ابوذَرغِفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: حضور ! یہاں ندی کے کَنارے کچھ غُرَبا آباد ہیں ہوسکے تو ان کی کوئی امداد فرمادیجئے ۔سُلَیمی صاحِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں : آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے حکم دیا : ’’ ایک اونٹ لے آئیے۔ ‘‘ میں گیا اورسب سے عمدہ اُونٹ لے جانے کا ارادہ کیا مگر میرے ذِہن میں آیا کہ یہ اُونٹ سیِّدُناابوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سُواری کیلئے کارآمد بھی ہے اورمُطیع (یعنی فرماں بردار ) بھی ۔ مقصود توصِرف گوشت تقسیم کرنا ہے لہٰذا اس کے بدلے اس کے بعد کے درجے کی بہترین اُونٹنی پیش کردی۔ فرمایا: ’’ آپ نے خِیانت کی۔ ‘‘ میں سمجھ گیا اوراُسی اُونٹ کو حاضِر کر دیا۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حکم فرمایا کہ ندی کے کَنارے جتنے گھر آباد ہیں سب کی گنتی فرمالیجئے اورمیرا گھر بھی اُس میں شامل کرلیجئے، پھر اُونٹ کو نَحر کر کے سب کے گھروں میں برابر برابر گوشت پہنچادیجئے ، میرے گھر میں بھی دوسروں کے مقابلے میں کوئی بوٹی زائد نہ جانے پائے اس کا خیال رکھئے ۔ حُکم کی تعمیل کردی گئی ۔ بعدِ فراغت مجھے طلب کر کے فرمایا: کیا آپ وعدہ بھول گئے تھے ؟ میں نے عرض کی: مجھے وعدہ یا د تھا اوراوّل لیا بھی اُسی اونٹ کو تھا مگر مجھے خیال ہوا کہ یہ اُونٹ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی سُواری کا ہے اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے بَہُت کارآمد بھی ، محض آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ضرورت کے پیشِ نظر اس کو چھوڑا تھا ۔ فرمایا: واقِعی صِرف میری ضرورت کے پیش نظر چھوڑدیا تھا؟ عَرض کی: جی ہاں ۔ فرمایا: اپنی ضرورت کا دن نہ بتادوں ؟ سُن لو ! میری ضرورت کا دن تو وہ دن ہے جس دن میں قَبْر کے گڑھے میں تنہا ڈال دیا جائوں گا، باقی رہا مال، تو اس کے تین حصّے دار ہیں : (۱) ’’ تقدیر ‘‘ جو مال لے جانے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتی (۲) ’’ وارِث ‘‘ جو تیرے مرنے کا منتظررہتاہے کہ کب تُو مرے اوروہ تیرے مال پر قبضہ کرلے (۳) تیسرا حصّے دار تُو خود ہے (جب تقدیر اوروارث مال لینے کے مُعامَلے میں کوئی رِعایت نہیں کرتے تَو تُواپنا حصّہ لینے میں کیوں پیچھے رہتاہے؟ جتنا بن پڑے عمدہ سے عمدہ ترین مال راہِ خداعَزَّوَجَلَّمیں دے کر اپنی آخِرت کیلئے جمع کر لے ) یہ فرما کرآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چوتھے پارے کی ابتِدائی آیتِ کریمہ تلاوت کی :
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ (پ ۴، اٰل عمران، آیت۹۲)
ترجَمۂ کنزالایمان: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔
اورفرمایا کہ اِسی لیے جو مال مجھے سب سے زیادہ پسند ہوتاہے اس کو را ہِ خداعَزَّوَجَلَّمیں خَرچ کر کے اپنی آخِرت کیلئے ذخیرہ کرتاہوں ۔ (تفسیردُرّ مَنثور ج۲ ص۲۶۱)
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
کاش ! ہمیں بھی سیِّدُناابوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جذبۂ ایثار کے سمندر کا کوئی آدھا قطرہ ہی نصیب ہو جاتا ! افسوس صدکروڑ افسوس! اپنی پسند کی چیز راہِ خدا عَزَّوَ جَلَّ میں خرچ کرنا تو گویا ہماری ڈِکشنر ی میں ہے ہی نہیں ! بس ہر دم مالِ مفت کی طلب میں ہی دل پھنسا رہتا ہے ، بالخصوص جو زیادہ ثواب کاکام ہو اُس میں خَرچ کرنے کیلئے نَفس قطعاً اجازت نہیں دیتا مَثَلاً قراٰنِ کریم یا دینی کتاب وغیرہ خرید کر پڑھنا اگر چِہ زیادہ ثواب کا باعث ہے مگر جی چاہتا ہے کہ چندے سے یا تحفے میں مل جائے تو اچّھا ، سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں میں پلّے سے خَرچ کرنے کا بے اندازہ ثواب ہے مگر ہمارے نفسِ ستم گر کا بُرا ہو یہ بدبخت یہی ذہن بناتا رہتا ہے کہ کوئی دوسرا خرچ اُٹھائے تو ہی سفر کرنا ، بلکہ جو دن قافِلے میں سفر کے اندر گزریں ان کی اُجرت بھی ملنی چاہئے ۔ہائے! ہائے! اِس حرص و آز بھرے انداز کے ساتھ ربِّ بے نیاز جَلَّ جَلالُہٗ کو کس طرح راضی کیا جا سکے گا ۔
سَروردیں ! لیجے اپنے ناتوانوں کی خبر
نفس و شیطاں سیِّدا! کب تک دباتے جائیں گے (حدائقِ بخشش شریف)
مال سے تین طرح کے فوائد ملتے ہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سنو! سنو! اے مال کے متوالوسنو! خاتَمُ الْمُر سَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالیشان ہے : بندہ کہتاہے : میرا مال ہے ! میرا مال ہے! اوراسے تو اس کے مال سے تین ہی طرح کا فائدہ ہے : (۱) جو کھا کر فنا کردیا یا (۲) پہن کر پُراناکردیا یا (۳) عطاکر کے آخِرت کیلئے جمع کیا اوراس کے سِوا جانے والا ہے کہ اَوروں کیلئے چھوڑجائے گا۔ (صَحیح مُسلِم ص ۱۵۸۲ حدیث ۲۹۵۹)
محبوبِ ربِّ کائنات، شَہَنْشاہ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کون شخص ایساہے کہ جس کو اپنے وارِث کا مال اپنے مال سے اچھّا لگے ؟ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضواننے عرض کی : یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ایسا کون ہوسکتاہے جس کو اپنے مال سے دوسرے کا مال عزیز ہو ؟ اِس پر سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : اپنا مال وہی ہے جو (راہ خدا میں خرچ کرکے) آگے بھیج دیا جائے اور جوباقی چھوڑ دیا جائے وہ وارِث کا مال ہے۔ (بُخاری ج ۴ ص۲۳۰ حدیث ۶۴۴۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کا ش! کوئی اپنی زندگی ہی میں مال سے مسجد وغیرہ بنوا کر ثوابِ جاریہ کی ترکیب بنانے میں کامیاب ہو جائے! رہی اولاد ، تو ان سے اگر کوئی مالدار آدمی یہ امّیدرکھتا ہو کہ یہ ثوابِ جاریہ کی ترکیب کریں گے تو اس کی شاید بَہُت بڑی بھول ہے، آج کل ترکے کی تقسیم میں جو اولاد خونریزی تک سے باز نہیں رہتی وہ خاک اپنے مرحوم باپ کو راحت پہنچانے کا سامان کرے گی! ایثار کا ذِہن بنایئے یہی آخِرت میں کام آئے گا۔ذرا دیکھئے تو سہی! ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِینثواب کی حرص میں ایثار کے مُعامَلے میں کس قَدَر آگے بڑھے ہوئے تھے چُنانچِہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی ’’ اِحْیاءُ الْعُلُوم ‘‘ میں نَقل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنابِشر بن حارِث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مَرَض الموت میں مُبتَلا تھے، کسی نے آ کر سُوال کیا: آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی قمیص اُتار کر اُسے دیدی، اپنے لئے اُدھار کپڑا حاصِل کیا اور اُسی میں اِنتِقال فرمایا۔ ( اِحیاءُ الْعُلُوم ج۳ ص ۳۱۹) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم