چلے تو گلے لگانا مَدَنی مدینے والے (وسائلِ بخشش (مُرَمَّم) ص۴۲۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بھلائیوں والی راتیں
اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : میں نے نبیِّ کریم، رء وفٌ رَّحیم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالتَّسْلِيْم کو فرماتے سنا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ (خاص طور پر) چار راتوں میں بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے: {۱} بقر عید کی رات {۲} عیدُ الفطر کی (چاند) رات {۳} شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رِزق اور (اِس سال) حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں {۴} عرفے کی (یعنی 8اور9 ذُوالحجّہ کی درمیانی) رات اذانِ (فجر) تک۔ (تفسیردُرِّ مَنثور ج ۷ ص ۴۰۲)
نازُک فیصلے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پندرہ شَعْبانُ الْمُعَظّم کی رات کتنی نازُک ہے! نہ جانے کس کی قسْمت میں کیا لکھ دیا جائے! بعض اوقات بندہ غفْلت میں پڑا رَہ جاتا ہے اور اُس کے بارے میں کچھ کا کچھ ہوچکا ہوتا ہے ۔ ’’غُنْیَۃُ الطّالِبِین‘‘ میں ہے: بہت سے کَفن دُھل کر تیار رکھے ہوتے ہیں مگرکفن پہننے والے بازاروں میں گھوم پھر رہے ہوتے ہیں ، کافی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کی قبریں کھودی جا چکی ہوتی ہیں مگر اُن میں دَفْن ہونے والے خوشیوں میں مَسْت ہوتے ہیں ، بعض لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں حالانکہ اُن کی موت کا وَقت قریب آچکا ہوتا ہے۔ کئی مکانات کی تعمیر ات کا کام پورا ہو گیا ہوتا ہے مگر ساتھ ہی ان کے مالکان کی زندگی کا وَقت بھی پورا ہوچکا ہوتا ہے۔ (غُنْیَۃُ الطّا لِبین ج۱ص۳۴۸ )
آگاہ اپنی موت سے کوئی بَشَر نہیں
سامان سو برس کا ہے پَل کی خبر نہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ڈھیروں گناہگاروں کی مغفِرت ہوتی ہے مگر۔ ۔ ۔
حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے رِوایت ہے، حضور سراپا نور ، فیض گنجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: میرے پاس جبرئیل (عَلَیْہِ السَّلَام) آئے اور کہا : شعبان کی پندرَہویں رات ہے، اس میں اللہ تَعَالٰیجہنَّم سے اِتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کَلْب کی بکریوں کے بال ہیں مگرکافراور عداوت والے اور رِشتہ کاٹنے والے اورکپڑا لٹکانے والے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نظر رَحمت نہیں فرماتا۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۳ص۳۸۴ حدیث ۳۸۳۷) (حدیثِ پاک میں ’’ کپڑا لٹکانے والے‘‘ کا جو بیان ہے، اِس سے مراد وہ لو گ ہیں جو تکبُّر کے ساتھ ٹَخنوں کے نیچے تہبند یا پاجامہ یا ثَوب یعنی لمبا کرتا وغیرہ لٹکاتے ہیں ) کروڑوں حنبلیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُناامام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ اِبنِ عَمْر و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے جورِوایت نَقْل کی اُس میں قاتل کا بھی ذِکْر ہے ۔ (مُسندِ اِمام احمد ج ۲ ص ۵۸۹ حدیث ۶۶۵۳)
حضرتِ سَیِّدُنا کثیربن مرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، سراپا رَحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ شعبان کی پندرَہویں شب میں تمام زمین والوں کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور عداوت والے کے۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج ۳ ص ۳۸۱ حدیث۳۸۳۰)
حضرتِ داوٗد عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا
امیرُ الْمؤمنین حضرت مولیٰ مشکل کُشا، سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ شیرخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم شَعْبانُ الْمُعَظّم کی پندرہویں رات یعنی شبِ براءَت میں اکثر باہر تشریف لاتے۔ ایک بار اِسی طرح شبِ براءَ ت میں باہر تشریف لائے اور آسمان کی طرف نَظَر اُٹھا کر فرمایا: ایک مرتبہ اللہ تَعَالٰی کے