آقا کا مہینا

مرنے والوں کی فہرس بنانے کا مہینا

            حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی:  یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا سب مہینوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ شعبان کے روزے رکھنا ہے؟  تو محبوبِ ربُّ العِباد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سال مرنے والی ہر جان کو لکھ دیتا ہے اور مجھے یہ پسند ہے کہ میرا وَقْتِ رخصت آئے اور میں روزہ دار ہوں ۔     (مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۴ص۲۷۷حدیث۴۸۹۰)

آقا شعبان کے اکثر روزے رکھتے تھے

            بخاری شریف میں ہے: حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہ رکھا کرتے بلکہ پورے شعبان ہی کے روزے رکھ لیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے:  اپنی اِستطاعت کے مطابق عمل کرو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس وَقْت تک اپنا فضل نہیں روکتا جب تک تم اکتا نہ جاؤ۔    (صَحیح بُخاری ج۱ص۶۴۸حدیث ۱۹۷۰)

حدیثِ پاک کی شرح

          شارِحِ بخاری حضرتِ عَلَّامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : مراد یہ ہے کہ شعبان میں اکثر دنوں میں روزہ رکھتے تھے اسے تَغْلِیباً (تَغ۔   لی۔   باًیعنی غلبے اور زِیادت کے لحاظ سے)   کل (یعنی سارے مہینے کے روزے رکھنے)  سے تعبیر کردیا ۔   جیسے کہتے ہیں :   ’’فلاں نے پوری رات عبادت کی‘‘   جب کہ اس نے رات میں کھانا بھی کھایا ہو اورضروریات سے فراغت بھی کی ہو،  یہاں تَغْلِیباًاکثرکو  ’’کل‘‘  کہہ دیا۔    مزید فرماتے ہیں :  اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ شعبان میں جسے قوت ہو وہ زیادہ سے زیادہ روزے رکھے ۔   البتہ جو کمزور ہو وہ روزہ نہ رکھے کیونکہ اس سے رَمضان کے روزوں پر اثر پڑے گا،  یہیمَحمَل  (مَح۔   مَل یعنی مرادو مقصد)  ہے اُن احادیث کا جن میں فرمایا گیا کہ نصف  (یعنی آدھے ) شعبان کے بعد روزہ نہ رکھو ۔    (تِرمذی حدیث ۷۳۸)     (نُزہۃُالقاری ج ۳ ص ۳۷۷ ،  ۳۸۰ )  

دعوتِ اسلامی میں روزوں کی بہاریں

    دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفْحات پر مشتمل کتاب ،     ’’فیضانِ سنَّت (جلد اوّل) ‘‘ صَفْحَہ1379پر ہے: حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیفرماتے ہیں :  مذکورہ حدیث ِ پاک میں پورے ماہِ  شَعْبانُ الْمُعَظَّم کے روزوں سے مراد اکثر  شَعْبانُ الْمُعَظَّم (یعنی مہینے کے آدھے سے زیادہ دنوں ) کے روزے ہیں ۔       (مُکاشَفَۃُ القُلُوب ص ۳۰۳) اگر کوئی پورے شَعْبانُ الْمُعَظَّم کے روزے رکھنا چاہے تو اُس کومُمانعت بھی نہیں ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّتبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،  دعوتِ اسلامی کے کئی اسلامی بھائی اور اسلامی بہنوں میں رَجَبُ الْمُرَجَّب اور شَعْبانُ الْمُعَظَّم دونوں مہینوں میں روزے رکھنے کی ترکیب ہوتی ہے اور مسلسل روزے رکھتے ہوئے یہ حضرات رَمَضانُ الْمُبارَکسے مل جاتے ہیں ۔    

شَعْبان کے اکثر روزے رکھنا سنّت ہے

          اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا رِوایت فرماتی ہیں :  حضورِ اکرم،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو میں نے شعبان سے زیادہ کسی مہینےمیں روزہ رکھتے نہ دیکھا۔   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سِوائے چند دِن کے پورے ہی ماہ کے روزے رکھا کرتے تھے۔    (سُنَنِ تِرمِذی ج۲ص۱۸۲حدیث۷۳۶)  

تِری سنّتوں پہ چل کر مِری روح جب نکل کر

 

Index