مسجدیں خوشبو دار رکھیئے

اُس کے مُنہ کی بدبوکے سبب سانس روکنا پڑتا ہے۔   بعض اوقات امام و مُؤَذِّنکو بھی گندہ دَہنی کا مَرَض ہو جاتا ہے،   ایسا ہو تو انہیں فوراً چُھٹّیاں لے کر علاج کرنا چاہئے کیوں کہ منہ میں بدبو ہونے کی صورت میں مسجِد کے اندر داخِل ہونا حرام ہے۔  افسوس! بد بو دار منہ والے کئی افراد مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّمسجِد کے اندر مُعتَکِفبھی ہو جاتے ہیں ۔  یاد رکھئے!شَرعی حکم یہ ہے کہ اگر دورانِ اعتِکاف بھی مُنہ میں بُدبو کا مَرَض ہو جائے تو اعتکاف توڑ کر مسجد سے چلا جانا ہو گا۔ بعد میں ایک دن کے اعتکاف کی قضاکر لے۔  رَمَضانُ المُبارَک میں کباب سموسے اور دیگر تلی ہوئی چیزیں اور طرح طرح کی مُرَغَّن غذائیں ٹُھونس ٹھانس کر کھانے کے سبب منہ کی بد بووالے مریضوں میں اِضافہ ہو جاتا ہے ،  اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ سادہ غذا اور وہ بھی بھو ک سے کم کھائے اور ہاضِمہ دُرُست رکھے ۔ نیز جب بھی کھا چکے خلال کرنے اور خوب اچّھی طرح کلّیاں وغیرہ کر کے مُنہ صاف رکھنے کی عادت بنائے ورنہ غذا کے اَجزا دانتوں کے خَلا  (GAPS)  میں رہ جاتے،   سڑتے اور بد بو لاتے ہیں ۔   صِرف مُنہ ہی کی بدبو نہیں ہر طرح کی بد بو سے مسجِد کو بچانا واجب ہے۔  

منہ میں بدبُو ہو تو نَماز مکروہ ہوتی ہے

            فتاویٰ رضویہ جلد 7صَفْحہ384پر ہے: مُنہ میں بدبو ہونے کی حالت میں   (گھر میں پڑھی جانے والی )  نَماز بھی مکروہ ہے اور ایسی حالت میں مسجِد جانا حرام ہے جب تک مُنہ صاف نہ کر لے۔  اور دوسرے نَمازی کو اِیذا پہنچنی حرام ہے اور دوسرا نَمازی نہ بھی ہو توبھی بدبوسے ملائکہ کو اِیذا پہنچتی ہے۔  حدیث میں ہے:  جس چیز سے انسان تکلیف مَحسوس کرتے ہیں فِرشتے بھی اس سے تکلیف مَحسوس کرتے ہیں ۔    ( مُسلِم ص۲۸۲ حدیث ۵۶۴)

بد بُودار مرھم لگا کر مسجِد میں آنے کی مُمانَعَت

          میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :  ’’جس کے بدن میں بد بوہو کہ اُس سے نَمازیوں کو اِیذا ہو مَثَلاً مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّگندہ دَہَن ( یعنی جس کومُنہ سے بد بو آنے کی بیماری ہو) ،  گندہ بَغَل ( یعنی جس کے بغل سے بد بو آنے کا مرض ہو)  یا جس نے خارِش وغیرہ کے باعِث گندھک ملی ( یا کوئی سا بدبو دار مرہم یا لوشن لگایا)  ہو اُسے بھی مسجِد میں نہ آنے دیا جائے۔ ‘‘   (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ،  ج ۸ ص ۷۲)  

 کچّی پیاز کھانے سے بھی مُنہ بد بُودار ہو جاتا ہے

     کچّی مُولی،  کچّی پیاز، کچّا لہسن اور ہر وہ چیز کہ جس کی بُو نا پسند ہو اسے کھا کر مسجِد میں اُس وقت تک جانا جائز نہیں جب تک کہ ہاتھ مُنہ وغیرہ میں بو باقی ہو کہ فِرِشتوں کو اس سے  تکلیف ہوتی ہے۔  حدیث شریف میں ہے،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  فاتحُ القُلوب ،  دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’جس نے پیاز ،  لہسن یاگِندَنا (لہسن سے مِلتی جُلتی ایک ترکاری)  کھائی وہ ہماری مسجِد کے قریب ہرگز نہ آئے۔  ‘‘   (مُسلِم ص۲۸۲ حدیث ۵۶۴)  اور فرمایا: ’’ اگر کھانا ہی چاہتے ہو تو پکا کر اس کی بُو دُور کر لو۔  ‘‘ (ابوداوٗدج۳ص۵۰۶حدیث۳۸۲۷)

مسجِد میں کچّا گوشت نہ لے جائیں

        صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں : مسجِد میں کچّا لہسن اور کچّی پیاز کھانا یا کھا کر جانا جائز نہیں جب تک کہ بو باقی ہو اور یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے جس میں بُو ہو جیسے گِندَنا ( یہ لہسن سے ملتی جُلتی ترکاری ہے)   مُولی ،  کچا گوشْتْ اورمِٹّی کا تیل ، وہ دِیا سَلائی جس کے رگڑنے میں بُو اُڑتی ہو،  رِیاح خارِج کرنا وغیرہ وغیرہ۔  جس کو گندہ دَہنی کا عارِضہ  ( یعنی منہ سے بد بوآنے کی بیماری)  یا کوئی بد بودار زَخم ہو یا کوئی بد بودار دوا لگائی ہو تو جب تک بُو مُنقَطِع ( یعنی ختم)  نہ ہو اُس کو مسجِد میں آنے کی مُمانَعت ہے۔   (بہارِ شریعت ج۱ص ۶۴۸) کچّا گوشت وغیرہ پاک چیز کی اگر ا س طرح پیکنگ کر لی جائے کہ معمو لی سی بھی  بد بو نہ آئے تو اب مسجِد میں لے جانے میں حَرَج نہیں ۔  

کچّی پیاز والے کچومر اور رائتے سے مُحتاط رہئے

      کچّی پیاز والے چنے،  چھولے ، رائتے اور کچومرنیز کچّے لہسن والے اَچار چٹنی وغیرہ کھانے سے نَماز کے اوقات میں پر ہیز کیجئے۔  بعض اوقات کباب سموسے وغیرہ میں بھی کچّی پیاز اور کچّے لہسن کی بُو محسوس ہوتی ہے لہٰذا نَماز سے پہلے ان کو بھی نہ کھایئے۔  ایسی بُو والی چیزیں مسجِد میں لانے کی بھی اجازت نہیں ۔   

مجمع میں اگر بتّی سلگانا

            مسلمانوں کے اجتماع میں خوشبو پہنچانے کی نیّت سے اگر بتّی وغیرہ جلانا کارِ ثواب ہے۔ اگرلُوبان یا اگر بتّی کے دھوئیں سے کسی کو تکلیف ہوتی ہو تو ایسے موقع پر خوشبو نہ جلائی جائے اِسی طرح مجمع پر زیادہ مقدار میں ’’ خوشبو دار پانی‘‘چِھڑکنے سے بھی بچیں کہ عام طور پر اِ س سے لوگوں کو کوفت اور پریشانی ہوتی ہے۔  

 

Index