اپنی ذات کو نیکی کی دعوت اور اِشاعتِ علمِ دین کے لیے وقف فرمادیا تھا ،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اخلاق کی کشش ، اخلاص کی چاشنی اور علم کا نور مخلوقِ خدا کو آپ کی جانب کھینچ لاتا۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں آنے والامَن کی مرادیں پاتا اور علم و حکمت کے موتی اپنے دامن میں سمیٹ کر لے جاتا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ!امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو فیضانِ داتا علی ہجویر ی کی بدولت وہ مقام و مرتبہ حاصل ہوا ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں بھی آکر کئی لوگوں نے اسلام کی نعمت حاصل کی ، ہزاروں نے گناہوں سے توبہ کی اور کئی ایک نے تونیکی کی دعوت عام کرنے کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں ،آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات ،مدنی مذاکروں اور تصنیفات نے معاشر ے میں مدنی انقلاب برپا کردیا ہے ۔امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دینی خدمات کا اعتراف عوام و خواص کے ہر طبقے نے کیا ہے،آفتاب کی طرح روشن ان خدمات کو دیکھ کر دل بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ حضرت سیدنا داتا علی ہجویر ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے فیضان کے مظہر ہیں ۔
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویر یرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دور میں جب لوگوں نے باطنی اَمْراض کے نام بدل کر خود کو دُھوکہ دینا شروع کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاس خُود فریبی کا تذکرہ یوں فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمیں اُس زمانے میں پیدا فرمایا ہے کہ جس میں لوگوں نے حرص کا نام شریعت ، تکبر و حبِ جاہ کی طلب کا نام عزت وعلم، لڑائی جھگڑے کا نام بحث و مُبا حَثہ ، ہذیانِ طبع کا نام معرفت ،نفسانی باتوں اور دل کی حرکت کانام مَحبت ، اِلحاد کا نام فقر ، بے دینی اور زَندقہ کا نام فنا اور ترک ِ شریعت کا نام طریقت رکھ لیا ہے۔([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے کہ جس طرح ظاہری بیماریوں کو نیا نام دینے سے ہلاکت خیز ی میں کوئی کمی نہیں آتی اسی طرح باطنی بیماریوں کا نام بدل دینا بھی حماقت ہے یقیناً جو لوگ اپنی باطنی بیماریوں کوچھپانے کے لیے نام بدل دیتے ہی مثلاًکبھی تو جہالت کو علم کہہ دیتے ہیں لڑائی جھگڑے کو علمی تکرار کا نام دیتے ہیں یوں وہ شیطان کے ان ہتھیاروں کے ذریعے خوش فہمی کے مرض میں مبتلا ہوجا تے ہیں اور ان کے اردگرد رہنے والے خوشامدی ان ناجائز و حرام کاموں پر ”اچھا اچھا “ کی زہریلی کیلیں لگا کر مزید پختہ کر دیتے ہیں یوں حب ِ جاہ ،تکبر، ریاکاری ، خودپسندی جیسی کئی بیماریاں دل میں ناسور بن جاتی ہیں۔اگر آپ ان باطنی بیماریوں کی پہچان([2]) اور ان سے بچنے کے طریقے جاننا چاہتے ہیں تو دعوتِ اسلامی کےمدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ،ہفتہ وار سنتوں بھر ے اجتماع میں شرکت کو اپنا مَعمول بنا لیجیے ،ہر ہفتے مدنی مذاکرے میں شرکت کیجیے ،روزانہ مدنی انعامات کا رسالہ پُر کیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے علم ِ دین کا خزانہ ہاتھ آئے گا اور علم ِ دین کا نور ہمارے ظاہر و باطن کو روشن کردے گا اور ہمارے لیے اپنے عیوب پہچاننا آسان ہوجائے گا ۔
تم دعوت ِ اسلامی کو جانتے ہو کیا ہے فیضان ِ مدینہ ہے،فیضان مدینہ ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو علومِ ظاہرى اور باطنى سےنوازا تھا اور دىنِ اسلام کے بہت سےاَسرار و رُموز کا علم بھی عطا فرمایا تھا۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنےحصولِ علم کے لیے جوسفراختیارفرمائے ان سےآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کوکثیرمُشاہدات حاصل ہوئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مخلوقِ خدا کی خیر خواہی کے لىے کئی گراں قدر(قیمتی ) کتب تصنىف فرمائیں جن کے نام یہ ہیں: (۱)منہاج الدین([3]) (۲)دیوان([4])