معمولی خیال ہونے کے باوجود درجے میں قاری صاحب یا استاذ سے کہنا : مجھے زور کا پیشاب لگا ہوا ہے ، واش روم جانے کی اجازت دے دیجئے {۱۴} خود شور کیا ہونے کے باوجود کہنا: میں تو شور نہیں کررہا تھا {۱۵} کل بخار کی وجہ سے ہوم ورک نہیں کر سکا (حالانکہ بخار نہیں تھا) {۱۶} میں اپنی پنسل اسکول وین یا گھر میں بھول آیا ہوں (حالانکہ معلوم ہوتا ہے کہ اسکول یا دارالمدینہ میں گمی ہے) {۱۷} رات بجلی چلی گئی تھی اس لئے سبق یاد نہیں کر سکا (جبکہ یاد نہ کرنے کا سبب سستی یا کھیل کودیا کچھ اور تھا) {۱۸} فلاں فلاں بچے نے شرارت کی ہے میں تو بڑے آرام سے بیٹھا ہوا تھا (حالانکہ خود بھی شرارت میں شامل تھے) {۱۹} اس نے میری پنسل توڑ دی ہے (حالانکہ اپنے ہی ہاتھ سے ٹوٹی ہوتی ہے) {۲۰} یہ جھوٹ بول رہا ہے (جبکہ معلوم ہے کہ یہ سچا ہے) {۲۱} ’’ میری جیب سے پیسے کہیں گر گئے ہیں ‘‘ یا بولنا: کسی بچے نے میرے پیسے چرا لئے ہیں (حالانکہ پیسوں سے چیز لے کرمزے سے کھا لی تھی) {۲۲} اپنی سیاہی (INK) سے کپڑے گندے ہو گئے مگر ڈانٹ پڑنے پر کہنا:ایک بچے نے میرے کپڑوں پر سیاہی گرا دی تھی {۲۳} درد نہ ہونے کے باوجوداستاد سے کہنا:میرے پیٹ میں درد ہورہا ہے مجھے چھٹی دے دیجئے {۲۴} معمولی سی کھانسی یا ہلکا سابخار ہونے کے باوجود امی یا ابو کی ہمدردیاں لینے کیلئے ان کے سامنے جان بوجھ کر زور زور سے کھانسنا یا ان کے سامنے اِس لئے کر ا ہنا ۔ ۔ آ ۔۔۔اُو۔۔۔کی آواز نکالنا تا کہ یہ سمجھیں کہ طبیعت بہت خراب ہے ( یہ اعضا کا جھوٹ ہے ، چھوٹے بڑے سبھی اِس طرح کے جھوٹ سے بچیں )
بچوں بڑوں سب کے لئے کار آمد ) [1] (مدنی پھول
٭فرمان مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے پاکی کو پسند فرماتا ہے، وہ پاکیزہ ہے پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے۔ ‘‘ (تِرمذی ج ۴ ص ۳۶۵ حدیث ۲۸۰۸ )
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اِس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں :ظاہری پاکی کو طہارت کہتے ہیں اور باطنی پاکی کو ’’ طیب ‘‘ اور ظاہری باطنی دونوں پاکیوں کو نظافت کہا جاتا ہے، یعنیاللہ تَعَالٰی بندے کیظاہری باطنی پاکی پسند فرماتا ہے۔ بندے کو چاہیے کہ ہرطرح پاک رہے جسم، نفس، روح، لباس، بدن، اخلاق غرض کہ ہر چیز کو پاک رکھے صاف رکھے، اَقوال، افعال، احوال عقائد سب درست رکھے، اللہ تَعَالٰی ایسی نظافت نصیب کرے) [2] ( ٭دانت سے ناخن نہ کاٹیں کہ مکروہِ (تنزیہی) ہے اور اس سے برص ( یعنی بدن پر سفید داغ) کے مرض کا اندیشہ ہے) [3] (٭حمام یا بیسن وغیرہ پر جان بوجھ کر پانی میں اس طرح صابن رکھ دینا کہ پگھل کر ضائع ہو رہا ہو، یہ اِسراف حرام اور گناہ ہی٭اِستنجا خانے میںجو کچھ نکلے اُس کو بہادیجئے ، پیشاب کرنے کے بعد اگر ہر فرد ایک لوٹااور پاخانہ کر کے حسب ضرورت پانی بہادیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ