بخش دے ربِّ محمد تو مری ہر اک خطا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شبِ براء َت میں عبادت کا جذبہ بڑھانے، اِس مقدّس رات میں خود کو آتَش بازی اور دیگر گناہوں سے بچانے نیز اپنے آپ کو باکردار مسلمان بنانے کیلئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے ، ہرماہ کم از کم تین دن کے لئے عاشقانِ رسول کے ہمراہ ’’ مَدَنی قافِلے‘‘ میں سنّتوں بھرا سفر اختیار کیجئے اور مَدَنی انعامات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشِش فرمایئے۔ آپ کی ترغیب و تحریص کیلئے دو مَدَنی بہاریں پیش کی جاتی ہیں :
{1}شبِ بَراءَ ت کے اجتِما ع سے میرا دل چوٹ کھا گیا
مرکزالاولیا (لاہور) کے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکالب لباب ہے: تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے ’’مدنی ماحول‘‘ سے وابستہ ہونے سے پہلے مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ زیادہ تربدمذہبوں کی صحبت میں رہنے کے بہت بڑے گناہ کے ساتھ ساتھ دیگر طرح طرح کے گناہوں کی خوفناک دلدل میں بھی پھنساہواتھا، صدکروڑ افسوس کہ شب و روز فلمیں ڈرامے دیکھنا ، فحاشی کے اَڈوں کے پھیرے لگانا میرے نزدیک مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ قابلِ فخر کام تھا ۔ میری گناہوں بھری خزاں رسیدہ شام کے اِختتام اور نیکیوں بھری صبح بہاراں کے آغازکے اسباب یوں بنے کہ ایک اسلامی بھائی کی اِنفرادی کوشش کی بَرَکت سے مجھے ’’ہِنجر وال‘‘ میں شبِ براءَ ت کے سلسلے میں ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہو گئی۔ مبلِّغ دعوتِ اسلامی کابیان اس قَدَرپرسوزاوررِقت انگیزتھاکہ میں اپنے گناہوں پر ندامت سے پانی پانی ہو گیا ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کا کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کے دھارے بہ نکلے۔ اجتماع کے اختتام پرہمارے عَلاقے کے ’’مدنی قافِلہ ذمے دار‘‘ اسلامی بھائی نے مجھ سے ملاقات فرمائی اور مجھے تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کی ترغیب دی، چونکہ دل چوٹ کھاچکاتھا لہٰذا میں ان کی اِنفرادی کوشش کے نتیجے میں مَدَنی قافلے کا مسافِربن گیا۔ مَدَنی قافلے کے اندر عاشقانِ رسول کی شفقتوں بھری صحبت میں رہ کر بے شمار سنتیں سیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمیں نے اپنے سابقہ تمام گناہوں سے توبہ کرلی۔ جب رَمَضانُ المبارَک کی تشریف آوَری ہوئی تومیں نے عاشقانِ رسول کے ساتھ آخری عشرے کے اعتکاف کی سعادت حاصل کی۔ اُس اعتکاف میں ستائیسویں شب ایک خوش نصیب اسلامی بھائی کو اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سرکارِ دو عالم، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت نصیب ہوئی، اس بات نے میرے دل میں دعوتِ اسلامی کیمَحَبَّت کومزید 12 چاند لگا دیئے اور میں مکمل طور پردعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔
آؤ کرنے لگو گے بَہُت نیک کام، مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف
فضلِ رب سے ہو دیدارِ سلطانِ دیں ، مدنی ماحول میں کر لوتم اعتکاف
شا دمانی سے جھومے گا قلبِ حزیں ،
مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف (وسائلِ بخشش (مُرَمَّم) ص ۶۴۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{2}فلموں کا خوار