مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان ’’ مِراٰۃُ المناجِیح ‘‘ جلد 3 صَفْحَہ 125پر فرماتے ہیں : ’’ بَیْرُحا ‘‘ نام کے، محد ثین نے آٹھ معنیٰ کئے ہیں : جن میں ایک یہ کہ ’’ حاء ‘‘ ایک آدمی کا نام تھا جس نے یہ کُنواں کُھدوایا تھا ، چُونکہ یہ کُنواں اس باغ میں تھا ، لہٰذا باغ کا نام بھی یِہی ہوا ، وہ کُنواں اب تک موجود ہے فقیر نے اُس کا پانی پیا ہے ۔ مزید آگے چل کر فرماتے ہیں : حضور کو بھی یہاں کا پانی بَہُت محبوب تھا ، اِسی لئے حُجّاج با خبر ضرور اس کا پانی بَرَکت کیلئے پیتے ہیں ۔ ( آج کل ’’ بَیْرُحا ‘‘ کی زیارت نہیں ہو سکتی، نہ ہی اُس کا پانی پِیا جا سکتا ہے کیوں کہ وہ مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلامکی توسیع میں شامل ہو چکا ہے۔ ہاں جانکار (یعنی معلومات رکھنے والے لوگ) مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلام میں اُس مخصوص مقام کی زیارت کروا سکتے ہیں جہاں ’’ بَیْرُحا ‘‘ تھا) مفتی صاحِب صَفْحَہ 126پر حدیثِ پاک کے اِس حصّے ’’ خوب ! یہ تو بڑا نَفع کا مال ہے ‘‘ کے تَحت فرماتے ہیں : یعنی اے ابوطلحہ! تمہیں اس باغ کے وَقف کرنے میں بَہُت نَفع ہو گا، معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اعمال کی قَبولیَّت کی بھی خبر ہے اور یہ بھی کہ کس کا کونسا عمل کس درجے کا قَبول ہے (اور) یہ باغ کیوں قَبول نہ ہوتا ! باغ بھی اچّھا تھا، وَقف کرنے و الے بھی اچّھے یعنی صَحابی اور جن کے طفیل وَقف کیا گیا وہ اچّھوں کے شَہَنشاہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔
سارے اچھوں میں اچھا سمجھیے جسے
ہے اُس اچھے سے اچھا ہمارا نبی (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’ تفسیرِخازِن ‘‘ میں چوتھے پارے کی پہلی آیت
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ (پ ۴، اٰل عمران، آیت۹۲)
ترجَمۂ کنزالایمان: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔
کے تحت ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا زید بن حارِثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاِس آیتِ مبارَکہ کے نُزُول پر اپنا عُمدہ ونفیس گھوڑ ا دربارِمصطَفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں لائے عَرض کی: یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ’’ صَدَقہ ‘‘ ہے۔ میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ گھوڑا اُن ہی کے فرزند سیِّدُنا اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو عطا فرما دیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا زَیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میری نیّت صَدَقے کی تھی ۔ فرمایا: ’’ ربعَزَّوَجَلَّنے تمہارا صَدَقہ قَبول فرمالیا۔ ‘‘ (تفسیرِ خازِن ج ۱ص۲۷۲) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
فاروقِ اعظم کو کنیز پسند آئی تو آزاد کر دی
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرتِ سیِّدُنا ابوموسیٰ اَشْعَریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لکھا کہ میرے لیے ایک کنیز خرید کر بھجوا دیجئے۔ اُنہوں نے بھیج دی، وہ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بَہُت پسند آئی ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ آیتِ کریمہ لَنْ تَنَالُوا ۔۔۔ (آخر تک) پڑھ کر اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں آزاد فرما دیا ۔ (تفسیر طَبَری ج۳ص۳۴۶رقم ۷۳۹۰) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کاش! ہمارے اندر بھی ایسا جذبۂ ایثار وقربانی پیدا ہو جائے کہ ہم بھی اپنی پیاری چیزیں راہِ خداعَزَّوَجَلَّ میں لٹادیاکریں ، افسوس ! ہم تو اچھّی اور عمدہ اَشیاکو جان کی طرح سنبھال کر رکھتے ہیں اوراگر راہ ِخداعَزَّوَجَلَّمیں دینا یاکسی کو تحفہ پیش کرنا ہو توعموماً ردّی قسم کی چیزیں ہی دیتے ہیں اور وہ بھی وہی جو کہ ہمارے لئے کارآمد نہیں ہوتیں ! کس قدر محرومی کی بات ہے کہ جس اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں نعمتیں عطافرمائی ہیں اُسی کی عطاکردہ نعمتیں اُسی کی راہ میں دینے کیلئے ہم تیّار نہیں ہوتے۔ہماری چیزیں خواہ چوری ہوجائیں ، سٹر جائیں ، اِدھر اُدھر گم ہوجائیں پرواہ نہیں ، آہ! ہمارا دل نہیں ہوتا تو راہِ خدا عَزَّ وَ جَلَّ میں دینے کو نہیں ہوتا۔
دے جذبہ تو ایسا ترے نام پر دوں
پسندیدہ چیزیں لُٹا یا الٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اَبُوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عُمدہ اونٹ
اپنی پیاری چیز راہِ ِخدا عَزَّوَجَلَّ میں دینے کا ایک اورایمان اَفروز واقِعہ پڑھیے اور جھومیے۔مشہور صَحابی حضرتِ سیِّدُناابوذَرغِفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کی ایک قریبی بستی میں رہا کرتے تھے ۔ گزربسر کیلئے آپ کے پاس چند اُونٹ تھے اور ایک کمزور سا چرواہا۔ایک بارخاندانِ بنو سُلَیم کے ایک صاحِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حاضِرِ خدمت ہوکر عرض گزار ہوئے کہ حُضُور! مجھے اپنی صحبت میں رہنے کی اجازت مَرحَمت فر ما ئیے، فیض بھی حاصل کروں گا اورآپ جناب کے چرواہے کا ساتھ بھی دے دیا کروں گا۔ سیِّدُناابوذَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ساتھ رہنے کی شرط (گویا ’’ مَدَنی فیس ‘‘ ) یہ ارشاد فرمائی کہ آپ کو میری اطاعت (یعنی فرماں برداری) کرنی ہوگی۔عرض کی : کس بات میں ؟ فرمایا: ’’ جب میں اپنے مال میں سے کوئی چیز راہ ِخدا عَزَّوَجَلَّ میں دینے کا کہوں تو سب سے بہترین شے دینی ہوگی۔ ‘‘ اُنہوں نے منظور کرلیا اور صحبتِ بابرکت سے فیضیاب ہونے لگے ۔ ایک دن کسی نے سیِّدُنا