جھوٹا چور

        حجاج بن یوسف ایک دن چندقیدیوں  کو قتل کروارہا تھا ، ایک قیدی اُٹھ کر کہنے لگا:اے امیر! میرا تم پر ایک حق ہے ۔ حجاج نے پوچھا:وہ کیا؟کہنے لگا: ایک دن فلاں  شخص تمہیں  برا بھلا کہہ رہا تھا تو میں  نے تمہارا دِفاع (یعنی بچاؤ)  کیا تھا۔ حجاج بولا :اِس کا گواہ کون ہے؟اُس شخص نے کہا:میں  اللہ تَعَالٰی  کا واسطہ دے کر کہتا ہوں  کہ جس نے وہ گفتگو سنی تھی وہ گواہی دے ۔ ایک دوسرے قیدی نے اٹھ کر کہا:ہاں  ! یہ واقعہ میر ے سامنے پیش آیا تھا۔ حجاج نے کہا: پہلے قیدی کو رہا کردو، پھر گواہی دینے والے سے پوچھا:تجھے کیا رکاوٹ تھی کہ تونے اُس قیدی کی طرح میرادِفاع (یعنی بچاؤ)  نہ کیا؟اُس نے سچائی سے کام لیتے ہوئے کہا :  ’’ رُکاوٹ یہ تھی کہ میرے دل میں  تمہاری پرانی دشمنی تھی۔ ‘‘  حجاج نے کہا:اسے بھی رِہا کردو کیونکہ اس نے بڑی ہمت کے ساتھ سچ بولا ہے۔    ( وَفیات الاَعْیان لابن خلکان ج۱ص۲۱۱مُلَخَّصًا)

سچ بولنے والا ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے کیوں  کہ  ’’  سانچ کو آنچ نہیں  ‘‘  یعنی سچ بولنے والے کو کوئی خطرہ نہیں۔

لگاؤ جھوٹ کے خلاف نعرہ :

جھوٹ کے خلاف اعلان جنگ ہے!

نہ جھوٹ بولیں  گے نہ بلوائیں  گے!

اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 فرمان مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :’ ’ جھوٹ میں  کوئی بھلائی نہیں  ۔ ‘‘  (مُؤطّا امام مالک ج ۲ ص ۴۶۷ حدیث ۱۹۰۹ )  

           جھوٹ کے معنی ہیں  :  ’’ سچ کا الٹ۔ ‘‘

 ’’ جھوٹ بولنا رب کو سخت ناپسند ہے ‘‘ کے چوبیس حروف کی نسبت سے بچوں  کے جھوٹ کی24 مثالیں

            اچھے بچے ہمیشہ سچ بولتے ہیں  ،  گندے بچے طرح طرح سے جھوٹ بولتے ہیں  ،  گندے بچوں  کے جھوٹ بولنے کی 24مثالیں  پیش کی جاتی ہیں :

         {۱} اُس نے نہ گالی دی نہ ہی مارا ہوتا ہے پھر بھی کہنا:اس نے مجھے گالی نکالی ہے  {۲}  اُس نے مجھے مارا ہے  {۳} میں  نے تو اسے کچھ بھی نہیں  کہا (حالانکہ  ’’ کہا ‘‘  ہوتا ہے)   {۴} اس نے میرا کھلونا توڑ دیا (حالانکہ اس نے نہیں  توڑا ہوتا )   {۵}  بھوک ہونے کے باوجود من پسند چیز نہ ملنے کی وجہ سے کہنا:  ’’ مجھے بھوک نہیں  ہے ‘‘  {۶} دودھ پینے کو جی نہیں  چاہتا اِس لئے واش روم وغیرہ میں  بہا کر خالی گلاس دکھا کر بولنا: ’’  میں  نے دودھ پی لیا ہے ‘‘  {۷}   نہ کرنے کے باوجود کہنا: میں  نے ہوم ورک کرلیا ہے یا سبق یاد کرلیا ہے  {۸}  چھوٹے بھائی وغیرہ کے اِرَیزر  (ERASER۔ مٹانے والے ربڑ )   پر قبضہ جما کر کہنا: یہ میرا اِرَیزر (ERASER)  ہے  {۹}  یاد ہونے کےباوجود کہنا:میں  نے توبستر میں  پیشاب نہیں  کیا  {۱۰}   (سوتے میں  پیشاب کردینے والے بچے کو اگر سونے سے پہلے پیشاب کرلینے کو کہا گیا تو پیشاب نہ کیا ہو پھر بھی کہنا:) میں  پیشاب کرچکا ہوں   {۱۱}  میں  نے فریج سے چیز نہیں  کھائی (حالانکہ کھائی تھی)    {۱۲} اِس نے مجھے دھکا دیا تھا  (حالانکہ خود ٹھوکر کھا کر گرے ہوتے ہیں )   {۱۳} پیشاب کا خیال نہ ہونے یا

Index