مسجدیں خوشبو دار رکھیئے

وغیرہ میں بند کیا جا ئے کہ اس کی بد بُو ظاہِر نہ ہو تو  (مسجِد میں )  جائز ہے۔  ‘‘   (فتاوٰی نعیمیہ ص۴۹)  ہرمسلمان کو اپنے مُنہ،  بدن،  رومال، لباس اور جو تی چپل وغیرہ پر غور کرتے رہنا چاہئے کہ اس میں کہیں سے بد بُو تو نہیں آ رہی اور ایسا مَیلا کُچَیلا لباس پہن کر بھی مسجِد میں نہ آئیں جس سے لوگوں کو گِھن آئے۔  افسوس !  دُنیوی افسروں وغیرہ کے پاس تو عمدہ لباس پہن کر جائیں اور اپنے پیارے پیارے پَرَوردگار عَزَّ وَجَلَّکے دربار میں حاضِری کے وَقت یعنی نَماز میں نَفاست ( صفائی اور پاکیزگی وغیرہ) کا کوئی اِہتِمام نہ کریں ۔   مسجِد میں آتے وقت انسان کم ازکم وہ لباس تو پہنے جو  دعوتوں میں پہن کر جاتا ہے۔   مگر اس بات کا خیال رکھئے کہ لباس شریعت و سنّت کے مطابِق ہو۔  

مسجِد میں بچّے کو لانے کی مُمانَعَت

            سرکارِ مدینہ،   سلطانِ باقرینہ ،  قرارِ قلب وسینہ ،  فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ با قرینہ ہے:  مسجدوں کو بچّوں اورپاگلوں اور خریدو فروخت اورجھگڑے اور آواز بلند کرنے اور حُدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ ۔    ( اِبن ماجہ ج ا ص ۴۱۵حدیث ۷۵۰)

                ایسا بچّہ جس سے نَجاست  (یعنی پیشاب وغیرہ کردینے)  کاخطرہ ہو اور پاگل کو مسجِدکے اندرلے جانا حرام ہے اگر نَجاست کا خطرہ نہ ہو تو مکروہ۔  جو  لوگ جو تیاں مسجِد کے اندر لے جاتے ہیں ان کو اِس کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر نَجاست لگی ہو تو صاف کرلیں اور جو  تا پہنے مسجد میں چلے جانا بے اَدَبی ہے۔   (رَدُّالْمُحتارج۲ص۵۱۸) بچّے یا پاگل  (یابے ہوش یا جس پر جِنّ آیا ہوا ہو اس)  کو دم کروانے کیلئے چاہے  ’’پمپَر‘‘  لگا ہو تب بھی مسجد میں لے جانے کی شریعت میں اجازت نہیں ۔   اگر آپ ایسوں کو مسجِدمیں لانے کی بھول کرچکے ہیں تو برائے کرم !فوراً توبہ کرکے آیَندہ نہ لانے کاعَہد کیجئے ۔   ہاں فِنائے مسجِد مَثَلاً امام صاحِب کے حُجرے میں لے جاسکتے ہیں جبکہ مسجِد کے اندر سے لیکر نہ گزرنا پڑے۔   

 گوشت ،  مچھلی بیچنے والے

            گوشت یا مچھلی بیچنے والے کے لباس میں سخت بدبو ہوتی ہے لہٰذاان کو چاہئے کہ فارِغ ہو کر اچّھی طرح نہائیں ،  صاف لباس زیبِ تن فرمائیں ،  خوشبو لگائیں اور پھر مسجِد میں آئیں ۔ نہانا اور خوشبو لگانا شَرط نہیں صِرف مشورۃً عرض کیا ہے،  کوئی بھی ایسی ترکیب کریں کہ بد بُو مکمَّل طور پر زائِل (یعنی دُور)  ہو جائے۔  

سونے  سے  منہ میں بدبو ہو جاتی ہے

            سوتے میں پیٹ کی گندی ہوائیں اُوپر کی طرف اٹھتی ہیں ،  لہٰذا بیدار ہونے پر منہ میں اکثر بدبُو ہوتی ہے۔  اِس ضِمن میں فتاوٰی رضویہ جلد 23 صَفْحَہ375 تا376 سے  ’’ سُوال جو اب ‘‘  مُلاحَظہ ہوں ۔  سُوال:  سونے سے اُٹھ کر آیۃُ الکرسی پڑھنا کیساہے؟  بعض اُستاد حُقّہ پیتے ہیں اور شاگرد کو  (قراٰن کریم)   پڑھاتے جاتے ہیں ۔ جو اب:  سونے سے اُٹھ کر ہاتھ دھوکر کُلّی کرلے اس کے بعد آیۃُ الکُرسی پڑھے،  اگر منہ میں حُقّے وغیرہ کی بدبُو ہو یا کوئی کھانے پینے کی چیز ہو تو بِغیر کُلّی کئے تِلاوت نہ کرے۔  جو  اُستاد ایسا کرتے ہیں بُرا کرتے ہیں ۔  واللّٰہُ تعالٰی اعلم۔  (فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۳۷۵، ۳۷۶) ہمارے معطّر معطّر آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وُجو دِ مسعود ہر وَقت مہکتا رہتا تھا، مزاجِ مُبارک میں نہایت نَفاست تھی ، مسواک سوتے وَقت سِرہانے رہتی، اٹھتے توسب سے پہلے مسواک کرتے۔  اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ سونے میں سرہانے مسواک رکھنا اور اُٹھ کر مسواک کرنا سنَّت ہوا۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب نیند سے بیدار ہوتے تو مِسواک کرتے تھے۔  ( ابوداوٗدج۱ص ۵۴ حدیث ۵۷)  

بعض غِذاؤں کی وجہ سے پسینے میں بدبُو

             بعض غِذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کے کھانے سے بدبو دارپسینہ آتا ہے ایسے اَفراد غذائیں تبدیل فرمائیں ۔  

مُنہ کی صفائی کا طریقہ

            جو مِسواک او ر کھانے کے بعد خِلال نہیں کرتے اور دانتوں کی صفائی کرنے میں سُست ہوتے ہیں اکثر اُن کے مُنہ بد بو دار ہوتے ہیں ۔ صِرف رَسمی طور پر مِسواک اور خِلال کا تنکا دانتوں سے مَس (TOUCH)  کر دینا کافی نہیں ہو تا۔   مسوڑھے زخمی نہ ہو ں اِس احتیاط کے ساتھ ممکنہ صورت میں غذا کا ایک ایک ذرّہ دانتوں سے نکالنا ہو گا ورنہ دانتوں کے در میان غِذائی اَجزا پڑے پڑے سڑتے اور سخت سَڑاند  (یعنی بدبُو)  کا باعِث بنتے رہیں گے ۔  دانتوں کی صفائی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کوئی چیز کھانے اور چائے وغیرہ پینے کے بعد اور اِس کے علاوہ بھی جب جب موقع ملے مَثَلاً بیٹھے بیٹھے کوئی کام کر رہے ہیں اُس وَقت پانی کا گُھونٹ منہ میں بھر لیں اورجُنبِشَیں دیتے رہیں یعنی ہِلاتے  رہیں ،  اِس طرح مُنہ کا کچرا اورمَیل کُچیل صاف ہوتا رہے گا ۔  سادہ پانی بھی چل جائے گا اور اگر نمک والا قابلِ برداشت گرم پانی ہو تو یہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بہترین  ’’ ماؤتھ واش‘‘  ثابِت ہو گا۔  

داڑھی کو بدبو سے بچائیے

 

Index