مدینے کی مچھلی

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں

اے دعوتِ اسلامی تری دھوم مچی ہو

          یاربِّ مصطَفٰے!   ہمیں خوش دلی اور اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ خوب خوب ایثار کرنے کی توفیق مرحمت فرما اورہمیں مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں زیرِ گنبدِ خَضرا شہادت،  جنَّتُ البقیع میں مدفن اور جنَّتُ الفردوس میں بے حساب داخِلہ عنایت کر اور اپنے مَدَنی حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے پڑوس میں جگہ عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل

نام غَفّار ہے ترا یا رب

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ،  شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ،  مصطَفٰے جانِ رَحمت، شَمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ جنت نشان ہے:  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔   (اِبنِ عَساکِر ج۹ ص۳۴۳)

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا

جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  ’’ مَدَنی حُلیہ اپناؤ ‘‘  کے چودہ حُرُوف کی نسبت سے لباس  کے 14 مَدَنی پھول

پہلیتین فرامینِمصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ملاحَظہ ہوں :  ٭ جنّ کی آنکھوں اورلوگوں کے سِتْرکے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی کپڑے اُتارے تو  بِسْمِ اللّٰہکہہ لے۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۲ص۵۹حدیث ۲۵۰۴)  مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان فرماتے ہیں :  جیسے دیوار اور پردے لوگوں کی نگاہ کیلئے آڑ بنتے ہیں ایسے ہی یہ اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ) کا ذِکر جنّات کی نگاہوں سے آڑ بنے گا کہ جنّات اس کو  (یعنی شرمگاہ ) دیکھ نہ سکیں گے (مراٰۃ ج۱ ص ۲۶۸ )    ٭ جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے :  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِحَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ  ([1])   تواس کے اگلے پچھلے گناہ مُعاف ہوجائیں گے۔ (ابوداوٗد ج۴ ص۵۹حدیث ۴۰۲۳)  ٭ جو باوُجُودِ قدرت اچّھے کپڑے پہننا تواضُع (یعنی عاجِزی)  کے طور پر چھوڑ دے ،   اللہ تَعَالٰی اس کو کرامت کا حُلّہ پہنائے گا (اَیضاً ص۳۲۶حدیث ۴۷۷۸)  ٭ خاتَمُ الْمُرْسَلین،  رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مبارَک لباس اکثر سفید کپڑے کا ہوتا (کَشْفُ الاِلْتِباس فِی اسْتِحْبابِ اللِّباس لِلشَّیْخ عبدالْحَقّ الدّھلَوی ص۳۶)  ٭ لباس حلال کمائی سے ہو اور جو لباس حرام کمائی سے حاصل ہوا ہو،  اس میں فرض ونَفل کوئی نَماز قَبول نہیں ہوتی۔ ( اَیضاً ۱ ۴ )   ٭ مَنْقُول ہے:  جس نے بیٹھ کر عمامہ باندھا ، یا کھڑے ہو کرسَراوِیل  (یعنی پا جا مہ یا شلوار )  پہنی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اُسے ایسے مَرَض میں مبتَلا فرمائے گا جس کی دواء نہیں ۔ (اَیضاً ص ۳۹)  ٭  پہنتے وَقت سیدھی طرف سے شُروع کیجئے (کہ سنّت ہے)  مَثَلاً جب کُرتا پہنیں تو پہلے سیدھی آستین میں سیدھا ہاتھ داخل کیجئے پھر اُلٹا ہاتھ اُلٹی آستین میں  (اَیضاً۴۳)   ٭  اِسی طرح پاجامہ پہننے میں پہلے سیدھے پائنچے میں سیدھا پاؤں داخِل کیجئے اور جب (کُرتا یا پاجامہ)  اُتارنے لگیں تو اس کے برعکس  (اُلٹ)  کیجئے یعنی اُلٹی طرف سے شُروع کیجئے  ٭ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ بہارِ شریعت ‘‘ جلد  3صَفْحَہ 409پر ہے: سنّت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پَورَوں تک اور چوڑائی ایک بالِشت ہو  (رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۵۷۹)   ٭   سنّت یہ ہے کہ مرد کا تہبند یا پاجامہ ٹخنے سے اُوپر رہے (مراٰۃ ج۶ص۹۴)   ٭ مرد مردانہ اور عورت زَنانہ ہی لباس پہنے۔چھوٹے بچّوں اور بچیوں میں بھی اِس بات کا لحاظ رکھئے  ٭  دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ بہارِ شریعت ‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 481پر ہے: مرد کے لیے ناف کے نیچے سےگھٹنوں کے نیچے تک  ’’  عورَت  ‘‘  ہے،  یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ ناف اس میں داخِل نہیں اور گھٹنے داخِل ہیں ۔ (دُرِّمُختار،  رَدُّالْمُحتار ج۲ص۹۳)   اس زمانے میں بَہُتَیرے ایسے ہیں کہ تہبند یا پاجامہ اِس طرح پہنتے ہیں کہ پَیڑُو (یعنی ناف کے نیچے)  کا کچھ حصّہ کُھلا رہتا ہے،  اگر کُرتے وغیرہ سے اِس طرح چھپا ہو کہ جِلد (یعنی کھال)  کی رنگت نہ چمکے تو خیر،  ورنہ حرام ہے اورنَمازمیں چوتھائی کی مِقدارکُھلا رہا تونَماز نہ ہوگی۔ (بہار شریعت) خُصوصاً حج و عمرے کے اِحرام والے کو اِس میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے  ٭ آج کل بعض لوگ سرِ عام لوگوں کے سامنے نیکر  ( ہاف پینٹ)  پہنے پھرتے ہیں جس سے ان کے گُھٹنے اور رانیں نظر آتی ہیں یہ حرام ہے،  ایسوں کے کُھلے گُھٹنوں اور رانوں کی طرف نظر کرنا بھی حرام ہے ۔ بالخصوص کھیل کود کے میدان ،  ورزِش کرنے کے مقامات اور ساحلِ سمندر پر اِس طرح کے مناظر زیادہ ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ایسے مقامات پر جانے میں سخت احتیاط ضَروری ہی ٭  تکبُّر کے طور پر جو لباس ہو وہ ممنو ع  ہے۔ تکبُّر ہے یا نہیں اِس کی شَناخت یوں کرے کہ ان کپڑوں کے پہننے سے پہلے اپنی جو حالت پاتا تھا اگر پہننے کے بعد بھی وُہی حالت ہے تو معلوم ہوا کہ ان کپڑوں سے  تکبُّر پیدا نہیں ہوا۔ اگر وہ حالت اب باقی نہیں رہی تو تکبُّر آگیا۔ لہٰذا ایسے کپڑے سے بچے کہ  تکبُّر بَہُت بُری صِفَت ہے۔       (رَدُّالْمُحتارج ۹ ص ۵۷۹، بہارِ شریعت ج۳ص۴۰۹)

 



[1]     ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے لیے جس نے مجھے یہ کپڑاپہنایا اور میری طاقت وقوت کے بغیر مجھے عطا کیا ۔

Index