نبی حضرت سیِّدُنا داوٗد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے شعبان کی پندرہویں رات آسمان کی طرف نگاہ اُٹھائی اور فرمایا: یہ وہ وقت ہے کہ اس وَقت میں جس شخص نے جو بھی دُعا اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مانگی اُسکی دعا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قبول فرمائی اور جس نے مغفرت طلب کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسکی مغفرت فرمادی بشرطیکہ دُعا کرنے والا عشار (یعنی ظُلْماً ٹیکس لینے والا) ، جادوگر، کاہن اورباجا بجانے والا نہ ہو، پھر یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ رَبَّ دَاوٗدَ اغْفِرْ لِمَنْ دَعَاکَ فِیْ ہٰذِہٖ اللَّیْلَۃِ اَوِاسْتَغْفَرَکَ فِیْھَا۔ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اے دا وٗد کے پروردگار! جو اِس رات میں تجھ سے دُعا کرے یا مغفرت طلب کرے تو اُس کوبخش دے۔ (لَطائِفُ الْمَعارِف لابن رجب الحنبلی ج۱ ص۱۳۷باختصار)
ہر خطا تُو درگزر کر بیکس و مجبور کی
ہو الٰہی! مغفِرت ہر بیکس و مجبور کی (وسائلِ بخشش (مرمَّم) ص ۹۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شبِ بَرَاءَت بے حد اَہم رات ہے، کسی صورت سے بھی اسے غفلت میں نہ گزارا جائے، اِس رات رَحمتوں کی خوب برسات ہوتی ہے ۔ اِس مبارَک شب میں اللہ تبارَک وَتعالیٰ ’’بنی کلب ‘‘ کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو جہنَّم سے آزاد فرماتا ہے۔ کِتابوں میں لکھا ہے: ’’قبیلۂِ بنی کلب ‘‘ قبائلِ عرب میں سب سے زیادہ بکریاں پالتا تھا۔ ([1]) آہ ! کچھ بدنصیب ایسے بھی ہیں جن پر شبِ بَرَاءَت یعنی چھٹکارا پانے کی رات بھی نہ بخشے جانے کی وَعید ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا امام بیہقی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ’’فَضائِلُ الْاَوقات‘‘ میں نقل کرتے ہیں : رسولِ اکرم، نُورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: چھ آدمیوں کی اس رات بھی بخشش نہیں ہوگی: {۱} شراب کا عادی {۲}ماں باپ کا نافرمان {۳} زِناکا عادی {۴}قَطْع تعلق کرنے والا {۵}تصویر بنانے والا اور{۶}چغل خور۔ (فضائل الاوقات ج۱ص۱۳۰حدیث ۲۷) اِسی طرح کاہن ، جادوگر، تکبُّر کے ساتھ پاجامہ یا تہبندٹخنوں کے نیچے لٹکانے والے اور کسی
مسلمان سے بلا اجازت شرعی بغض و کینہ رکھنے والے پر بھی اِس رات مغفِرت کی سعادت سے محرومی کی وعید ہے، چنانچہ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ متذکرہ (یعنی بیان کردہ) گناہوں میں سے اگر مَعَاذَ اللہکسی گناہ میں ملوث ہوں تو وہ بالخصوص اُس گناہ سے اور بالعموم ہر گناہ سے شبِ بَرَاءت کے آنے سے پہلے بلکہ آج اور ابھی سچی توبہ کرلیں ، اور اگربندوں کی حق تلفیاں کی ہیں توتوبہ کے ساتھ ساتھ ان کی مُعافی تلافی کی ترکیب فرما لیں ۔
امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا پیام تمام مسلمانوں کے نام
میر ے آقا اعلٰی حضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت، ماحِیِ بِدعت، پیرِ طریقت، باعِثِ خَیْر وبَرَکت، حنفی مذہب کے عظیم عالِم و مفتی حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنے ایک اِرادتمند (یعنی معتقد) کو شبِ برائَ ت سے قبل توبہ اور مُعافی تلافی کے تعلق سے ایک مکتوب شریف ارسال فرمایا جو کہ اُس کی اِفادِیت کے پیش نظر حاضر خدمت ہے چنانچہ ’’ کُلِّیاتِ مکاتیب رضا ‘‘ جلد اوّلصَفْحَہ356 تا 357پر ہے : شبِ بَرَاءَت قریب ہے، اِس رات تمام بندوں کے اَعمال حضرتِ عزت میں پیش ہوتے ہیں ۔ مولا عَزَّ وَجَلَّ بطفیل حضورِ پر نور ،