میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! ہمارے اَسلاف نیکیوں کے کتنے حریص ہوتے تھے کہ مَرَض الموت میں بھی ثواب کمانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا یہ حضرات نیکی کمانے میں بسا اوقات تو اس قدر جلدی فرماتے کہ حیرت ہوتی ہے چنانچِہ میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان ’’ فتاوٰی رضویہ ‘‘ جلد 10صَفْحَہ 84پر فرماتے ہیں : سیِّدُنا و َاِبنِ سیِّدُنا، امام اِبنُ الامامِ، کریم اِبنُ الکِرام حضرتِ امام محمد باقِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک قَبائے نفیس (یعنی عمدہ اَچکن۔ شیروانی) بنوائی ۔ طہارت خانے میں تشریف لے گئے ، وہاں خیال آیا کہ اسے راہِ خدا میں دیجئے فوراً خادِم کو آواز دی ، قریبِ دیوار حاضِر ہوا۔حُضور نے قبائے مُعَلّٰی (اَچکن مبارک ) اُتار کر دی کہ فُلاں محتاج کو دے آ۔ جب باہَر رونق افروز ہوئے، خادِم نے عرض کی: اس دَرَجہ تعجیل (یعنی اس قدر جلدی) کی وجہ کیا تھی ؟ فرمایا : کیا معلوم تھا کہ باہَر آتے آتے نیّتمیں فرق آ جاتا ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! ہمارے بُزُرگانِ دین رَحمَہُمُ اللہُ الْمُبِیننیکی میں کس قدر جلدی کرتے تھے مَبادا ( یعنی ایسا نہ ہو کہ) قَلب مُنقَلِب ہو جائے ( یعنی دل کا ارادہ بدل جائے) اور نیکی سے محرومی کا سامنا ہو۔ لہٰذا جب بھی نیکی کا ذِہن بنے فوراً کر لینی چاہئے۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: ’’ نیک اعمال میں جلدی کرو۔ ‘‘ (سُنَنِ اِبن ماجہج۲ ص ۵حدیث ۱۰۸۱)
رُقعَہ پڑھے بِغیر درخواست منظور کر لی
افسوس! اکثر لوگ اوّل تو راہِ خدا میں دیتے نہیں ، دیتے ہیں تو بَہُت سوچ سمجھ کر ، خوب تحقیق کرکے ، دَھکّے کھلا کر، رُلا رُلا کر، بے دلی کے ساتھ اور وہ بھی زکوٰۃ جو کہ مال کا میل ہے اور وہ بھی بَہُت ہی تھوڑی مِقدار میں بَہُت بڑا احسان رکھ کر دیتے ہیں ! جبکہ دیکھا جائے تو زکوٰۃ دینے والے کو سوچنا چاہئے کہ محسن میں نہیں ، احسان تو اُس کا ہے جو میری زکوٰۃ یعنی میرے مال کا مَیل اُٹھاتا ہے۔ کاش! ایسا ہو جائے کہ غریبوں کو تلاش کر کے ، ان کی خدمت میں حاضِر ہو کر نہایت احترام کے ساتھ زکوٰۃ پیش کرنے کی سعادت حاصِل کی جائے۔ ایسوں کی ترغیب کے لئے چار حکایت پیشِ خدمت ہیں :
{1} دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 404 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ ضیائے صَدَقات ‘‘ صَفْحَہ209تا210پر ہے : ایک شخص نے حضرت سیِّدُناامام حَسَن مجتبی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں ایک درخواست پیش کی ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فوراًفرمایا: ’’ تمہاری حاجت پوری کردی گئی ‘‘ عرض کی گئی: اے نواسۂ رسول ! آپ اس کا رُقعہ (رُق۔عہ) پڑھتے اور پھر اس کے مطابِق جواب دیتے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: وہ (اُتنی دیر تک) میرے سامنے ذلّت کے ساتھ کھڑا رہتا تو پھر اس کے بارے میں اللّٰہ تعالٰی مجھ سے پوچھتا ۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ص۳۰۴) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
دل دولت سے نہیں بھلائی سے خریدا جا سکتا ہے
سُبحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! راکِبِ دوشِ مصطَفٰے ، سیِّدالْاَ سخِیاسیِّدُناامام حسن مجتَبیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خشیتِ الٰہی کو اپنے مال پر مقدَّم رکھا اور اسی میں فلاح وکامیابی ہے کہ مال کی مَحَبَّتاللّٰہ کی مَحَبَّت پر غالب نہیں آنی چاہئے۔بے شک مال سے بَہُت کچھ خریدا جا سکتا ہے مگر دل نہیں خرید سکتے! چنانچِہ {2} حضرت سیِّدُنا ابنِ سمّاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے اُس شخص پرتَعجُّب ہوتا ہے جو مال خَرچ کرکے غلام تو خریدتا ہے لیکن نیکی (و بھلا ئی ) کے ذَرِیعے آزاد لوگوں (کے دلوں ) کو نہیں خریدتا۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ص۳۰۴) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
سخی وہ نہیں جو صرف مانگنے پر دے
{3} حضرتسیِّدُناامام زین العابدینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : جو شخص مانگنے والوں کو (مانگنے پر) دیتا ہے وہ سخی نہیں ، سخی تووہ ہے کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اِطاعت کرنے والوں کے سلسلے میں اللہ تَعَالٰیکے حقوق کو خود بخود پورا کرتا ہے اور شکریہ کا لالچ بھی نہیں رکھتا کیونکہ وہ مکمَّل ثواب کے حُصول کا یقین رکھتا ہے۔ (ایضاً) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
دوست کی خبر گیری نہ کرنے پر افسوس
{4} ایک شخص نے اپنے دوست کے گھر کادروازہ کھٹکھٹایا۔اس نے پوچھا : کیسے آنا ہوا؟ کہا: مجھ پر چار سو درہم قرض ہیں ۔صاحِبِ خانہ نے چار سو دِرہَم اُس کے حوالے کردئیے اور روتا ہوا واپَس آیا، بیوی نے کہا : اگر آپ کوان درہموں کا دینا شاق (یعنی دشوار و ناگوار) تھا تو نہ دیتے۔ اُس نے کہا: میں تو اِس لئے رو رہا ہوں کہ مجھے اُس کا حال اُس کے بتائے بِغیر معلوم نہ ہوسکا حتّٰی کہ وہ (بے چارہ) میرا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوا۔ (اِحیاءُ العُلُوم ج۳ص۳۱۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا ، کمال یہ نہیں کہ ضرورت مند دوست مانگنے آئے اور ہم اُس کو د ے دیں ، کمال تو یہ ہے اُس کی مالی کمزوریوں پر ہماری نظر ہو اور اِس سے پہلے کہ وہ شرماتا لجاتا ہم سے اپنا حال کہے ہم اُس کی خود جا کر اِمداد کردیں ۔ ؎
ہمیں اپنے فضل و کرم سے تُو کر دے
سخاوت کی نعمت عطا یا الٰہی