بچت ہوسکتی ہے۔ ( تفصیلی معلومات کیلئے فیضانِ سنّت کے باب ’’ پیٹ کا قفلِ مدینہ‘‘ کا مُطالَعَہ فرمایئے) اگر نَفس کی حِرص کا علاج ہو جائے توکئی جسمانی اور روحانی امراض خود ہی دم توڑجائیں ۔ ؎
رضاؔ نفس دشمن ہے دم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چَندرانے والے (حدائقِ بخشش شریف)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ الطَّاہِر۔
مُندَرَجَۂ بالا دُرُود شریف موقع بہ موقع ایک ہی سانس میں 11مرتبہ پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مُنہ کی بدبو زائِل (یعنی دُور) ہو جا ئے گی ۔ ایک ہی سانس میں پڑھنے کا بِہتر طریقہ یہ ہے کہ مُنہ بند کر کے آہِستہ آہِستہ ناک سے سانس لینا شُروع کیجئے اورمُمکِنہ حد تک ہوا پَھیپھڑوں میں بھر لیجئے ۔ اب دُرُود شریف پڑھنا شُرو ع کیجئے۔ چند بار اس طرح مَشق کریں گے تو سانس ٹوٹنے سے قَبل اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مکمّل گیارہ بار دُرُود شریف پڑھنے کی ترکیب بن جائے گی ۔ مذکورہ طریقے پر ناک سے گہرا سانس لیکر ممکن حد تک روک رکھنے کے بعد مُنہ سے خارِج کرنا صِحّت کیلئے انتہائی مفید ہے۔ دن بھر میں جب جب موقع ملے بِالخصُوص کُھلی فَضا میں روزانہ چند بار تو ایسا کر ہی لینا چاہئے۔ مجھے ( یعنی سگِ مدینہ عفی عنہ کو) ایک سِن رَسیدہ (یعنی بوڑھے) حکیم صاحِب نے بتا یا تھا کہ میں سانس لینے کے بعد آدھے گھنٹے تک ( یا کہا ) دو گھنٹے تک ہوا کو اندر روک لیتا ہوں اور اِس دَوران اپنے وِردو وَ ظائف بھی پڑھ سکتا ہوں ۔ بقول اُن حکیم صاحِب کے سانس روکنے کے ایسے ایسے مَشّاق (یعنی مَشق کر کے ماہِر ہو جانے والے لوگ) بھی دنیا میں ہوتے ہیں کہ صبح سانس لیتے ہیں تو شام کو نکالتے ہیں !
استِنْجا خانے مسجِد سے کِتنی دُور ہونے چاہئیں ؟
بارگاہِ رضوِیَّت میں سُوال ہوا کہ نَمازیوں کیلئے اِستِنجا خانیمسجِد سے کتنی دُور بنانے چاہئیں ؟ اِس پرمیرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے جو اباً ارشاد فرمایا: مسجِد کو بو سے بچانا واجِب ہے وَ لہٰذا مسجِد میں مِٹّی کا تیل جلانا حرام، مسجِدمیں دِیاسَلائی ( یعنی بد بودار بارُود والی ماچس کی تِیلی) سُلگانا حرام، حتّٰی کہ حدیث میں ارشاد ہوا: مسجِد میں کچّا گوشت لے جاناجائز نہیں۔ (اِبن ماجہ ج۱ ص۴۱۳ حدیث۷۴۸) حالانکہ کچّے گوشت کی بو بَہُت خَفِیف ( یعنی ہلکی ) ہے۔ تو جہاں سے مسجِد میں بو پہنچے وہاں تک ( اِستِنجا خانے بنانے کی) مُمانَعَت کی جائے گی۔ ( فتاوٰی رضویہج ۱۶ص ۲۳۲) کچّے گوشت کی بد بو ہلکی ہوتی ہے جب یہ بھی مسجِد میں لے جانا جائز نہیں تو کچّی مچھلی لے جانا بَدَرَجَۂ اَولیٰ ناجائز ہو گا کیوں کہ اس کی بو گوشت سے زیادہ تیز ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات پکانے والوں کی بے احتیاطی کے سبب اِس کا سالن کھانے سے ہاتھ اور مُنہ میں ناگوار بو ہو جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں بو دُورکئے بِغیر مسجِد میں نہ جا ئے۔ اِستِنجا خانوں کی جب صَفائی کی جاتی ہے اُس وَقت بد بو کافی پھیلتی ہے لہٰذا (اِستِنجاخانے اور مسجِد کے درمیان) اتنا فاصِلہ رکھنا ضَروری ہے کہ صَفائی کے موقع پر بھی بدبو مسجِد میں داخِل نہ ہو سکے۔ اِستِنجا خانے اِحاطۂ مسجِد میں کھلتے ہوں تو ضَرورتاً دیوار پاٹ کر باہَر کی جانب دروازے نکال کر بھی بدبو سے مسجِد کو بچایا جاسکتا ہے ۔
اپنے لباس وغیرہ پر غور کرنے کی عادت بنائیے
مسجِد میں بدبو لے جانا حرام ہے۔ نیز ہر طرح کے بدبو والے شخص کا داخِل ہونا بھی حرام ہے ۔ مسجِد میں کسی تنکے سے خِلال بھی نہ کریں کہ جو پابندی سے ہر کھانے کے بعد اِس کے عادی نہیں ہوتے خِلال کرنے سے ان کے دانتوں سے بد بو نکلتی ہے۔ مُعتَکِف فِنائے مسجِد میں بھی اتنی دُور دانتوں کا خِلال کرے کہ بدبو اصلِ مسجِد میں داخِل نہ ہو۔ بد بودار زَخم والا یا وہ مریض جس نے پیشاب یا پاخانے کی تھیلی (Stoolbag٭ Urine bag) لگائی ہوئی ہے وہ مسجِد میں داخِل نہ ہوں ۔ اسی طرح لیبارٹری ٹیسٹ کروانے کیلئے لی ہوئی خون یا پیشاب کی شیشی، ذَبیحہ کے بَوَقتِ ذَبح نکلے ہوئے خون سے آلود کپڑے وغیرہ کسی چیز میں چُھپا کر بھی مسجِد کے اندر نہیں لے جا سکتے چُنانچِہ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : مسجِد میں نَجاست لے کرجانا اگر چِہ اس سے مسجِد آلود ہ نہ ہو یا جس کے بدن پر نجاست لگی ہو اُس کو مسجِد میں جانا مَنع ہے۔ (رَدُّالْمُحتار ج۲ ص۵۱۷) مسجِد میں کسی برتن کے اندر پیشاب کرنا یا فَصد کا خون لینا (مَثَلاً ٹیسٹ کیلئے سِرِنج کے ذَرِیعے خون نکالنا) بھی جائز نہیں ۔ (دُرِّمُختارج۲ ص۵۱۷) پاک بدبو چُھپی ہوئی ہو جیسا کہ اکثر لوگوں کے بدن میں پسینے کی بد بو ہوتی ہے مگر لباس کے نیچے چُھپی ہوئی ہوتی ہے اور محسوس نہیں ہوتی تو اِس صورت میں مسجِد کے اندر جانے میں کوئی حَرَج نہیں ۔ اسی طرح اگر رومال میں پسینے وغیرہ کی بدبو ہے جیسا کہ گرمی میں منہ کا پسینہ پونچھنے سے اکثر ہو جاتی ہے تو ایسا رومال مسجِد کے اندر نہ نکالے ، جیب ہی میں رہنے دے، اگرعمامہ یا ٹوپی اُتارنے سے پسینے یامیل کُچیل وغیرہ کی بدبو آتی ہے تو مسجِد میں نہ اُتارے ۔ چُنانچِہ اِس کی مثال دیتے ہوئے مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ ہاں اگر کسی صورت سے مِٹی کے تیل کی بد بو اُڑادی جائے یا اِس طرح لیمپ