہزاروں گمراہ راہ راست پر آئے،ہزاروں  دیوانے دولت  ِ عقل  اور دانشواری   سے سرفراز ہوئے ، ہزاروں ناقص کامل ہوئے ۔دور دور سے علماء و مشائخ  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں  آکراپنے مَن کی مراد پاتے۔([4])  

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شب وروز کے مَعمُولات  دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آ پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 



[1]     خزینۃ الاصفیاء مترجم، ۱ /  ۱۷۴،  سوانح حیات حضرت علی بن عثمان، ص۵۳

[2]     بزرگوں کے عقیدے، ص۱۷۶

[3]     گنج بخش فیض  عالم، ص۵۷

[4]     حدیقۃ الاولیاء ، ص۱۸۲

Index