خاموش شہزادہ

کہ بِالکل جوابی کاروائی نہ کرے،   صِرف خاموشی ہی اختیارکرے گھر کے کسی فرد حتّٰی کہ اپنے بیٹے کو بھی شکایت نہ کرے۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کہاوت: ’’ ایک چُپ سو سکھ‘‘  کے مطابق سکھ چین پائے گی۔   جی ہاں اگرصحیح معنوں میں سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہُ  کے اس ’’ مَدَنی نسخے  ‘‘ پر عمل کیا گیا تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ جلد ہی ساس بہو کی لڑائی ختم ہوجائے گی اور گھر اَمن کا گہوارہ بن جائے گا۔ ساس بہو کے جھگڑوں کے علاج کیلئے حکمت بھرے مَدَنی پھولوں پر مشتمل V.C.D. ’’  گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے!  ‘‘   مکتبۃُ المدینہ سے حاصِل کیجئے یا دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ :  WWW.DAWATEISLAMI.NET پر مُلاحظہ فرمایئے۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس v.c.d.کی برکت سے کئی گھر امن کا گہوارہ بن چکے ہیں !

ہے دبدبہ خاموشی میں ہیبت بھی ہے  پِنہاں

      اے بھائی!  زَباں پر تو لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

زَبان کی خدمت میں درخواست

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جب زَبان سیدھی رہے گی اور اس سے اچّھی اچّھی باتوں کا سلسلہ ہوگا تو اس کا فائدہ سارا ہی جسم اٹھائے گا اوراگر یہ ٹیڑھی چلی مَثَلاًکسی کو جِھڑکا ،   گالی دی ،   کسی کی بے عزّتی کردی،   غیبت وچغلی کی ،   جھوٹ بولا تو بسا اوقات دنیا میں بھی جسم کی پِٹائی ہوجاتی ہے۔ ہمارے میٹھے میٹھے پیارے پیارے اور سب سے اچّھے اورخوش اَخلاق  آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ باصَفاہے:  ’’جب انسان صُبح کرتا ہے تو اُس کے اَعْضاجُھک کرزَبان سے کہتے ہیں :  ہمارے بارے میں اللہ  (عَزَّوَجَلَّ) سے ڈر کیونکہ ہم تجھ سے وابَستہ ہیں اگرتُو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اوراگرتُوٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔ ‘‘   (سُنَنِ تِرمِذیج۴ ص۱۸۳حدیث ۲۴۱۵)  

یارب نہ ضَرورت کے سوا کچھ کبھی بولوں !

 اللہ  زَباں  کا  ہو  عطا  قُفلِ  مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 اچّھی بات کرنے کی فضیلت

          تاجدارِرسالت ،  مالِکِ کوثروجنَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنَّت نشان ہے:  جنَّت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا باہَر اندرسے اور اندر باہَر سے دیکھا جاتاہے۔  ایک اَعرابی نے اُٹھ کرعَرْض کی:  یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ کس کے لیے ہیں ؟  آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا:  یہ اُس کے لیے ہیں جو اچّھی گفتگو کرے ،   کھانا کھلائے،  مُتَواتِرروزے رکھے ،  اور رات کو اُٹھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نماز پڑھے جب  لوگ سوئے ہوئے ہوں ۔    (سُنَنِ تِرمِذیج۴ ص۲۳۷ حدیث۲۵۳۵)

آقا طویل خاموشی والے تھے

             کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَوِیلَ الصَّمْت۔  یعنیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَطویل خاموشی والے تھے۔  (شرحُ السُّنَّۃ لِلبَغوی ج۷ ص۴۵ حدیث ۳۵۸۹ )  مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّاناِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : خاموشی سے مراد ہے دنیاوی کلام سے خاموشی ورنہ حُضُورِ اقدس (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان)  کی زَبان شریف اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ) کے ذِکر میں تر رہتی تھی،   لوگوں سے بِلاضَرورت کلام نہیں فرماتے تھے۔  یہ ذِکر ہے جائز کلام کا،   ناجائز کلام تو عمر بھر زَبان شریف پر آیا ہی نہیں ۔   جھوٹ ،   غیبت،   چغلی وغیرہ ساری عمر شریف میں ایک بار بھی زبان مبارک پر نہ آئے۔  حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)  سراپا حق ہیں پھر آپ تک باطِل کی رسائی کیسے ہو۔   (مِراٰۃُالمناجیح ج۸ص۸۱)

بولنے اور چُپ رہنے کی دو قِسمیں

       فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: اِمْلاَء ُ الْخَیْرِخَیْرٌ مِّنَ السُّکُوْتِ وَالسُّکُوْتُ خَیْرٌ مِّنْ اِمْلَائِ الشَّرِّ یعنی اچّھی بات کہنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموش رہنا بُری بات کہنے سے بہتر ہے۔  (شُعَبُ الْاِیمان ج۴ ص۲۵۶ حدیث۴۹۹۳) حضرتِ سیِّدُنا علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی

Index