آقا کا مہینا

          بابُ المدینہ ( کراچی ) کے عَلاقے ’’بڑابورڈ‘‘ کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ پہلے پہل میں مُعاشرے (مُ۔   عا۔   شَرے)  کا بگڑا ہوانوجوان تھا ، روزانہ  پابندی کے ساتھ خوب فلمیں ڈرامے دیکھنے کے سبب مَحَلَّے میں ’’فلموں کا خوار‘‘ کے نام سے مشہور ہوگیاتھا۔    میری توبہ کا سبب یہ بنا کہ ایک اسلامی بھائی کی ’’انفرادی کوشش ‘‘ کے نتیجے میں  ’’ کَھجّی گراؤنڈ‘‘ (گلبہار۔   بابُ المدینہ)  میں تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،   دعوتِ اسلامی کی طرف سے ہونے والے شبِ براء ت  (برا۔   ئَ۔   ت)  کے سنتوں بھرے اجتماعِ پاک میں شرکت کی سعادت حاصِل ہو گئی، وہاں پر میں نے ’’ قبر کی پہلی رات‘‘  کے موضوع پر رُلادینے والا بیان سنا ،   خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ سے دل بے چین ہوگیا ،  میں نے پچھلے گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔    ہمارا سارا گھرانا ماڈَرن تھا،   اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میری اِنفرادی کوشش سے میرے پانچ بھائی بھیدعوتِ اسلامی والے بن گئے اورسب نے سروں پر عمامہ شریف کا تاج سجا لیا اور گھر کے اندر مَدَنی ماحول بن گیا،  تادمِ تحریر حلقہ مُشاوَرت کے خادِم کی حیثیت سے سنتوں کی خدمت کررہا ہوں ۔    مجھے سنتوں کی تربیت کے مَدَنی قافلوں میں سفر کا کافی شوق ہے،  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہر ماہ پابندی سے تین دن عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلے میں سفر کرتا ہوں ۔   

یقینا مُقَدَّر کا وہ ہے سکندر  جسے خیرسے مل گیا مَدنی ماحول

یہاں سنتیں سیکھنے کو ملیں گی          دِلائے گا خوفِ خدا مَدنی ماحول

اے بیمارِ عِصیاں تُو آجا یہاں پر

گناہوں کی دے گا دوا مَدنی ماحول (وسائلِ بخشش (مُرَمَّم)  ص ۶۴۷۔   ۶۴۸)     

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنت کی فضیلت اور چند سنتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔    تاجدارِ رسالت،  شَہَنشاہِ نُبُوَّت،  مصطَفٰے جانِ رَحمت، شَمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بز م جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنت نشان ہے:  جس نے میری سنت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ  جنت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔    (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳)

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا

جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’شعبانُ المعظم ‘‘  کے گیارہ حُرُوف کی نسبت سے قبرِستان کی حاضِری کے 11 مَدَنی پھول

{1} نبیِّ کریم ،  رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظیم ہے:  میں نے تم کو زیارتِ قُبُور سے منع کیا تھا،  اب تم قبروں کی زیارت کرو کہ وہ دُنیا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخِرت کی یاد دلاتی ہے۔       (سُنَنِ اِبن ماجہ ج۲ص۲۵۲حدیث۱۵۷۱)

 {2}  (ولیُّ اللہ کے مزار شریف یا) کسی بھی مسلمان کی قَبْر کی زیارت کو جانا چاہے تو مُستَحَب یہ ہے کہ پہلے اپنے مکان پر  (غیرِ مکروہ وقت میں)  دو رَکْعَت نَفْل پڑھے،  ہر رَکْعَت میں سُوْرَۃُ  الْفَاتِحَہکے بعد ایک بار اٰیَۃُ الْکُرْسِی  اور تین بار سُوْرَۃُ  الْاِخْلَاص  پڑھے اور اس نَماز کا ثواب صاحبِ قَبْرکو پہنچائے، اللہ تَعَالٰی اُس فوت شدہ بندے کی  قَبْر میں نور پیدا کرے گا اور اِس (ثوا ب پہنچانے والے)  شخص کو بَہُت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔    (فتاوٰی عالمگیری ج۵ص۳۵۰)

 

Index