ہماری مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِسیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو جس در سے ایثار کاجذبہ ملا ، اُس کے بھی کیا کہنے ! یعنی میرے پیارے پیارے آقا مکی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی یہ شان تھی کہ عالَمِ شِیرخواری (یعنی دودھ پینے کی عمر) میں بھی عدل وانصاف فرماتے تھے جیساکہ رِوایات میں آتا ہے کہ سیِّدَتُناحلیمہ سعدیّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی اپنی او لا د بھی چُونکہ دودھ میں شریک ہوتی تھی لہٰذا سلطانِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خواہ کتنی ہی بھوک ہوتی صرف ایک ہی طرف سے دُودھ نوشِ جان فرماتے (یعنی پیتے) تھے۔ (اَلْمَواہِبُ اللَّدُنِّیَّۃ ج۱ص۷۹مُلَخَّصا) اِسی ایمان افروزادائے مصطَفٰے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت ، عاشقِ ماہِ رسالت ، امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان اپنے نعتیہ دیوان، حدائقِ بخشش شریف میں فرماتے ہیں : ؎
بھائیوں کیلئے ترکِ پِستاں کریں
دودھ پیتوں کی نِصفَت ([1]) پہ لاکھوں سلام
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے ہمارے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضوان اپنے اندرکس قدر ایثارکاجذبہ رکھتے تھے! اپنی پسندیدہ چیز راہِ خدامیں دے دینا واقِعی بَہُت بڑے اجروثواب کاکام ہے ۔قراٰنِ کریم کے چوتھے پارے کی ابتدا میں ربُّ العباد عَزَّ وَ جَلَّ کامبارک ارشادہے:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ (پ ۴، اٰل عمران آیت۹۲)
ترجَمۂ کنزالایمان: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔
خزائنُ الْعِرفان میں اِس آیتِ مبارَکہ کے تَحت صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیلکھتے ہیں : (حضرتِ سیِّدُنا ) حَسَن (بصر ی ) عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکا قول ہے : جو مال مسلمان کومحبوب (یعنی پیارا) ہو اوراُسے رِضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّکیلئے خرچ کرے وہ اِس آیت میں داخِل ہے خواہ ایک کھجور ہی ہو۔ (تفسیرِ خازِن ج۱ص۲۷۲ )
امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمربن عبدُالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشکر کی بوریاں خر ید کر صَدَقہ کرتے تھے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی گئی : اس کی قیمت ہی کیوں نہیں صَدَقہ کر دیتے؟ فرمایا: شکر مجھے محبوب ومرغوب (یعنی پیاری اور پسندیدہ) ہے اور میں چاہتا ہو ں کہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں اپنی پیاری چیز خرچ کروں ۔ ( تفسیرِنسفی ص۱۷۲ ) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُناابوطلحہ انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں تمام انصار سے زیادہ باغوں والے تھے ۔ انہیں اپنے مال میں ’’ بَیْرُحا ‘‘ (نا می با غ ) سب سے زیادہ پیار ا تھاجو کہ مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے سامنے تھا۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہاں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کا بہترین پانی پیتے تھے ۔جب چوتھے پارے کی ابتدائی آیتِ کریمہ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ (ترجَمۂ کنزالایمان: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو) نازِل ہوئی تو اُنہوں نے بارگاہِ رسالت میں کھڑے ہوکر عرض کی : مجھے اپنے اَموال میں ’’ بَیْرُحا ‘‘ سب سے پیارا ہے میں اس کو راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں صَدَقہ کرتاہوں۔میں اللہعَزَّ وَ جَلَّ کے پاس اِس کا ثواب اور اس کا ذخیرہ چاہتاہوں ۔ یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ اسے وہاں خرچ فرمائیں جہاں رب تعالٰی آپ کی رائے قائم فرمائے۔رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ بَخْ ذٰلِکَ مالٌ رَّابِحٌ ‘‘ یعنی ’’ خوب ! یہ بڑا نفع کا مال ہے، ‘‘ جو تم نے کہا میں نے سُن لیا، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے اہلِ قرابت میں وَقف کر دو۔ سیِّدُنا ابو طلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بولے: یارسولَ اللّٰہ ! میں یِہی کرتا ہوں ۔پھر سیِّدُنا ابوطَلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ (صَحیح بُخاریج۱ ص ۴۹۳ حدیث ۱ ۶ ۴ ۱) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم