بھی تعلُّق نہیں ہوتا پھر بھی اُس کیمُتَعَلِّق بے جا سُوالات کرتے ہی رہتے ہیں ۔ مَثَلاً٭ یہ کتنے میں لیا؟ وہ کِتنے میں مِلا؟ فُلاں جگہ پلاٹ کا کیا بھاؤچل رہا ہے؟ ٭کسی کے مکان میں گئے یا کسی نے نیا مکان لیا تو سُوال ہوتا ہے : کتنے کا لیا؟ کتنے کمرے ہیں ؟ کِرایہ کتنا ہے ؟ مکان مالک کیسا ہے ؟ (یہ سُوال اکثر مَعاذَاللّٰہ غیبت و تہمت کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جاتا ہے کیونکہ اس کا جواب عموماً بِلااجازتِ شَرْعی کچھ اس طرح گناہوں بھرا ملتا ہے: ہمارا مکان مالک بَہُت سخت مزاج / بے رحم / ٹیڑھا / کھوچڑا / خردماغ / وائڑا / کنجوس ہے) وغیرہ وغیرہ ٭اِسی طرح جب کوئی نئی دکان ، کار ، یا اسکوٹر وغیرہ خریدے توبلاوجہ خریدنے والے سے اس کا بھاؤ، پائیداری ، نقد، ادھار، قسطوں وغیرہ سے متعلِّق سُوالات کئے جاتے ہیں ٭بے چارہ مریض جس سے بولا تک نہیں جاتا ہے اُس سے بھی بعض عِیادت کرنے والے نادان انسان جیسے ’’ ڈاکٹروں کے بھی ڈاکٹر ‘‘ ہوں یوں پورا پوراحِساب لیتے اور سب تفصیلات معلوم کرتے ہیں یہاں تک کہ ایکسرے اور لیبارٹری کی کارکردَگی بھی وُصول کرتے ہیں اور اگر آپریشن ہوا ہو تو بِلا وجہ سُوالات کے ذَرِیعے ٹانکوں کی تعدادتک پوچھ لیتے ہیں ، حتّٰی کہ’’ شرم کی جگہ ‘‘ کا مسئلہ ہو تب بھی بعض بے شَرْم اُس کا تفصیلی اِحتِساب کرتے ہوئے نہیں شرماتے۔ اِس طرح کی فُضُولیات میں عورَتیں بھی مردوں سے کسی طرح پیچھے نہیں رہتیں ٭گرمی یا سردی کے موسِم میں اِس کی کمی زیادَتی کے موقع پر بِلا حاجت باتیں ہوتی ہیں مَثَلاً گرمی کے موسِم میں بعض ابوالفضول ’’ اُف! اُف‘‘ کرتے ہوئے کہیں گے: ایک تو آج کل سخت گرمی ہے اوراُوپر سے بجلی بھی بار بار چلی جاتی ہے ٭اسی طرح سردیوں میں اداکاری کے ساتھ دانت بجاتے ہوئے کہیں گے: آج تو بَہُت کڑاکے کی سردی ہی٭ اگر بارِش کا موسِم ہے تو بِلاضَرورت اس پربھی تبصرہ (تَب۔ صِ۔ رَہ) کیاجاتاہے مَثَلاًآج کل توبارِشیں بَہُت ہورہی ہیں ، ہر طرف پانی کھڑا ہوگیا ہے ، اِنتِظامیہ کیچڑ صاف کروانے کا کوئی خیال نہیں کرتی وغیرہ وغیرہ٭ اِسی طرح ملکی اورسیاسی حالات پر بِلانیّتِ اِصلاح بے جا تبصرے ، مختلف سیاسی پارٹیوں پر بِلا وجہ تنقیدیں ٭ کسی شہر یا ملک کا سفر کِیا ہے تو وہاں کے پہاڑوں اور سبزہ زاروں کی غیر ضَروری منظر کشی ، مکانوں اور سڑکوں کی تفصیلات کا بِلاضَرورت بیان وغیرہ وغیرہ یہ سب فُضول گوئی نہیں تو اورکیا ہے؟ البتّہ یہ یاد رہے کہ مذکورہ بالا اُمور کے بارے میں اگر ہم کسی کو باتیں کرتا ہوا پائیں تو اپنے آپ کو بدگُمانی سے بچائیں کیونکہ بعض اوقات ظاہِری دُ نیوی باتیں بھی اچّھی نیّت کے باعث کارِ ثواب ہو جاتی ہیں یا کم ازکم فُضُولیات میں نہیں رہتیں ۔
فُضُول گو کا جھوٹے مُبالَغے کے گناہ سے بچنا دشوار ہو تا ہے
یہ ذِہن میں رہے کہ فضول بولناگناہ نہیں مگر فُضُول گوئی صرف اُس وقت ہے جبکہ بِلا کم و کاسْتْ اور صحیح صحیح بیان کرے، اگر جھوٹے مُبالَغے کئے تو گناہوں کی کھائی میں جا گرا! تشویش کی بات یہ ہے کہ اِس طرح کی گفتگو کو ناپ تول کر دُرُست بیان کرنا کہ ’’ فُضُول گوئی‘‘ کی حد سے آگے نہ بڑھے یہ بَہُت مشکل اَمْرہوتاہے، اکثر جھوٹے مُبالَغے ہوہی جاتے ہیں ، فُضُول گو بار ہا غیبتوں ، تہمتوں ، عیب دریوں اور دل آزاریوں وغیرہ کے دَلدَل میں بھی جا پڑتا ہے۔ لہٰذا عافیَّت چُپ رہنے ہی میں ہے کہ ایک چُپ سو سُکھ۔
کاش! بولنے سے قبل ذرا ٹھہر کر تولنے کی سعادت مل جائے
واقِعی اگر کوئی انسان بولنے سے قبل ’’تولنے‘‘ یعنی غور کرنے کی عادت ڈالے تو اُسے اپنی بے شمار فُضُول باتیں خودہی محسوس ہونی شُروع ہوجائیں ! صِرْف’’ فُضُول باتیں ‘‘ ہوں تو اگر چِہ گناہ نہیں مگر کئی طرح کے نقصانات ان میں موجود ہیں مَثَلاً ان باتوں میں زَبان چلانے کی زَحْمت ہوتی اور قیمتی وَقْت برباد ہوتا ہے اگر اُتنی دیر ذِکرُ اللّٰہیا دینی مُطالَعَہ کر لیا جائے ، یا کوئی سنَّت بیان کر دی جائے تو ثواب کا اَنبار (اَمْ۔ بار) لگ جائے۔
اِسی طرح معاذَاللّٰہ کہیں دہشت گردی کی وارِدات ہو گئی تو بس لوگوں کو فُضُول بلکہ بعض صورَتوں میں گناہوں بھری بحث کیلئے ایک موضوع ہی ہاتھ آ گیا! ہر جگہ اُسی کا تذکِرہ ، بے سَروپا قِیاس آرائیاں ، بے تُکے تبصرے ، اٹکل سے کسی بھی پارٹی یا لیڈر وغیرہ پر تہمت لگا دینا وغیرہ ۔ اکثر یہ گفتگو ’’ فضول ‘‘ ہی نہیں ، لوگوں میں خوف و ہِراس پھیلنے کا باعِث ، اَفواہیں گرم ہونے کا سبب اور ہنگامے برپا ہونے کی ’’ وجہ‘‘