پہنچی ہے، ’’ جھوٹا ‘‘ دوزخ میں کتے کی شکل میں بدل جائے گا ، ’’ حسد کرنے والا ‘‘ جہنم میں سُؤَر کی شکل میں بدل جائے گااور ’’ غیبت کرنے والا ‘‘ جہنم میں بندر کی شکل میں بدل جائے گا۔ (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص ۱۹۴)
لگاؤ جھوٹ کے خلاف نعرہ :
جھوٹ کے خلاف اعلان جنگ ہے!
نہ جھوٹ بولیں گے نہ بلوائیں گے!
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{۴} جھوٹا خواب سنانے کا انجام
حضرت امام محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک آدَمی نے کہا: ’’ میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں پانی سے بھرا ہوا ایک شیشے کا پیالہ ہے، وہ پیالہ توٹوٹ گیا ہے ، مگر پانی جوں کا توں موجود ہے۔ ‘‘ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈر ، (اور جھوٹ نہ بول ) کیوں کہ تو نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا ، وہ آدَمی کہنے لگا:سُبْحٰن اللہ! میں ایک خواب سنا رہا ہوں اور آپ فرمارہے ہیں کہ تو نے کوئی خواب نہیں دیکھا ! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: بے شک یہ جھوٹ ہے اور میں اس جھوٹ کے نتیجے کا ذمے دار نہیں ، ’’ اگر تو نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے ، تو تیری بیوی ایک بچہ جنے گی ، پھر مرجائے گی اور بچہ زندہ رہے گا۔ ‘‘ اس کے بعد وہ آدمی جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس سے چلا گیا اور پیچھے سے کہنے لگا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! میں نے تو ایسا کوئی خواب دیکھا ہی نہیں تھا! یہ سن کر کسی نے کہا : لیکن امام محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خواب کی تعبیر بیان فرما دی ہے۔ یہ حکایت بیان کرنے والے بزرگ حضرتہشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ جھوٹا خواب بیان کرنے والے جھوٹے آدمی کے ہاں ایک بچے کی ولادت ہوئی لیکن اس کی بیوی مر گئی اور بچہ زندہ رہا ۔ (تاریخ دمشق ج۵۳ص۲۳۲ بتغیر قلیل)
{۵} جھوٹے کے جبڑے
میٹھے میٹھے مدنی منو اور مدنی منیو! جھوٹ بولنا اور جھوٹا خواب بیان کرنا گناہ و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔مرنے کے بعد جھوٹے کو بہت ہی خراب عذاب ہو گا۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:خواب میں ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا:چلئے! میں اس کے ساتھ چل دیا، میں نے دوآدمی دیکھے، ان میں ایک کھڑا اور دوسرا بیٹھا تھا ، کھڑے ہوئے شخص کے ہاتھ میں لوہے کا زَنبور ([1]) تھا جسے وہ بیٹھےشخص کے ایک جبڑے میں ڈال کر اُسے گدی تک چیر دیتا پھر زنبورنکال کر دوسرے جبڑے میں ڈال