کھاؤں کھاؤں ‘‘ کرتے کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑیں کہ ’’ کھانا اور چبانا ‘‘ بھول کر ’’ نگلنا اور پیٹ میں لڑھکانا ‘‘ شروع کر دیں کہ کہیں ایسانہ ہوکہ ہمارا دوسرا اسلامی بھائی تو کھانے میں کا میا ب ہو جائے اور ہم رہ جائیں ! ہماری حرص کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ ہم سے بن پڑے تو شاید دوسرے کے منہ سے نوالہ (نِ۔والہ) بھی چھین کرنگل جائیں ! ۔ کاش! ہم بھی ’’ ایثار ‘‘ کرنا سیکھیں ۔ سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ بخشِش نشان ہے: ’’ جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُس خواہش کو روک کر اپنے اوپر (دوسرے کو) ترجیح دے، تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بخش دیتا ہے۔ ‘‘ (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج۹ ص ۷۷۹)
ہمیں بھوکا رہنے کا اَوروں کی خاطر
عطا کر دے جذبہ عطا یا الٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایثار کا ثواب مُفت لوٹنے کے نُسخے
کاش! ہمیں بھی ایثارکاجذبہ نصیب ہو، اگر خَرچ کرنے کو جی نہیں چاہتاتوبِغیر خَرچ کے بھی ایثارکے کئی مَواقِع مل سکتے ہیں ۔ مَثَلاً کہیں دعوت پر پہنچے ، سب کیلئے کھانا لگایا گیاتو ہم عمدہ بوٹیاں وغیرہ اس نیّت سے نہ اُٹھائیں کہ ہمارا دوسرا بھائی اُس کو کھالے ۔ گرمی ہے کمرے کے اندر یا سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے میں مسجِد کے اندرکئی اسلامی بھائی سوناچاہتے ہیں ، خود پنکھے کے نیچے قبضہ جمانے کے بجائے دوسرے اسلامی بھائی کو موقع دیکر ایثار کا ثواب کما سکتے ہیں ۔اسی طرح بس یا ریل گاڑی کے اندربھیڑکی صورت میں دوسرے اسلامی بھائی کو بَاِصرار اپنینِشَسْت پر بٹھا کر اورخود کھڑے رہ کر ، کار میں سفر کا موقع مُیَسَّر ہونے کے باوُ جود دوسرے اسلامی بھائی کیلئے قربانی دیکر اُسے کار میں بٹھا کر اور خود پیدل یا بس وغیرہ میں سفر کر کے ، سنّتوں بھرے اجتِماع وغیرہ میں آرام دِہ جگہ مل جائے تو دوسرے اسلامی بھائی پر جگہ کُشادہ کر کے یا اُسے وہ جگہ پیش کر کے، کھاناکم ہو اورکھانے والے زیادہ ہوں تو خود کم کھاکر یا بالکل نہ کھا کر نیز اسی طرح کے بے شمار مَواقِع پر اپنے نفس کو تھوڑی سی تکلیف دیکر مُفت میں ایثارکاثواب کمایا جاسکتاہے ۔
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی ’’ اِحیاءُالعُلُوم ‘‘ میں نَقْل کرتے ہیں : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُناموسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمایا: اے موسیٰ (علیہ السّلام) ! کوئی شخص ایسا نہیں کہ وہ عمر بھر میں چاہے ایک ہی مرتبہ ایثار کرے اور میں _ بروزِ قِیامت اُس سے حِساب طلب کرتے ہوئے حیا نہ فرمائوں ! اُس کا مقام جنت ہے، وہ جہاں بھی چاہے رہے۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ ص۳۱۸ )
جب جنت کی دُعا دیتا ہوں تو مالی ایثار سے کیوں رُکوں !
حضرتِ سُفْیان بن عُیَیْنہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا کہ سخاوت کسے کہتے ہیں ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: بھائیوں سے بھلائی کا سلوک کرنا اور مال عطا کرنا سخا و ت ہے۔ مزیدفرمایا: میرے والِدِ ماجِدعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الواحِد کو وِراثت میں پچاس ہزار درہم ملے تو اُنہوں نے تھیلیاں بھر بھر کر اپنے بھائیوں کو تقسیم کردیئے اور فرمایا کہ میں جب نَماز میں اللہ تَعَالٰی سے اپنے بھائیوں کے لئے (سب سے عظیم دولت) جنت کا سُوال کیا کرتا تھا تواب (دنیائے فانی کے حقیر) مال میں ان سے بُخل کیوں کروں ؟ (اِحیاءُالْعُلوم ج۳ ص ۵ ۰ ۳ ) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
سخاوت کی خصلت عنایت ہو یا رب!
دے جذبہ بھی ایثار کا یا الٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کسی صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بطورِہَدِیّہ (ہَ۔دِی۔یَہ یعنی تُحفہ) ایک صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر بکری کی سری بھیجی تو اُنہوں نے یہ فرما کر کہ فُلاں میرا اسلامی بھائی اِس سری کا مجھ سے زیادہ ضَرورت مَند ہے ، وہ سری اُس کے گھر بھیج دی تو اُنہوں نے کہا کہ فُلاں مجھ سے بھی زیادہ حاجت مند ہے اور یوں وہ سری اُس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر بھجوا دی ۔ اِس طرح ایک نے دوسرے کے گھر اور دوسرے نے تیسرے کے گھر اُس سری کو بھیجا یہاں تک کہ وہ بکری کی سری سات گھر وں میں گھومتی ہوئی پھر سے پہلے ہی صَحابی کے پاس پَہُنچ گئی۔ (اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۳ ص ۲۲۹ حدیث۳۸۵۲) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
قطبِ مدینہ نے ایثار کرنے والے تاجر کی حکایت بیان فرمائی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ؟ غربت و اِفلاس کے باوُجود ہمارے صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوان کے اندر کس قَدَر جذبۂ ایثار تھا کہ ہر ایک اپنے آپ پر دوسرے کو ترجیح دیتا تھا اورآہ! آج حالات بالکل بَرعکس (یعنی الٹ) ہیں ، اکثر لوگ اپنے ہی بھائی کا گلا کاٹنے میں مَصْرُوف ہیں ۔ میرے پیرومرشِدسیِّدی قطبِ مدینہ حضرتِ مولانا ضیاء الدین علیہ رحمۃُ اللّٰہ المبین تُرکوں کے ’’ دَورِ خدمت ‘‘ سے مدینۂ مُنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں سُکُونَتْ پذیر ہوگئے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا وِصال شریف ۳ذُوا لحِجۃِ الحرام۱۴۰۱سِنِ ہِجر ی