کتّا ہو کر بھی ایثار کا جذبہ رکھتا ہوں ، مجھے حقیر سمجھ کر دھتکارنے والو! تم تو ذرا ایثار کر کے دکھائو۔ افسوس ! ہماری حالت بہت پتلی ہو گئی ہے ورنہ ہمارے اسلاف ایسے نہ تھے ، وہ تو دنیا سے جاتے جاتے بھی ایثار کے نقوش چھوڑ جاتے تھے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : یرموک کی جنگ میں بَہُت سے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان شہید ہوگئے ۔ میں پانی ہاتھ میں لئے زخمیوں میں اپنے چچا زاد بھائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو تلا ش کر رہاتھا ، آخِر اُسے پالیا ، وہ دم توڑ رہے تھے، میں نے پوچھا : اے ابنِ عَم! یعنی اے چچا زاد بھائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآپ پانی نوش فرمائیں گے ؟ کپکپاتی ہوئی آواز میں آہِستہ سے کہا: جی ہاں ۔ اتنے میں کسی کے کَراہنے کی آواز آئی ، جاں بَلَب چچازادبھائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اشارے سے فرمایا: پہلے اُس زخمی کو پانی پلا دیجئے ۔ میں نے دیکھا وہ حضرتِ ہِشام بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے، اُن کی سانس اُکَھڑ رہی تھی میں انہیں پانی کیلئے پوچھ ہی رہا تھا کہ قریب ہی کسی نے آہِ سرددل پُر درد سے کھینچی ۔ حضرتِ ہِشام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: پہلے اُن کو پلائیے، میں جب اُن زخمی کے قریب پہنچا تو ان کو میرا پانی پینے کی حاجت نہ رہی تھی کیوں کہ وہ شہادت کا جام پی چکے تھے ۔ میں فوراًحضرتِ ہِشام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف لپکامگر وہ بھی شہیدہوچکے تھے ۔ پھر میں اپنے چچا زاد بھائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف پہنچا تو وہ بھی شہادت پاچکے تھے ۔رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن۔ (کیمیائے سعادت ج۲ ص ۸ ۴ ۶) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ہمارے صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوان کا جذبۂ ایثار! اللہ! اللہ! دم لبوں پر ہے مگر ہر ایک کی یِہی آرزو ہے کہ مجھے پانی ملے یا نہ ملے بس میرا اسلامی بھائی سیراب ہوجائے اوراسی طرح ایک دوسرے پر پانی کا ایثار کرتے ہوئے تینوں پانی پینے کے بدلے شہادت کا جام نوش کرجاتے ہیں ۔
پانی کا ایثار کرنے والا جنَّتی ہو گیا
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 404 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ ضیائے صَدَقات ‘‘ صَفْحَہ260پر ہے: حضرت ِسیِّدُنااَنس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے، آقائے مظلوم، سرورِمعصوم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: دو شخص صحرا سے گزر رہے تھے ، ان میں ایک عبادت گزار تھا جبکہ دوسرا گنہگار، تو عابد (یعنی عبادت گزار) کو پیاس لگی یہاں تک کہ وہ شدّتِ پیاس سے گر پڑا تو اس کے ساتھی نے اسے دیکھا کہ وہ بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہوا ہے، اُس نے سوچا کہ ’’ اگر یہ نیک بندہ مرگیا حالانکہ میرے پاس پانی بھی ہے، تو اللہ تَعَالٰیکی طرف سے میں کبھی بھلائی نہ پا سکو ں گا، اور اگر میں نے اس کو پانی پلادیا تو میں مرجائوں گا۔ ‘‘ بَہَرحال اُس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کیا اور (اس عابِدکی مدد کا) ارادہ کیا کچھ پانی اس پر چِھڑکا باقی اُسے پلادیا تو وہ کھڑا ہوگیا اور (دونوں نے) صَحراطے کرلیا۔ (مرنے کے بعد جب ) گنہگار کا حساب ہوگا تو اُسے جہنَّم کا حکم سُنا دیا جائے گا۔ اُسے فِرِشتے لے کر چلیں گے ، اُسی لمحے اُس کی نظر (اُسی) نیک بندے پر پڑے گی، وہ کہے گا: اے فُلاں ! کیا تو نے مجھے پہچانا؟ تو وہ (عابد) کہے گا: تو کون ہے؟ کہے گا : میں وُہی ہوں جس نے بِیابان والے دن تیری جان بچائی تھی! تو وہ کہے گا: ہاں ہاں پہچان گیا ۔تو وہ نیک بندہ فِرِشتوں سے کہے گا: ٹھہرو! تو وہ ٹھہرجائیں گے۔ پھر رب تعالٰی سے دُعا کرے گا، عرض کرے گا: اے پروردگار! تُو اُس شخص کا مجھ پر احسان جانتا ہے، کیسے اس نے میری جان بچائی تھی! اے رب! اس کا مُعامَلہ (مُ۔عا۔مَ۔لَہ) مجھے سونپ دے۔ تواللہ تَعَالٰیفرمائے گا وہ تیرے حوالے، پھر وہ نیک بندہ آئے گا اور اپنے (پانی پلا نے والے) بھائی کا ہاتھ پکڑ کر جنَّت میں لے جائے گا۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۲ص۱۶۷حدیث ۶ ۰ ۹ ۲)
ایک اسلامی بہن کے ساتھ پیش آنے والی ایک مَدَنی بہار مختصراً عرضِ خدمت ہے: بمبئی کے ایک عَلاقے میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی طرف سے اسلامی بہنوں کے ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع ( پیر شریف۲۲ صفرُالمظفَّر ۱۴۲۸ھ بمطابق 12.3.2007 ) کے اختِتام پر ایک ذمّے دار اسلامی بہن کے پاس کسی نئی اسلامی بہن نے اپنی چپّل کی گُمشُدَگی کی شکایت کی۔ ذمّے دار اسلامی بہن نے انفِرادی کوشش کرتے ہوئے اُسے اپنی چپّل کی پیش کش کی۔ وہاں موجود ایک دوسری اسلامی بہن جن کو مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوئے ابھی تقریباً سات ہی ماہ ہوئے تھے، اُس نے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہوئے کہ ’’ کیا دعوتِ اسلامی کی خاطِر میں اتنی قربانی بھی نہیں دے سکتی! ‘‘ بِاِصرار اپنی چپّلیں پیش کر کے اُس نئی اسلامی بہن کوقَبول کرنے پر مجبور کر دیا اور خودپابَرَہْنہ (یعنی ننگے پاؤں ) گھر چلی گئی۔ رات جب سوئی تو اُس کی قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ! کیا دیکھتی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنا چاند سا چِہرہ چمکاتے ہوئے جلوہ فرما ہیں ، نیز ایک مُعَمَّر (مُ۔عَمْ۔مَر) مبلِّغ دعوتِ اسلامی سر پر سبز سبزعمامہ شریف سجائے قدموں میں حاضِر ہیں ۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لبہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی ، رَحمت کے پھول جَھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: چَپَّل ایثار کرتے وَقت تمہاری زَبان سے نکلے ہوئے الفاظ ’’ کیا دعوتِ اسلامی کی خاطِر میں اِتنی قربانی بھی نہیں دے سکتی! ‘‘ ہمیں بَہُت پسند آئے۔ (علاوہ ازیں بھی حوصلہ افزائی فرمائی )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! دعوتِ اسلامی کے ’’ مَدَنی ماحول ‘‘ میں ’’ ایثار ‘‘ کی بھی کیا خوب مَدَنی بہار ہے! نیز ایثار کی فضیلت کے بھی کیا ہی انوار ہیں ! دوجہاں کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ پُر بہارہے: ’’ جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُس خواہش کو روک کر اپنے اوپر (دوسرے کو) ترجیح دے، تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بخش دیتا ہے۔ ‘‘ (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج۹ ص ۷۷۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کیا آپ اپنی آخِرت کی بہتری کی خاطِر مَدَنی قا فلے میں سفر کیلئے ہر ماہ صرف تین دن کی قربانی نہیں دے سکتے؟ مقامِ غور ہے! کیا دعوتِ ا سلا می کی خاطر اتنی قربانی بھی نہیں دے سکتے؟