آقا کا مہینا

{3}مزارشریف یا  قَبْر کی زیارت کیلئے جاتے ہوئے راستے میں فضول باتوں میں مشغول نہ ہو۔   (اَیضاً)

{4}قبرستان میں اُس عام راستے سے جائے، جہاں ماضی میں کبھی بھی مسلمانوں کی قبریں نہ تھیں ،  جوراستہ نیابناہواہو اُس پرنہ چلے۔     ’’رَدُّالْمُحتار‘‘ میں ہے:   (قبرستان میں قبریں پاٹ کر)  جونیاراستہ نکالا گیاہو اُس پرچلنا حرام ہے ۔    (رَدُّالْمُحتار ج ۱ ص ۶۱۲ )  بلکہ نئے راستے کا صِرف گمانِ غالب ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔     (دُرِّمُختار ج ۳ ص ۱۸۳)

{5}کئی مزاراتِ اولیاء پر زائرین کی سہولت کی خاطر مسلمانوں کی قبریں مسمار کر کے (یعنی توڑ پھوڑ کر )  فرش بنادیا گیا ہے، ایسے فرش پر لیٹنا،  چلنا ،  کھڑا ہونا ،  تِلاوت اور ذِکرو اَذکار کیلئے بیٹھناوغیرہ حرام ہے، دُور ہی سے فاتِحہ پڑھ لیجئے ۔   

{6} زیارتِ قبر میِّت کے مُوَاجَہَہ میں  (یعنی چہرے کے سامنے)   کھڑے ہو کر ہو اور اس ( یعنی  قبر والے)  کی پائنتی ( پا۔   اِن۔   تِی یعنی قدموں )  کی طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ کے سامنے ہو،  سرہانے سے نہ آئے کہ اُسے سر اُٹھا کر دیکھنا پڑے۔    (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۹ص۵۳۲)

 {7}قبرستان میں ا ِس طرح کھڑے ہوں کہ قبلے کی طرف پیٹھ اورقبر والوں کے چِہروں کی طرف منہ ہو اس کے بعد کہئے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَ ثَرِ۔   ترجمہ: اےقَبْر والو!    تم پر سلام ہو، اللہ عَزَّ وَجَلّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے،  تم ہم سے پہلے آگئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ۔    (فتاوٰی عا لمگیریج ۵ ص ۳۵۰)

{8}جو قبرستان میں داخِل ہو کر یہ کہے اَللّٰہُمَّ رَبَّ الاْجْسَادِ الْبَالِیَۃِ وَالْعِظَامِ النَّخِرَۃِ الَّتِیْ خَرَجَتْ مِنَ الدُّنْیَا وَہِیَ بِکَ مُؤْمِنَۃٌ اَدْخِلْ عَلَیْہَا رَوْحًا مِّنْ عِنْدِکَ وَسَلاَمًا مِّنِّیْ۔    ترجمہ:  اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!    (اے) گل جانے والے جسموں اور بوسیدہ ہڈیوں کے رب!   جو دنیا سے ایمان کی حالت میں رخصت ہوئے تو ان پر اپنی رحمت اور میرا سلام پہنچا دے۔     توحضرتِ سیِّدُنا آدم (عَلَیْہِ السَّلَام)  سے لے کر اس وقت تک جتنے مومن فوت ہوئے سب اُس  (یعنی دُعا پڑھنے والے)  کے لیے دعائے مغفِرت کریں گے۔    (مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہج۱۰ ص۱۵)

{9}شفیع مجرمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ شفاعت نشان ہے:  جو شخص قبرستان میں داخل ہوا پھر اُس نے سُوْرَۃُ  الْفَاتِحَۃ،  سُوْرَۃُ  الْاِخْلَاص اور سُوْرَۃُ  التُّکَاثُر پڑھی پھر یہ دُعا مانگی:  یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ!    میں نے جو کچھ قراٰن پڑھا اُس کا ثواب اِس قبرستان کے مومن مرد وں اور مومن عورَتوں کو پہنچا ۔    تو وہ تمام مومن قیامت کے روز اس ( یعنی ایصالِ ثواب کرنے والے )   کے سفارشی ہوں گے۔     (شَرْحُ الصُّدُور،  ص ۳۱۱) حدیثِ پاک میں ہے :  جو گیارہ بار سُوْرَۃُ  الْاِخْلَاص  پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو پہنچائے ،  تو مردوں کی گِنتی کے برابر اسے (یعنی ایصالِ ثواب کرنے والے کو)  ثواب ملے گا۔    (دُرِّمُختار، ج۳ ص ۱۸۳)

{10} قَبْر کے اوپر اگر بتی نہ جلائی جائے اس میں سوئے ادب ( یعنی بے ادبی)  اور بد فالی ہے ہاں اگر (حاضرین کو) خوشبو  (پہنچانے)  کے لیے (لگانا چاہیں تو)  قَبْر کے پاس خالی جگہ ہو وہاں لگائیں کہ خوشبو پہنچانا محبوب  (یعنی پسندیدہ)  ہے۔      (مُلَخَّصاً فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۹ ص۴۸۲،  ۵۲۵ ) اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک اور جگہ فرماتے ہیں :  ’’صحیح مسلم شریف‘‘

میں حضرت عَمْرْوبِن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ،  انھوں نے دمِ مرگ  (یعنی بوقت ِوفات)  اپنے فرزند سے فرمایا:  ’’جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ کرنے والی جائے نہ آگ جائے ۔   ‘‘ ( مُسلِم ص۷۵حدیث۱۹۲)

{11} قَبْرپر چَراغ یا موم بتّی وغیرہ نہ رکھے ہاں رات میں راہ چلنے والوں کے لیے روشنی مقصود ہو،  تو قَبْر کے ایک جانب خالی زمین پر موم بتّی یاچَراغ رکھ سکتے ہیں ۔   

 

Index