مدینے کی مچھلی

مدینۂ مُنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً   میں ہوااور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمتِ بابَرَکت میں کسی نے عرض کی:  حُضور! جب آپ شروع میں مدینۂ مُنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً   آئے اُس وقت کے مسلمان کیسے تھے؟ فرمایا:  ایک بندۂ مالدار کثیر مقدار میں مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً   کے غربا میں کپڑے تقسیم کرنا چاہتا تھا لہٰذا اِس غرض سے ایک کپڑے کے دوکاندار سے اس نے کہا کہ مجھے فُلاں کپڑے کے اِتنے اِتنے تھا ن درکار ہیں ،  دوکاندار نے کہا: ’’  آپ کا مطلوبہ کپڑا میرے پاس موجود ہے مگر مہربانی فرما کر آ پ سامنے والی دوکان سے خرید لیجئے ،  کیونکہ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ میری بِکری اچّھی ہو چکی ہے مگر اُس بے چارے کا دھند ا آ ج  کم ہوا ہے۔ ‘‘  فرمایا:  کہ پہلے کے مسلمان ایسے مُجَسّمِ اِخلاص وایثار تھے اور آج کے مسلمانوں کو تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ان کی اکثر یت کس طرح مال سمیٹنے اورایک دوسرے کا گلا کاٹنے میں مشغول ہے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

نِرالے ڈاکو

            کہا جاتا ہے کہ پہلے کے راہِ مدینہ کے قَطّاعُ الطَّریق یعنی ڈاکو بھی عجیب ہوا کرتے تھے،  جب ڈاکوؤں کی جماعت حاجیوں کاقافِلہ لوٹنے لگتی تو حاجی اُن کو سلام کرتے،  ڈاکو سلام کا جواب نہ دیتے،  اگر وہ سلام کے جواب میں  وَعَلَیکُمُ السَّلام  کہہ دیتے تو اُن کو لوٹنے سے باز رہتے اور اگرلُوٹنے کے بعد سلام کا جواب دیدیتے تو لُوٹا ہوا مال لَوٹا دیتے۔ کیوں کہ ڈاکو السَّلامُ علیکم  (یعنی تم پر سلامتی ہو)  اور وَعَلَیکُمُ السَّلام  کا معنیٰ  ( اور تم پر بھی سلامتی ہو)  خوب سمجھتے تھے یعنی اُ ن کا ذِہن یہ ہوتا تھا کہ جس کواپنی زَبان سے  ’’  سلامتی کی دعا ‘‘  دیدی اب اُس کو کیسے لُوٹیں !

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یہاں ہرگز یہ مُراد نہیں کہ سلام کا جواب نہ دینے سے  ڈاکوئوں کیلئے_ ڈکیتی جائز ہو جاتی تھی،  بس ہمیں اس سے یہ درس حاصِل کرنا ہے کہ ہم جس کو سلام کریں اُس کے بارے میں یہ تصوُّر کریں کہ ہم نے اُسے اپنی ذات سے پہنچنے والے ہر قسم کے شر سے  ’’  سلامت ‘‘  قرار دیدیا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو واقِعی ہمارا مُعاشَرہ مَدَنی مُعاشَرہ بن جائے۔ مسلمان کو سلام کرتے وقت کی نیّت بھی ذہن نشین فرما لیجئے۔چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ، ’’ 101مَدَنی پھول ‘‘ صَفْحَہ2پر ہے: بہارِ شریعت حصّہ 16 صَفحہ 102پر لکھے ہوئے جُزیئے کا خُلاصہ ہے: ’’  سلام کرتے وَقت دل میں یہ نیّت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اِس کا مال اور عزّت و آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں ان میں سے کسی چیز میں دَخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں۔ ‘‘  (بہارِ شریعت حصہ ۱۶ ص ۱۰۲)

اے مدینے کے تاجدار سلام                                        اے غریبوں کے غمگسار سلام

اُس جوابِ سلام کے صدقے                                       تاقِیامت ہوں بے شمار سلام

وہ سلامت رہا قِیامت میں

پڑھ لئے جس نے دل سے چار سلام

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اپنا کھانا کتّے پر ایثار کر دیا!

            حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی اِحیاءُ العُلُومجلد 3میں فرماتے ہیں :  منقول ہے،  حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفرعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکبر  اپنی کسی زمین کو دیکھنے نکلے اور اَثنائے راہ (یعنی راستے میں )  کسی باغ میں اُترے،  وہاں ایک غلام کو کام کرتے دیکھا،  جب اُس کے پاس کھانا آیا تو کہیں سے ایک کُتّا بھی آ پہنچا،  غلام نے ایک ایک کرکے تین روٹیاں اُس کے آگے ڈالیں ،  وہ کھا گیا۔ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفرعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکبر نے غلام سے پوچھا :  آپ کودن میں کتنا کھانا ملتا ہے؟ عرض کی:  وُہی جو آپ نے دیکھا۔ پوچھا :  وہ سب تو آپ نے کتّے پر ایثار کر دیا!  عرض کی:  اِس عَلاقے میں کتّے نہیں ہوتے،  یہ کہیں دُور سے آ نکلا ہے،  غریب بھوکا تھا،  مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ میں سیر ہو کر کھائوں اور یہ بے چارہ بے زَبان جانور بھوکا رہے۔ فرمایا:  آپ آج کیا کھائیں گے؟  عرض کی :  فاقہ کروں گا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن جعفرعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکبر  اُس غلام کے ایثار سے بے حدمُتَأَثِّر ہوئے ،  چُنانچِہ باغ کے مالِک سے وہ باغ ،  غلام اور بقیّہ سامان وغیرہ خرید لیا،  غلام کو آزاد کر کے وہ باغ وغیرہ سب کچھ اُسی کو بخش دیا۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ص۳۱۸)

کتّے کے ایثار کی عجیب حکایت

            سبحٰنَ اللّٰہ ! خوش نصیب غلام کا ایثار صد کروڑ مرحبا!  اس کے ایثار کا دنیا میں بھی کس قدر عمدہ صِلہ مِلا کہ دم زَدَن میں آزاد ہو کر باغ کا مالِک بن گیا۔ خیر یہ تو انسان تھا،  ایک کتّے کے ایثار کی عجیب حکایت ملاحَظہ فرمایئے چُنانچِہ بعض صُوفیائے کرا م رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں :  ہم ’’ طَرَسُوس ‘‘  سے جہاد کیلئے روانہ ہوئے ،  شہر سے ایک کتّا بھی پیچھے ہو لیا۔ جب شہر کے دروازے سے باہَر نکلے تو وہاں ایک مرا ہوا جانور پڑا تھا،  ہم ایک بلند جگہ پر بیٹھ گئے ،  وہ کُتّا شہر کی طرف چلا گیا ،  کچھ دیر بعد واپَس آیا تو اکیلا نہیں تھا ،  اُس کے ساتھ تقریباً 20کتّے مزید تھے،  آتے ہی سارے مُردار پرجَھپٹ پڑے مگر وہ کتّا دُور ہٹ کر بیٹھ گیا اور دیکھتا رہا۔ جب وہ کھا چکے تو چلے گئے !  یہ کتّا اٹھا اور بچی کھچی ہڈّیاں نوچنے اور کھانے لگا،  پھر وہ بھی واپَس چلا گیا۔ (ایضاً ص ۳۱۹)

دم توڑتے وَقت بھی ایثار!

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  کتّے کی ایثار کی حِکایت میں ہمارے لئے عبرت کے بے شمار مَدَنی پھول ہیں ،  گویا کتّا ہمیں نیکی کی دعوت دیتے ہوئے زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ میں تو

Index