صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’ خزائنُ الْعرفان ‘‘ میں ہے : بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں ایک بار ایک بھوکاشخص حاضِر ہوا ، سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تمام اُمَّہاتُ المؤ مِنین رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُنَّ کے گھروں میں معلوم کر وایا کہ کوئی کھانے کی چیز مل جائے مگر کسی کے یہاں کوئی کھانے کی چیز نہ تھی ۔ شاہِ خیر الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوانسے فرمایا: ’’ جو شخص اس کومہمان بنائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس پر رَحمت فرمائے ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکھڑے ہوگئے اور مہمان کو اپنے دولت خانے پر لے گئے ، گھر جاکر اپنے بچّوں کی اَمّی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے دریافت کیا : گھر میں کچھ کھانا ہے؟ اُنہوں نے کہا : صِرف بچّوں کیلئے تھوڑا سا رکھاہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : بچّوں کو بہلا پُھسلا کر سُلادو۔اورجب مِہمان کھانے بیٹھے تو چَراغ دُرُست کرنے کے بہانے اُٹھو اور چَراغ بجھا دو، تاکہ مہمان اچھّی طرح کھا لے۔یہ ترکیب اس لیے کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اس کے ساتھ نہیں کھارہے ورنہ اِصرار کریگا اورکھانا تھوڑا ہے ، اِس لیے مِہمان بھوکا رہ جائے گا۔ اس طرح حضرتِ سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مہمان کو کھانا کِھلادیا اورخود اہلِ خانہ نے بُھوکے رہ کر رات گزار دی ۔ جب صبح ہوئی اوربارگاہِ نُبوّت میں حاضِر ہوئے۔ تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرتِ ابو طَلْحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دیکھ کر فرمایا: رات فُلاں فُلاں کے گھر میں عجیب مُعامَلہ پیش آیا۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ان لوگوں سے بَہُت راضی ہے اور سُورۂ حَشْر کی یہ آیت نازِل ہوئی:
وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ (۹) (پ۲۸ الحشر، آیت۹)
ترجَمۂ کنزالایمان: اوراپنی جانوں پر ان کو تَرجیح دیتے ہیں اگرچِہ انہیں شدید محتاجی ہو اورجواپنے نَفْس کے لالچ سے بچایا گیا تو وُہی کامیاب ہیں ۔ (خزائنُ العرفان ص۹۸۴ بِتَصَرُّفٍ )
اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
آقا دوسرے دن کے لئے کھانا نہ بچاتے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس مَدَنی حکایت پر غور کرنے سے عِبرت کے بَہُت سارے مَدَنی پھول مُیَسّرآتے ہیں۔ مَثَلاًشَہَنشاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس قدرسادَگی کے عالَم میں زندَگی گزار رہے تھے کہ کسی بھی اُمُّ المؤمِنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر سے رات کو کھانا برآمد نہ ہوا۔ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تَوکُّل کا عالَم یہ تھا کہ آپ دوسرے دن کیلئے کھانا بچا کر نہیں رکھتے تھے ۔اُمُّ المؤمنین سیِّدتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’ ہم نے کبھی بھی مسلسل تین دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایاحالانکہ کھاسکتے تھے مگر (کھانے کے بجائے) ایثار کردیا کرتے تھے۔ ‘‘ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۴ص۹۲ حدیث۸۶)
بچّے کے روزے کا اَہم ترین مسئَلہ
بیان کردہ مدنی حکایت میں بچوں کیلئے رکھا ہوا تھوڑا سا کھانابچوں کے بجائے مہمان کو کھلا دینے کے تعلُّق سے مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّا مہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں : علماءِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِیننے اس مُعامَلے کو اس پرمَحمول کیا (یعنی اس سے مراد یہ ) ہے کہ بچّے بھوکے نہیں تھے بلکہ بِغیر بھوک کے مانگ رہے تھے جیسا کہ بچّوں کی عادت ہوتی ہے، ورنہ اگر وہ بھوکے ہوتے تو مہمان سے پہلے بھوکے بچّوں کو کھلانا واجِب تھا اور وہ واجب کو کیسے ترک کر سکتے تھے۔ (کیوں کہ واجِب کا تارِک گنہگار ہوتا ہے) حالانکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ابوطَلْحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ان کی زوجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی تعریف فرمائی ہے ۔ (اشعۃُ اللّمعات ج۴ص۷۴۰) اس شرحِ حدیث سے معلوم ہواکہ بچوں کو بھوک لگنے کی صورت میں انہیں کھاناکِھلاناماں باپ پر واجِب ہوجاتا ہے ۔یہاں ایک مسئلہ قابلِ توجُّہ ہے اوروہ یہ کہ چھوٹے بچّے کو رَمَضانُ المبارَکمیں روزہ رکھوانا اگرچِہ جائز ہے مگروہ بھوک کے سبب کھانا مانگے تو ماں باپ کیلئے ان کو کھلانا واجِب ہوجائے گا چاہے وہ اُس کی زندَگی کا پہلا روزہ ہو اگربِلااجازتِ شَرعی نہیں کھلائیں گے توگنہگاراور جہنَّم کے حقدارہوجائیں گے۔
ہو مہمان نوازی کا جذبہ عنایت
ہو پاسِ شریعت عطا یا الٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اُحُدپہاڑجتنا سونا ہوتب بھی۔۔۔۔
حضرتِ سیِّدُناابوہُر یرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ، سرکارِعالَم مدار ، سَخیوں کے سردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ سَخاوت آثار ہے: ’’ اگر میرے پاس اُحُد (پہاڑ) کے برابر سونا ہوتو بھی مجھے یِہی پسند آتا ہے کہ تین راتیں نہ گزرنے پائیں کہ ان میں سے میرے پاس کچھ رہ جائے، ہاں اگر مجھ پر دَین (یعنی قرض) ہوتو اس کیلئے کچھ رکھ لوں گا۔ ‘‘ (صَحیح بُخاری ج۴ص۴۸۳ حدیث۷۲۲۸ )
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحبَّت کا دم بھرنے والواورسنّتوں کے ڈنکے بجانے والو! دیکھا آپ نے ؟ ہمارے پیارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُحُدپہاڑکے برابر بھی سونا ہوتو اُس کو اپنے پاس رکھنے کیلئے تیّار نہیں ، اورایک ہم ہیں کہ عشقِ رسول کے دعوے کے باوُجُود مال جمع کرنے کی فِکر سے ہی خَلاصی ( یعنی چھٹکارا) نہیں پاتے۔ افسوس! حلال اورحرام کی تمیزتک اُٹھتی جارہی ہے ۔