پندرَہویں رات آسمانِ دُنیا پر تجلی فرماتا ہے ، پس قبیلۂ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ گنہگاروں کو بخش دیتا ہے۔ ‘‘ (سُنَنِ تِرمِذی ج ۲ ص ۱۸۳ حدیث ۷۳۹ )
آتَشبازی کا مُوْجِد کون؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّشبِ براءَت جہنَّم کی آگ سے ’’بَراءَت‘‘ یعنی چھٹکارا پانے کی رات ہے، مگرصد کروڑ افسوس! مسلمانوں کی ایک تعداد آگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے خودپیسے خرچ کرکے اپنے لئے آگ یعنی آتشبازِی کاسامان خریدتی اور خوب پٹاخے وغیرہ چھوڑ کر اِس مقَدّس رات کا تقدُّس پامال کرتی ہے ۔ مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اپنی مختصر کتاب ’’ اسلامی زندگی‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’اس رات کو گناہ میں گزارنا بڑی محرومی کی بات ہے آتشبازی کے متعلق مشہور یہ ہے کہ یہ نمرود بادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اس نے حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کوآگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تو اُس کے آدمیوں نے آگ کے اَنار بھر کر ان میں آگ لگا کر حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف پھینکے۔ ‘‘ (اسلامی زندگی ص۷۶)
شبِ براء ت کی مُرَوَّجہ آتشبازی حرام ہے
افسوس! شبِ براء ت میں ’’آتَشبازی‘‘ کی ناپاک رسم اب مسلمانوں کے اندر زور پکڑتی جارہی ہے۔ ’’ اسلامی زندگی ‘‘ میں ہے: مسلمانوں کالاکھوں روپیہ سالانہ اس رسم میں برباد ہو جاتا ہے اور ہر سال خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ اِتنے گھر آتَشبازی سے جَل گئے اور اتنے آدمی جل کرمر گئے۔ اس میں جان کا خطرہ، مال کی بربادی اورمکانوں میں آگ لگنے کا اندیشہ ہے، (نیز) اپنے مال میں اپنے ہاتھ سے آگ لگانا اور پھر خدا تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال سر پر ڈالنا ہے، خد ا عَزَّ وَجَلَّ کیلئے اس بیہودہ اور حرام کام سے بچو، اپنے بچّوں اورقرابت داروں کو روکو، جہاں آوارہ بچے یہ کھیل کھیل رہے ہوں وہاں تماشا دیکھنے کیلئے بھی نہ جاؤ۔ (اَیضاً ) (شبِ براءَت کی مُرَوَّجہ) آتش بازی کا چھوڑنا بلاشک اِسراف اور فضول خرچی ہے لہٰذا اِس کا ناجائز وحرام ہونا اور اسی طرح آتش بازی کابنانا اور بیچنا خریدنا سب شرعاًممنوع ہیں۔ (فتاوی اجملیہ ج۴ص۵۲) میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : آتشبازی جس طرح شادیوں اور شبِ براء َت میں رائج ہے بیشک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضییع مال ( تض۔ یی ۔ عِ۔ مال یعنی مال کا ضائِع کرنا) ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۲۷۹)
شبِ براءَت میں جو آتش بازی چھوڑی جاتی ہے اُس کا مقصد کھیل کود اور تفریح ہوتا ہے لہٰذا یہ گناہ و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ البتّہ اِس کی بعض جائز صورَتیں بھی ہیں جیسا کہ بارگاہ ِ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں سُوال ہوا: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ آتَشبازی بنانا اور چھوڑنا حرام ہے یا نہیں؟ الجواب: ممنوع وگناہ ہے مگر جو صورتِ خاصّہ لَہْو ولَعِب وتَبْذِیرواِسراف سے خالی ہو (یعنی اُن مخصوص صورتوں میں جائز ہے جو کھیل کود اورفضول خرچی سے خالی ہو) ، جیسے اعلانِ ہِلال (یعنی چاند نظر آنے کا اعلان) یا جنگل میں یا وقتِ حاجت شہر میں بھی د فعِ جانورانِ موذی (یعنی ایذا دینے والے جانوروں کو بھگانے کیلئے) یاکھیت یا میوے کے درختوں سے جانوروں (اور پرندوں ) کے بھگانے اُڑانے کو ناڑِیاں ، پَٹاخے، تُو مڑیاں چھوڑنا۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۲۹۰)
تجھ کو شعبانِ معظَّم کا خدایا واسِطہ