آقا کا مہینا

بدبختی ،  محرومی ،  ذلَّت اور رِز ق کی تنگی کو مٹادے اور اپنے پاس اُمُّ الْکِتابمیں مجھے خوش بخت،   (کشادہ)  رِزق دیاہوا اور بھلا ئیوں کی توفیق دیاہوا ثبت  (تحریر)  فرمادے ،  کہ تو نے ہی تیری نازِل کی ہوئی کِتاب میں تیرے ہی بھیجے ہوئے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زَبانِ فیض ترجمان پر فرمایا اور تیرا  (یہ) فرمانا حق ہے:  ’’ ترجَمۂ کنزالایمان:  اللہ جو چاہے مٹاتا ہے اور ثابِت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اُسی کے پاس ہے ۔   ‘‘ خدایا عَزَّ وَجَلَّ!    تَجلّیِ اعظم کے وسیلے سے جو نصفِ شَعْبَانُ الْمُکرَّم کی رات  (یعنی شبِ براء َت)  میں ہے کہ جس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام اور اٹل کر دیا جاتا ہے ۔    (یَااللہ! )  آفتوں   کوہم سے دور فرما کہ جنہیں ہم جانتے اور نہیں بھی جانتے جبکہ تو انہیں سب سے زیادہ جاننے والا ہے ۔   بے شک تو سب سے بڑھ کر عزیز اور عزت والا ہے ۔    اللہ تَعَالٰی ہمارے سردار محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آل واصحابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ پر دُرُودو سلام بھیجے ۔    سب خوبیاں سب جہانوں کے پالنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہیں ۔   

سگِ مدینہعُفِیَ عَنہٗ کی مَدَنی  التِجائیں

          اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!   سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہٗ  کا سا لہا سال سے شبِ بَرَاءَت میں بیان کردہ طریقے کے مطابِق چھ نَوافل وتلاوت وغیرہ کا معمول ہے۔    مغرب کے بعد کی جانے والی یہ عبادت نفل ہے،  فرض و واجب نہیں اورنمازِمغر ب کے بعد نوافِل وتلاوت کی شریعت میں کہیں مُما نعت بھی نہیں ۔    حضرتِعَلَّامہ اِبن رَجب حنبلی  (حَم۔   بَ۔   لی)  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں : ا ہلِ شام میں سے جلیل الْقدر تابعین مَثَلاً حضرتِ سیِّدُنا  خالِد بن مَعْدان ،  حضرتِ سیِّدُنا مَکْحُول،  حضرتِ سیِّدُنا لقمان بن عامر رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  وغیرہ   شبِ بَراءَ ت کی بہت تعظیم کرتے تھے اور اس میں خوب عبادت بجا لاتے،  انہی سے دیگر مسلمانوں نے اِس مبارک رات کی تعظیم سیکھی۔    (لَطائِفُ الْمَعارِفج۱ ص۱۴۵) فقہ حنفی کی معتبر کتاب،  ’’ دُرِّمُخْتار‘‘  میں ہے:   شبِ براءت میں شب بیداری (کر کے عبادت)  کرنا مستحب ہے ،   (پوری رات جاگنا ہی شب بیداری نہیں)  اکثر حصّے میں جاگنا بھی شب بیداری ہے۔     (دُرِّمُختارج۲ص۵۶۸،  بہارِ شریعت ج۱ص۶۷۹)    مَدَنی التجا : ممکن ہو تو تمام اسلامی بھائی اپنی اپنی مساجد میں بعدِ مغرِب چھ نوافل وغیرہ کا اہتمام فرمائیں اور ڈھیروں ثواب کمائیں ۔   اسلامی بہنیں اپنے اپنے گھر میں یہ اعمال بجا لائیں ۔     

سال بھر جادو سے حِفاظت

   دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ166 صفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’اسلامی زندَگی‘‘ صَفْحَہ135 پرہے: اگر اس رات (یعنی شبِ براء َت)   سات پتے بیری  (یعنی بیر کے دَرخت )  کے پانی میں جوش د ے کر  (جب پانی نہانے کے قابل ہو جائے تو )   غسل کرے اِنْ شَآءَاللہُ الْعَزِیْز  تمام سا ل جادو کے اثر سے محفوظ رہے گا۔   

شبِ بَرَاءَ ت اور قبروں کی زیارت

   امُّ المؤمِنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : میں نے ایک رات سرورِ کائنات،  شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو نہ دیکھا تو بقیع پاک میں مجھے مل گئے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے فرمایا :  کیا تمہیں اس بات کا ڈر تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہاری حق تلفی کریں گے؟  میں نے عرض کی:  یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!    میں نے خیال کیا تھا کہ شاید آپ اَزواجِ مطہرات   (مُ۔   طَہْ۔   ہَرات)  میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے۔    تو فرمایا:  ’’بیشک اللہ تَعَالٰی شعبان کی

Index