آقا کا مہینا

عَبْدِالْعَزِیْز‘‘  یعنی خدائے مالک وغالب کی طرف سے یہ  ’’جہنَّم کی آگ سے آزادی کا پروانہ‘‘ ہے جو اُس کے بندے عمر بن عبد العزیز کو عطا ہوا ہے۔     (تفسیر رُوحُ البَیان ج۸ص۴۰۲)

                        سُبحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!    اِس حکایت میں جہاں اَمیرُ المُؤمنین سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی عظمت وفضیلت کا اظہار ہے وَہیں شبِ بَراءَ ت کی رِفعت و شرافت کا بھی ظہور ہے۔    اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّیہ مُبارَک شب جہنَّم کی بھڑکتی آگ سے بَرَاءَت  (بَر۔   ا۔   ء۔   ت یعنی چھٹکارا)  پانے کی رات ہے،  اِسی لئے اِس رات کو ’’شبِ بَرَاءَ ت ‘‘   کہا جاتا ہے۔   

مغرِب کے بعد چھ نوافِل

            معمولاتِ اولیا ئے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  سے ہے کہ مغرب کے فرض وسنَّت وغیرہ کے بعد چھ رَکعت نفل (نَفْ۔   لْ)  دو دو رَکعت کر کے ادا کئے جائیں ۔   پہلی دو رَکعتوں سے پہلے یہ نیت کیجئے:  ’’ یَااللہ عَزَّ وَجَلَّان دورَکعتوں کی بر کت سے مجھے درازیِ عمر بالخیر عطا فرما ۔    ‘‘ دوسری دو رَکعتوں میں یہ نیت فرمایئے: ’’یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ ان دو رکعتوں کی بَرکت سے بلاؤں سے میری حفاظت فرما۔  ‘‘  تیسری دو رَکعتوں کیلئے یہ نیت کیجئے:  ’’ یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ ان دو رَکعتوں کی بر کت سے مجھے اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کر۔   ‘‘ ان 6رَکعتوں میں سُوْرَۃُ  الْفَاتِحَہ کے بعد جو چاہیں وہ سورَتیں پڑھ سکتے ہیں ، چاہیں تو ہر رَکعت  (رَکْ ۔   عَت)  میں سُوْرَۃُ  الْفَاتِحَہ کے بعد تین تین بار سُوْرَۃُ  الْاِخْلَاص  پڑھ لیجئے۔    ہر دو رَکعت کے بعداِکیس بار قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ  (پوری سورت) یا ایک بار سُوْرَۂ یٰسٓ شریف پڑھئے بلکہ ہو سکے تو دونوں ہی پڑھ لیجئے۔   یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک اسلامی بھائی بلند آواز سے یٰسٓشریف پڑھیں اور دوسرے خاموشی سے خوب کان لگا کر سنیں ۔    اس میں یہ خیال رہے کہ سننے والا اِس دَوران زَبان سے یٰسٓشریف بلکہ کچھ بھی نہ پڑھے اور یہ مسئلہ خوب یاد رکھئے کہ جب قراٰنِ کریم بلند آواز سے پڑھا جائے تو جو لوگ سننے کیلئے حاضر ہیں اُن پر فرضِ عین ہے کہ چپ چاپ خوب کان لگا کر سُنیں ۔   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّرات شروع ہوتے ہی ثواب کا اَنبار (اَمْ۔   بار) لگ جائے گا۔    ہر بار یٰسٓشریف کے بعد ’’ دُعائے نصف شعبان ‘‘ بھی پڑھئے۔    

دُعائے نصفِ شَعبانُ المُعظَّم

اَلْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ  ؕ    بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ

اَللّٰہُمَّ يَا ذَا الْمَنِّ وَلَا يُمَنُّ عَلَيْهِط يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ ط

يَا ذَا الطَّوْلِ وَالْاِنْعَامِ ط لَآاِلٰهَ اِلَّا اَنْتَط ظَهْرُ اللَّاجِيْنَطوَجَارُ الْمُسْتَجِيْرِيْنَط وَاَمَانُ الْخَآئِفِيْنَط اَللّٰہُمَّ اِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِيْ عِنْدَكَ فِيْ اُمِّ الْكِتٰبِ شَقِيًّا اَوْمَحْرُوْمًااَوْمَطْرُوْداًاَوْمُقَتَّرًا عَلَيَّ فِی الرِّزْقِ فَامْحُ اللّٰہُمَّ بِفَضْلِکَ شَقَاوَتِیْ وَحِرْمَانِيْ وَطَرْدِیْ وَاقْتِتَارَ رِزْقِیْط وَاَثْبِتْنِيْ عِنْدَكَ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ سَعِیْدًا مَّرْزُوْقًا مُّوَفَّقًالِّلْخَیْرَاتِطفَاِنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ فِيْ كِتَابِكَ الْمُنَزَّلِطعَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکَ الْمُرْسَلِط (یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ (۳۹)) (پارہ13،  الرعد: 39) ،   اِلٰہِیْ بِالتَّجَلِّی الْاَعْظَمِط فِيْ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَہْرِ شَعْبَانَ الْمُکَّرَمِطاَلَّتِیْ یُفْرَقُ فِیْہَا کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ وَّیُبْرَمُطاَنْ تَکْشِفَ عَنَّا مِنَ الْبَلَاءِ وَالْبَلْوَاءِ مَا نَعْلَمُ وَمَا لَا نَعْلَمُط  وَاَنْتَ بِہٖ اَعْلَمُطاِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُط وَصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَسَلَّمَطوَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَO

ترجمہ:  اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!     اے احسان کر نے والے کہ جس پر اِحسان نہیں کیا جاتا !    اے بڑی شان و شوکت والے!    اے فضل واِنعام والے !    تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔    تو پریشان حالوں کا مدد گار،  پناہ مانگنے والوں کوپناہ اورخوفزدوں کو امان دینے والا ہے ۔    اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!    اگرتو اپنے یہاں اُمُّ الکتاب  (یعنی لوحِ محفوظ )  میں مجھے شقی  (یعنی بد بخت)  ،   محروم ،  دھتکارا ہوا اور رِزق میں تنگی دیاہوا لکھ چکا ہوتو اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!   اپنے فضل سے میری

Index