آقا کا مہینا

صَحابۂِ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا جذبہ

          حضرتِ سَیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :  ’’ شعبان کا چاند نظر آتے ہیصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تِلاوتِ قراٰنِ پاک کی طرف خوب مُتَوَجِّہ ہو جاتے،  اپنے اَموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ غربا ومساکین مسلمان ماہِ رَمضان کے روزوں کے لئے تیاری کرسکیں ،  حکام قیدیوں کوطَلَب کرکے جس پر  ’’حَد‘‘  (یعنی شرعی سزا)  جاری کرنا ہوتی اُس پر حَد قائم کرتے ، بَقِیّہ میں سے جن کو مناسب ہوتا اُنہیں آزاد کردیتے،  تاجر اپنے قرضے ادا کردیتے ،  دوسروں سے اپنے قرضے وصول کرلیتے۔     (یوں ماہ ِ رَمَضانُ الْمبارَک سے قبل ہی اپنے آپ کو فارِغ کر لیتے)  اور رَمضان شریف کا چاند نظر آتے ہی غسل کرکے  (بعض حضرات )  اعتکاف میں بیٹھ جاتے۔   ‘‘   (ایضاً ص ۳۴۱ )

موجودہ مُسلمانوں کا جذبہ

          سُبحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!   پہلے کے مسلمانوں کو عبادت کاکس قَدَرذَوق ہوتا تھا!    مگر افسوس!   آج کل کے مسلمانوں کو زیادہ تر حصولِ مال ہی کا شوق ہے۔    پہلے کے مَدَنی سوچ رکھنے والے مسلمان مُتَبرَّکایّام (یعنی برکت والے دنوں )  میں ربُّ الانام عَزَّ وَجَلَّ کی زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے اُس کا قرب حاصل کرنے کی کوششیں کرتے تھے اور آج کل کے مسلمان مُبارَک دنوں ،  خصوصاً ماہِ رَمَضانُ الْمُبَارَک میں دنیا کی ذلیل دولت کمانے کی نئی نئی ترکیبیں سوچتے ہیں ۔    اللہ عَزَّ وَجَلَّ ا پنے بندوں پر مہربان ہوکر نیکیوں کا اَجْر و ثواب خوب بڑھادیتا ہے،  لیکن دنیا کی دولت سے مَحَبَّت کرنے والے لوگ رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں اپنی  چیزوں کا بھاؤ بڑھا کر غریب مسلمانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کردیتے ہیں ۔   صد کروڑ افسوس!    خیرخواہیِٔ مسلمین کا جذبہ دم توڑتا نظرآ رہا ہے!      ؎

ا ے خاصۂِ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا ہے        اُمّت پہ تِری آکے عَجَب وَقْت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے         پردیس میں وہ آج غریبُ الغُرَبا ہے

فَریاد ہے اے کشتیِٔ اُمّت کے نگہباں

بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نفل روزوں کا پسندیدہ مہینا

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!    ہمارے دِلوں کے چین ، سرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا پسند فرماتے ۔    چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہبن ابی قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اُنہوں نے امُّ المؤمنین سَیِّدَتُنا عائِشہ صدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو فرماتے سنا:  انبیا کے سرتاج ،  صاحب معراج  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پسندیدہ مہینا شعبانُ المُعَظَّم تھا کہ اس میں روزے رکھا کرتے پھر اسے رَمَضانُ الْمُبارَک سے ملادیتے۔    (سُنَنِ ابوداوٗد ج۲ص۴۷۶حدیث۲۴۳۱)

لوگ اس سے غافل ہیں

حضرتِ سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  میں نے عرض کی:   یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں دیکھتا ہوں کہ جس طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شعبان میں روزے رکھتے ہیں اِس طرح کسی بھی مہینے میں نہیں رکھتے؟  فرمایا: رَجب اور رَمضان کے بیچ میں یہ مہینا ہے،  لوگ اِس سے غافل ہیں ، اِس میں لوگوں کے اَعمال اللہُ ربُّ العٰلَمین عَزَّوَجَلَّ کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں اور مجھے یہ محبوب ہے کہ میرا عمل اِس حال میں اُٹھایا جائے کہ میں روزہ دار ہوں ۔    (سُنَن نَسائی ص ۳۸۷حدیث ۲۳۵۴)  

 

Index