خاموش شہزادہ

آدمی اپنی گفتگو بلکہ روز مرّہ کے جملہ مُعامَلات کا مُحاسَبہ کر سکتا ہے۔   یوں گناہ،    بے اِحتیاطیاں ،   اپنی بَہُت ساری کمزوریاں اور خامیاں سامنے آ سکتیں اور اِصلاح کا سامان ہو سکتا ہے۔   دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں محاسبے کو فکرِ مدینہ کہتے ہیں اور دعوتِ اسلامی میں روزانہ کم ازکم 12مِنَٹ فکرِ مدینہ کرنے اور اِس دوران مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پُر کر نے کا ذِہْن دیا جاتا ہے۔  

ذِکر و دُرُود ہر گھڑی وِردِ زَباں رہے

میری فُضُول گوئی کی عادت نکال دو  (وسائلِ بخشِش ص۱۶۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عُمَر بن عبدالعزیز پھوٹ پھوٹ کر روئے

           حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدُاللّٰہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ایک عالِم صا حِب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے کہنے لگے :  ’’ خاموش عالِم‘‘  بھی بولنے والے عالم ہی کی طرح ہوتا ہے۔ فرمایا:  میں سمجھتا ہوں کہ بولنے والاقِیامت کے دن چُپ رہنے والے عالِم سے افضل ہو گا اِس لئے کہ بولنے والے کا نَفْع لوگوں کو پہنچتاہے جبکہ چُپ رہنے والے کوصِرف ذاتی فائدہ ملتا ہے۔  وہ عالم صاحِب بولے:  ’’ یَاامیرَالْمُؤمِنِین !   کیا آپ بولنے کے فتنوں سے ناواقِف ہیں ؟  ‘‘   حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدُالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سن کر شدید (یعنی پھوٹ پھوٹ کر)  روئے۔  (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۳۴۵رقم۶۴۸)  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

حِکایت کی وَضاحت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہمارے بُزُرگوں کی احتیاطیں اور جذبۂ خوفِ خدا مرحبا!  البتَّہ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ مُحتاط عُلمائے دین کا وعظ و نصیحت فرمانا ،    شَرعی اَحکام بتانا،    مُبلِّغین کا سنّتوں بھرا بیان کرنا،    نیکی کی دعوت دینا ،   خاموشی کے مقابلے میں افضل ترین عمل ہے۔  مگر اُن عالم صاحِب کا سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں بطورِ تَنبِیہ یہ عَرْض کرنا کہ ’’ کیا آپ بولنے کے فتنوں سے ناواقِف ہیں ؟  ‘‘  اپنی جگہ دُرُست تھا اور امیرُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خوفِ خدا سے زارو قِطار رونا بھی اُن عالِمِ رَبّانی کے اِس فِقرے کی تہ تک پہنچنے کی وجہ سے تھا۔   واقِعی اچّھا بولنا اگر چِہ مخلوق کیلئے نَفْعْ بخش ہے لیکن خود بولنے والے کے لئے اِس میں کئی فَسادات کے خطرات بھی موجود ہیں مَثَلاً اگر اچّھامُبلِغ ہے تو اپنی فَصاحت وبَلاغت اور گفتگو کی رَوانی پر دوسروں کی طرف سے ملنے والی داد وتَحسین کے سبب یا صِرْف اپنی صَلاحِیّت پر گَھمَنڈ کے باعِث یا اپنے آپ کو     ’’ کچھ‘‘  سمجھنے اور دوسروں کو حقیر جاننے یا صِرْف نفسانیَّت کی وجہ سے دوسروں پر دھاک بٹھانے اور اپنی واہ واہ کروانے کی خاطر خوب مُحاوَرات و عُمدہ فِقرات وغیرہ کی ترکیبیں کرتے رہنے نیز اِس کیلئے اَدَق یعنی مشکل یا خوبصورت الفاظ بولنے وغیرہ وغیرہ کے فتنوں میں پڑ سکتا ہے۔   اگر عَرَبی بول چال پر عُبور ہُوا تو بات و بیانات میں اپنی عَرَبی دانی کا سکہ جمانے کی خاطر خوب عَرَبی مَقُولوں وغیرہ کے استِعمال کے فتنے میں مبتَلاہو سکتا ہے،    اِسی طرح جس کی آواز اچّھی ہو وہ بھی خطروں میں گِھرا رہتا ہے ،    چُونکہ لوگ اکثر ایسوں کی تعریف کرتے ہیں جس پر  ’’  پُھول‘‘   کر اُس کے مَغرور ہوجانے،    اچّھی آواز کو عَطِیَّۂ خداوندی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عَطا)  سمجھنے کے بجائے اپناکمال سمجھ بیٹھنے وغیرہ غلطیوں کا خَدشہ رہتا ہے۔   تو اُن عالمِ ربّانی کی ’’ بولنے ‘‘ کیمُتَعلِّق تَنبِیہ بجا ہے اور واقِعی جومبلِّغ مذکورہ مَذمُوم صِفات رکھتا ہو اُس کا بولنا اُس کے اپنے حق میں بَہُت بڑا فِتنہ اور بربادیٔ آخِرت کا سامان ہے اگر چِہ مخلوق کو اُس سے نَفْع پہنچتا ہو۔  

بات کو فُضُولیات سے پاک کرنے کا بہترین نسخہ

          اپنی گفتگو میں کمی لانے کے جو واقِعی خواہش مند ہیں اُن کیلئے اپنی بات کی تنقیح   (یعنی چھان بِین) کرنے اور اپنی گفتگو کو بے جا یا ضرورت سے زائد لفظوں اور مختلف خامیوں سے پاک کرنے نیز نقصان دِہ بلکہ فُضُولیات کی آمیزِش سے بچانے کیلئے ’’  اِحیاء العلوم‘‘  سے ایک بہترین نسخہ پیش کیا

Index